تازہ ترین
outline

”میں اس پارٹی سے ہوں جس نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اڈے خالی کروائے“

ایک خاتون سیاسی رہنما جو امریکہ میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے چکی ہیں،انہوں نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا تعلق اس پارٹی سے ہے جس نے امریکہ سے پاکستانی اڈے خالی کروائے اور چھ ماہ تک بات چیت بند رکھی

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان جو نہ صرف وفاقی وزیراطلاعات رہیں بلکہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے چکی ہیں،ان سے نیو نیوز کی اینکر بینش سلیم نے سوال کیا کہ موجودہ حکومت کی گوررنس پر تنقید کی جا سکتی ہے،کاکردگی پر تنقید کی جا سکتی ہے مگر کیا وہ کھلے دل سے اس بات کی تعریف کریں گی کہ مبارکباد دیں گے کی جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کو پاکستان میں ایئر بیسز دینے سے منع کیا؟ اور جس طرح وزیراعظم نے سی آئی اے چیف سے ملنے سے انکار کیا،آپ تو ان معاملات کو سمجھتی ہیں؟

اس پر شیری رحمان نے جواب دیا کہ مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے امریکہ کو اڈے دینے سے منع کیا ہے یا نہیں۔جب یہ پارلیمان کی کسی کمیٹی یا فورم میں واضح کریں گے تو حقیقت معلوم ہوگی۔ہمیں تو سنی سنائی اور خفیہ ملاقاتوں کا علم باہر کے اخباروں سے ہوا ہے۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے،میں قطعاً مبارکباد نہیں دوں گی۔میں اس پارٹی میں ہوں جس نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر پاکستان میں امریکہ کے زیر استعمال ایئر بیس بند کروائے اور پارلیمنٹ کے ذریعے یہ سب کیا۔

شیری رحمان صاحبہ نے یہ بھی کہا کہ ہماری حکومت نے چھ مہینے تک امریکہ سے بات چیت بند رکھی مگر یہاں تو اُلٹی گنگا بہہ رہی ہے۔وہ آتے ہیں یہاں کسی کو پتہ نہیں ہوتا،خفیہ ملاقاتیں ہو جاتی ہیں۔وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔فوج اور آئی ایس آئی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اعتماد میں لے،یہ حکومت کا کام ہے۔