تازہ ترین
outline

فالسے کے کھیت میں خواتین کا جھگڑا جو توہین رسالت کے الزام میں تبدیل ہوگیا

ہمارے معاشرے میں ذاتی عناد یا جھگڑے کی صورت میں کسی پر توہین رسالت یا قرآن کی بے حرمتی کا الزام عائد کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں اور جب کوئی اس الزام کی زد میں آتا ہے تو بپھرے ہوئے لوگ جذبہ ایمانی کے تحت اس شخص کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں

پنجاب کے ضلع ننکانہ کی رہائشی آسیہ نورین کیساتھ بھی یہی کچھ ہوا -آسیہ نورین ضلع ننکانہ کے گاؤں اِٹاں والی کی رہائشی ہیں -جون 2009 میں اسی گاؤں میں فالسے کے ایک باغ میں آسیہ بی بی کا گاؤں کی چند مسلمان عورتوں کے ساتھ جھگڑا ہوا –

بات بڑھی تو ان خواتین نے آسیہ نورین پر توہین رسالت اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کا الزام لگا دیا -گائوں کے امام مسجد نے ایف آئی آر درج کرائی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ آسیہ بی بی کے مبینہ توہین آمیز کلمات کے بارے میں پنچایت ہوئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور آسیہ بی بی نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے معافی طلب کی

الزام لگنے کے چند روز بعد آسیہ کو اِٹاں والی میں ان کے گھر سے ایک ہجوم نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد وہ پہلے شیخوپورہ اور پھر ملتان جیل میں قید رہیں۔

تاہم ملزمہ نے اپنے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران بیان دیا تھا کہ ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کرنے پر یہ مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

2010 میں ضلع ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے آسیہ بی بی کو موت کی سزا سنا دی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

آسیہ بی بی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کر دی۔

آسیہ بی بی نے جنوری 2015 میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف درخواست پر ابتدائی سماعت جولائی 2015 میں شروع کی اور ان کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپیل پر حتمی فیصلہ تک سزا پر عمل درآمد روک دیا۔

وکلا کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب سپریم کورٹ نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت کسی مقدمے کی سماعت کی ہو۔

اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان نے مقدمے کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ چونکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی سماعت کر چکے ہیں اور یہ مقدمہ بھی اس سے کسی حد تک منسلک ہے اس لیے وہ اس کی سماعت نہیں کر سکتے۔

آٹھ اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی تین گھنٹے طویل سماعت کی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

31 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر آسیہ بی بی کے خلاف کیس خارج کرنے اور ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر جنہوں نے آسیہ بی بی کی مدد کرنے کی کوشش کی انہیں ان کے محافظ ممتاز قادری نے قتل کر ڈالا –

آسیہ بی بی رہا تو ہو گئیں مگر اب وہ اس ملک میں معمول کی زندگی نہیں گزار سکتیں اور لامحالہ انہیں یہ ملک چھوڑ کر جانا پڑے گا کیونکہ سپریم کورٹ سے بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود انہیں مشتعل اہل ایمان سے معافی نہیں ملے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*