تازہ ترین
outline

‘اعترافی بیان نہ دیا تو تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری بیوی کی عصمت دری کریں گے’

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں ایک صوفی سلسلے سے تعلق رکھنے والے 8 افراد نے جیل میں حکام کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر احتجاجا بھوک ہڑتال کر دی ہے۔ ان افراد کو گزشتہ ماہ احتجاجی مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جس میں سکیورٹی فورسز کے بعض اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد میں شامل ایک شخص عباس دہقان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس نے اعترافی بیان نہ دیا تو اس کی بیوی کو اس کی آنکھوں کے سامنے عصمت دری کا نشانہ بنایا جائے گا۔

Illustrative image of dervishes, followers of Sufism a mystical form of Islam that preaches tolerance and a search for understanding, pray during a ceremony marking Nowruz day in the Tekke's prayer room in the southern Kosovo town of Prizren on March 22, 2018. (AP Photo/Visar Kryeziu)

تنظیم کے مطابق بھوک ہڑتالیوں کو طبی دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ یہ لوگ 19 فروری کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد گرفتاری کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔

یہ پرتشدد کارروائیاں اس مظاہرے کے دوران سامنے آئیں جو تہران کے شمال میں “درویش” کے نام سے معروف صوفی سلسلے کے پیروکاروں نے منعقد کیا تھا۔

مظاہرین اپنے متعدد ساتھیوں کے گرفتار کیے جانے اور اپنے روحانی پیشوا کو حراست میں لیے جانے سے متعلق افواہوں کے سبب احتجاج کر رہے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید بتایا کہ قیدی مظاہرین کو جیل میں لاتوں اور مکوں سے مارا جاتا ہے اور پلاسٹک کے پائپوں یا بجلی کے تاروں اور یا پھر کوڑوں سے بھی پٹائی کی جاتی اور بعض قیدیوں کو مختلف طریقوں سے لٹکایا بھی جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*