تازہ ترین
outline
lahore blast

کابل کے ڈپلومیٹک زون میں دھماکہ ،100 افراد ہلاک متعدد زخمی

کابل (نیوزڈیسک)افغان دارالحکومت کابل میں غیرملکی سفارتخانوں اور صدارتی محل کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں 100 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
افغان حکام کے مطابق یہ دھماکہ بدھ کی صبح آٹھ بج کی بیس منٹ پر وزیر اکبر خان نامی علاقے میں ہوا جسے شہر کا سفارتی علاقہ سمجھا جاتا ہے
بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کسی ٹرک یا پانی کے ٹینکر میں لایا گیا تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ شہر کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں یہ گاڑی کیسے پہنچی۔
افغان وزارتِ صحت کے اہلکار اسماعیل کاؤسی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے میں اب تک 100 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ زخمیوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔
ذمبیق سکوائر میں ہونے والے اس بم دھماکے کی شدت سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر واقع گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
کابل میں ایک دکان دار سید رحمان نے خبر رساں ادارے روئٹر کو بتایا ’یہ بہت زور دار دھماکہ تھا، ہماری دکان مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ ہمارے عملے کا ایک شحض زخمی ہوا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسا خوفناک دھماکہ نہیں دیکھا۔‘
کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ہارون نجفی زادہ کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس اور فوجی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کے گرد حصار قائم کر لیا ہے۔
تصاویر میں جائے وقوعہ سے دھوئیں کے کالے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
کابل پولیس کے ترجمان بصیر مجاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’بم حملہ جرمنی کے سفارتخانے کے قریب ہوا لیکن اس علاقے میں کئی دوسری اہم عمارتیں اور دفاتر ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ حملہ آور کا ہدف کیا تھا۔‘
تاحال کسی گروہ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم گذشتہ ماہ ہی طالبان نے اپنے موسمِ بہار کے حملوں کا اعلان کیا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا نشانہ غیر ملکی افواج ہوں گی۔
پاکستان اور انڈیا کی جانب سے کابل دھماکہ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان میں دھماکے مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان چونکہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اس لیے وہ اس درد سمجھ سکتا ہے۔
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے بھی سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*