outline
outline

کالم ،بلاگ ،تصاویر یا ویڈیوز بھجوانے کا طریقہ کار

’’آؤٹ لائن‘‘ نئے اور پرانے لکھنے والوں کو یکساں طور پر خوش آمدید کہتا ہے۔اگر آپ قلم کاروں کی صف میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو یہ موقع فراہم کر سکتے ہیں۔کوئی بھی تحریر بھیجنے سے پہلے چند امو ر پیش نظر رکھیں:
لکھنے والوں میں نمایاں ہونے کے لیئے ضروری ہے کہ آپ کسی حوالے سے منفرد ہوں۔مثال کے طور پر آپ کا اسلوب یا انداز تحریر جداگانہ ہو۔آپ جو معلومات ،جو دلائل ،جو حقائق،جو اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں وہ قابل قدر ہوں یعنی مواد کے اعتبار سے آپ کی تحریر زرخیز ہو۔
تحریر جتنی مختصر ہو اتنی ہی جلدی اثر کرتی ہے،اس لیئے غیر ضروری طوالت سے گریز کریں۔
اگر آپ کالم لکھ رہے ہیں تو 1000سے1200الفاظ سے تجاوز نہ کریں اور اگر بلاگ قلمبند کر رہے ہیں تو 400سے600الفاظ تک محدود رہیں۔
کسی کی تائید یا تنقید کا حق آپ محفوظ رکھتے ہیں لیکن دونوں صورتوں میں شائستگی اور تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائےآپ کی سیاسی ،علاقائی،مذہبی،مسلکی وابستگیاں بھی ہوں گی مگر اچھے قلم کار کی حیثیت سے خواہش کو خبر کا رنگ نہ دیں اور اپنی وابستگی کو تجزیئے پر حاوی نہ ہونے دیں۔
تحریر ان پیج یا یونی کوڈ میں لکھ کر ارسال کی جا سکتی ہے۔
کالم یا بلاگ کے علاوہ آپ ہمیں ویڈیوز اور تصاویر بھی بھیج سکتے ہیں جو آپ کے کریڈٹ کے ساتھ لگائی جائیں گی۔
اپنی معروضات ان ای میل آئی ڈیز پر بھجوائیں
editor@outline.com.pk
کسی بھی شکایت کی صورت میں براہ راست چیف ایڈیٹر سے رابطہ کرنے کے لیئے اس ای میل پر رجوع کریں
bilal.ghauri@outline.com.pk

5 تبصرے

  1. زیادہ کچھ کہنے کی جرا ت اور جرم نہیں کر ینگے بس دعا ہے اللہ اپکو عزت شہرت اور اخرت میں کا میا بی دیں

  2. وہ راستہ
    گواہ ٹھہرا
    تیری میری مسافتوں کا
    ان سبھی چاہتوں کا
    جو ابھی تلک ہیں بے نشاں

  3. آج کل سپریم کورٹ میں چلنے والا پاناما کیس بڑا دلچسب ہے،کہا جا رہا ہے کہ اگر آرٹیکل 62،63 لاگو کیا جاۓ تو پھر کوی بھی پارلیمنٹیرین نہیں بچتا سواۓ جناب سراج الحق کے ، کتنی عجیب بات ہے ۔ ۔ ۔ ۔اس پر پارلیمنٹیرینز پر افسوس کی بجاۓ ان پر افسوس کیا جانا چاہیۓ جو عقل و شعور کے تمام تقاضے بالاۓ طاق رکھ کر انہیں منتخب کرتے ہیں ۔ ۔سراییکی میں ایک کہاوت ہے کہ ” رب رسے ، تے مت کھسے ” یعنی جب اللہ ناراض ہوتے ہیں تو عقل سلب ہو جاتی ہے ، خوف خدا ، اجتماعی شعور ، ظلم و نا انصافی کا اداراک ، غلط اور صحیح میں فرق ، راہبر و راہنما اور راہزن اور لٹیرے میں تمیز سبھی عنقا ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔کیا گذشتہ برسوں کی طرح آییندہ بھی بے شعوری کی یہ فصل بدستور کاشت ہوگی ، کیا ہم ، ہماری جواں نسل اپنے پیش آمدہ مسایل اور ان کے حل کی اس صورت کہ ہم مسیحاؤں ک انتظار کرنے کی بجاۓ اپنے مسیحا خود بنیں ، جا پاۓ گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہمیں خود ساختہ مصلحتوں کے گرداب سے نکل کر کچھ نیا کچھ تازہ اور کچھ بہتر سوچنا ہوگا ورنہ تو مہیب تیرگی اب جان کا آزار بن گیی ہے
    چلو کہ شاخیں تو ٹوٹتی ہیں .
    چلو کہ قبروں پہ خون رونے سے
    اپنی آنکھیں ہی پھوٹتی ہیں
    اور پنجابی کے یہ بول کتنے سچے اور کتنے برجستہ ذہن میں آۓ
    نویں دناں دیاں سچیاں گلاں کد تک ٹالی جاویں گا
    جھلیا کد تک قبراں اتے دیوے بالی جاویں گا
    محمد عبد اللہ شفیق

  4. ماں
    ہمارے دیہاتوں میں تعویذ دینا اور دم کرنا امام مسجد کے فرایض منصبی میں شامل سمجھا جاتا ہے ، اس دن نماز پڑھا کر گھر پہنچا تو ایک بوڑھی خاتون جو چار کڑیل جوان بیٹوں کی ماں ہے میری اہلیہ کے پاس بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔ ۔ اہلیہ نے آنکھوں کے اشارے سے بتایا کہ خالہ جی آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں ۔ ۔۔ ۔ میں رکا ، سلام کیا اور پوچھا خالہ جی خیریت؟ خالہ جی تو جیسے ساون کی جھڑی کی طرح برسنے کو بے تاب تھیں ۔ ۔ نحیف چہرے کی جھریوں میں آنسوؤں کا گویا سیلاب امڈ آیا ۔ ۔ استفسار پر کہنے لگیں تین بڑے بیٹے شادیوں کے بعد الگ ہو گۓ ۔ ۔ چھوٹا ہمارے ساتھ ہے ، ابھی کماتا نہیں میرے خاوند ہی کماتے ہیں چھوٹا بیٹا سارا دن دوستوں میں گذارتا ہے ، رات بھر کمپیوٹر پر بیٹھا رہتا ہے ، نہ کھانا وقت پر ، نہ کسی سے بات ڈھنگ سے کرتا ہے ، میں دایمی مریض ہوں اس کا ابا ہی کبھی ڈاکٹر کے پاس لیجاۓ تو لیجاۓ ورنہ سارا دن چار پای پر پڑی کراہتی ہوں ، خود کو جیسے تیسے گھسیٹ کر ہانڈی روٹی کرتی ہوں ، کبھی فریاد بھری نظروں سے اپنے بڑے بیٹوں یا ان کی بیگمات کی طرف دیکھ لوں تو انہیں لگتا ہے کہ جیسے میں ان سے کچھ مانگ لونگی وہ اپنے خاوندوں کو کچھ ایسا سبق پڑھا دیتی ہیں کہ پھر وہ کافی دم مجھ سے بات ہی نہیں کرتے، چھوٹے کو کبھی کام یا کبھی نماز کیلۓ کہدوں تو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے اور آج تو اس نے حد ہی کردی کہ میں نے کہا بیٹا ساری رات جاگتے ہو صبح سو جاتے ہو کم از کم فجر کی نماز ہی پڑھ لیا کرو ۔ ۔ ۔بس میرا یہ کہنا ہی غضب ہو گیا کہنے لگا اماں ہر وقت کتیا کی طرح بھونکتی رہتی ہو کسی وقت تو چپ رہا کرو ۔ ۔ ۔ ۔یہ کہا اور پھر زاروزار رونے لگی میرے قدموں کے نیچے سے گویا زمین سرک گیی ، اماں کہنے لگی حافظ جی کوی تعویذ ہی دے دو میرا بیٹا تو مجھے پہچان لے ” میں اس کی ماں ہوں ” ہاۓ اس خاتون کی یہ بات میرا کلیجہ چیر گیی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔میں گنگ تھا کیا حرف تسلی کہتا ۔ ۔ ۔
    خدا را دوستو خیال رکھنا ، ماں باپ ناراض عرش والا ناراض ، اپنی زندگی کی گہما گہمی میں اپنے ماں باپ کا کرب ، ان کی بیماری ان کی ضرورت بھلا نہ دینا ، انہیں نظر انداز مت کر دینا ورنہ رحمت حق تمہیں نظر انداز کر دیگی ، سونے سے پہلے اپنی اماں اور ابا کے پاس ضرور جایا کرو ، پاؤں دبایا کرو ، ان کا حال پوچھا کرو ، ان کی بوڑھی ہڈیاں تو وقت کی مار سہ سہ کر دکھتی ہی ہیں تم اپنے رویۓ سے ان کا دل مت دکھانا ، کبھی مت دکھانا ۔ ۔ ۔ ۔
    باپ مرے سر ننگا ہندا تے ویر مرن کنڈ خالی
    ماواں با جھ محمد بخشا کون کرے رکھوالی
    محمد عبداللہ شفیق

    1. بہت اچھی بات آپ نے بتائی عبداللہ بھائی ،سچ بتاوں تو میری آنکھیں بھر آیئں۔پتانہیں لوگ ماں باپ کو تکلیفوں میں چھوڑ کردربدر سکون
      کی جستجو میں زندگی صرف کرنے کی بےب وقوفی کیوں کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*