outline
sugar

کونسی غذا کھا کر شوگر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟

ایک نئی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریشے دارغذا اور آنتوں کے مفید بیکٹیریا ذیابیطس کی قسم دوم کے مریضوں میں شوگرکی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

امریکہ کی روٹگرز یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق ریشے دار غذائیں اور معدہ و آنتوں کے لیے مفید بیکٹیریاز ذیابیطس کے ٹائپ ٹو مریضوں میں نہ صرف خون میں شکر کی مقدار کو مقررہ حد تک رکھنے میں کار گر ثابت ہوتے ہیں بلکہ یہ تیزی سے وزن کم کرنے اور خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو بھی قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں میں نظام ہاضمہ مکمل طور پر متحرک نہیں رہتا جس کی وجہ سے کاربوہائیڈریٹ اور چکنائی (چربی) مکمل طور پر ہضم نہیں ہوپاتی جس کے باعث خون میں بالترتیب شوگر اور چربی کی مقدار (کولیسٹرول) میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ معدہ اور آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریازکا غیر فعال ہوجانا ہے،

یہ مفید بیکٹیریاز پروٹین کے علاوہ چکنائی اور لحمیات کو قابل ہضم بناتے ہیں اور اضافی مقدار کے جسم سے باہر اخراج کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

Image result for sugar patients

روٹگرز یونیورسٹی کے پروفیسر لائپنگ زُہاؤ نے اسی نکتے کو مرکز تحقیق بنا کر 10 ہزار سے زائد افراد میں معدے اور آنتوں کے مفید بیکٹیریاز کو فعال اور متحرک بنانے کے لیے مریضوں کے ایک گروپ کو ہائی فائبر غذا دینا شروع کیں جب کہ دوسرے گروپ کو معمول کی ڈائٹ پر رکھا گیا۔

محض 12 ہفتے بعد ہی اسے پتا چلا کہ ریشے دار غذائیں کھانے والے گروپ کے مریضوں میں تین ماہ کا شوگر لیول (HbA1C) کم ہوگیا جب کہ لحمیات، نشاستہ اور چکنائی کا ہاضمہ بہتر ہونے سے خون میں شوگر اور چکنائی کا لیول بھی کنٹرول میں آگیا۔

لائپنگ زُہاؤ نے اپنی تحقیق میں مزید بتایا کہ معدہ اور آنتوں میں فیٹی ایسڈ مختصر چین بنالیتے ہیں جو معدے اور آنتوں کی زیریں جھلی کو مضبوط بنانے، سوزش میں کمی اور بھوک میں کنٹرول کا سبب بنتے ہیں

جبکہ مفید بیکٹیریاز متحرک ہو کر شوگر اور چربی کو ہضم کرکے اسے قابل استعمال بناتے ہیں اس طرح شوگر اور چربی کی خون میں مقدار کم ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ ذیابیطس کی قسم دوم کے مریض انسولین کے بجائے دواؤں پرانحصار کرتے ہیں کیوں کہ ذیابیطس کی قسم اول کے مقابلے میں قسم دوم کے مریضوں کا لبلبہ کسی حد انسولین بنارہا ہوتا ہے

لیکن انسولین کی تعداد کم اور غیر متحرک ہوسکتی ہے جس کے باعث شوگر جسم کا حصہ بننے کے بجائے خون ہی میں گردش کرتی ہے اور خون کا ٹیسٹ کرانے پر شوگر لیول بڑھا ہوا آتا ہے۔

تبصرے “ 1 ”

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*