outline
family wall paper

بس تھوڑی سی چاہت۔۔۔۔۔۔۔

عارف دفتر میں مصروف اور تھکاوٹ سے چوردن گزارنے کے بعد جب رات 9بجے گھر پہنچا تو دروازہ کھلتے ہی کانوں میں رس گھولتی’’ پاپا پاپا‘‘ کی آواز سنائی نہ دی۔ہر روز جب وہ دفتر سے گھو واپس آتا تو یہ الفاظ سنتے ہی اس کی تھکاوٹ اتر جایا کرتی تھی اندر داخل ہوتے ہی زینب اپنے پاپا کو لپٹ جاتی پھر وہ اسے اپنے کندھوں پر بٹھاتااور پورا گھر اس کی کلکاریوں سے گونج اٹھتا۔یوں عارف اپنی تھکاوٹ اور غم بھول کر ننھی پری کی دنیا میں مگن ہو جاتاکپڑے تبدیل کرنا تو دور کی بات وہ پاؤں سے جوتا اتارنا بھی بھول جاتا اس وقت اچانک زینب اپنے پاپا سے دور ہو جاتی جب کچن سے مہوش کی آواز آتی’’ زینب پاپا کو ہاتھ منہ دھونے دو کھانا تیار ہے‘‘عارف ان خوشی کے لمحات کا ہمیشہ انتظار کرتا بس یہی اس کی کل کائنات تھی مگر آج سب دبلا بدلا سا دکھائی دے رہا تھا۔ نہ تو زینب کی آواز آئی اور نہ ہی مہوش نے کچن سے نکل کر یہ کہا کہ آپ منہ ہاتھ دھولیں میں کھانا لگا دیتی ہوں۔ انہیں کہیں نہ پا کر عارف کی بے چینی بڑھ گئی وہ امی کو سلام اور بہن کے سر پر پیار دے کر سیدھا ڈرائنگ روم میں چلا گیا۔
عجیب سی کیفیت تھی نہ تو وہ کپڑے تبدیل کر پا رہا تھا اور نہ ہی کھانا کھانے کو دل چاہ رہا تھا۔تھوڑی دیر تک عارف کی بہن نمرہ جو بی کام پارٹ ون کی طالبہ تھی کھانا لیئے داخل ہوئی اس نے کھانا سامنے رکھا مگر عارف سوالیہ نظروں سے نمرہ کو دیکھ رہا تھا دھیمی سی آواز میں پوچھا زینب نظر نہی آ رہی ۔آج جلدی سو گئی؟ نمرہ نے تیزی سے کہا بھائی جان مجھے نہیں معلوم امی سے پوچھ لیں۔ عارف کھانا چھوڑ کر امی کے پاس آ گیا پوچھا امی جان کیا ہوا کچھ مجھے تو بتائیں ۔والدہ پہلے ہی غصے میں تھیں انتہائی سخت لہجے میں بولیں’’بس تیری بیوی اس قابل نہیں کہ وہ ہمارے خاندان کا حصہ بنے۔اسے ہماری عزت کی کوئی پرواہ نہیں۔۔۔۔۔ اور نجانے کیا کیا کہہ گئیں مگرعارف سوچ کے اس مینار پر کھڑا تھا کہ جہاں اوپر جانے کا راستہ بند اور نیچے آنے کی ہمت نہ ہو۔آخر ہمت کر کے عارف نے خود پر قابو پاتے ہوئے انتہائی ادب سے کہا میرے آنے کا انتظار تو کر لیتے اسے روک لیتے میں آجاتا بات کرتے کوئی حل نکالتے۔ اب کی بار عارف کی امی کا لہجہ انتہائی سخت تھا تمہیں اپنی بیوی کی تو بڑی فکر ہے مگر اس بات کا قطعاً دکھ نہی کہ وہ تمہاری بہن پر کیا کیا الزام لگا کر گئی ہے۔عارف مزید کچھ کہنے کے بجائے اٹھا اور باہر نکل گیا بیوی کو فون کیا مگر اس کا نمبر بند جارہا تھا کافی دیر تک رابطہ کرنیکی ناکام کوشش کے بعد وہ گھر واپس آیا اور خاموشی سے کمرے میں داخل ہو گیا۔بھیگی آنکھوں کے ساتھ اپنی بے بسی کوکمبل میں لپیٹ کر اوندھے منہ لیٹ گیا۔

wall paper

سوچوں کے بھنور میں پھنسا عارف نہ جانے کب نیند کی آغوش میں چلا گیا اچانک آنکھ کھلی تو دیکھا 8بج چکے تھے جلدی جلدی اٹھا نہایا کپڑے تبدیل کیئے اور آفس جانے کے لیئے تیار ہو گیا ۔امی نے کہا نمرہ تو کالج چلی گئی میں ناشتہ بنا دیتی ہوں مجھے بھوک نہیں کہہ کر عارف چل دیا۔آفس پہنچ کر اس نے مہوش کو کال کی اس کا فون اب بھی بند جا رہا تھا ۔عارف جلدی جلدی اپنے کام نمٹانے لگا تاکہ لنچ ٹائم تک وہ فارغ ہو کر اپنی بیوی اور بچی کو ملنے چلا جائے۔2بجے عارف اپنے سسرال تھا مہوش نے دروازہ کھولا تو سامنے عارف کو دیکھ کر چہرے پر خوشی بھی تھی اور پریشانی کے آثار بھی جھلک رہے تھے عارف نے سب گھر والوں کو سلام کیا ۔مہوش کی امی نے کہا بیٹا ابھی کل ہی تو مہوش آئی ہے وہ تو کہہ رہی تھی کہ میں دو تین دن رہوں گی آپ اسے آج ہی لینے آگئے عارف نے مہوش کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا وہ اٹھ کر کچن میں چلی گئی پھر آواز دی آپ منہ ہاتھ دھو لیں اور امی سے کہا امی پہلے انہیں کھانا تو کھانے دیں پھر باتیں کر لینا۔عارف اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا مہوش کھانا لے کر آئی عارف نے کھانا کھاتے ہوئے پوچھا کیا بات ہوئی مہوش نے کہا بس میری خطاء اتنی ہے کہ میں تمہارے گھر پر تمہاری عزت پر کوئی حرف نہی آنے دینا چاہتی۔3ماہ سے آپ کے آفس جاتے ہی تمہاری امی لڑائی کا آغاز کرتی ہیں اور شام تک یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔میں ہر روز یہ سوچ کر خاموش ہو جاتی کہ بات ہمارے گھر کی ہے جتنی دیر دب سکتی ہے دبائی جائے مگر کل آپ کے آفس جاتے ہی امی بازار چلی گئیں اور نمرہ نے بخار کا بہانہ کرکے کالج سے چھٹی کرلی۔میں زینب کو لنچ دینے اس کے سکول چلی گئی کیونکہ زینب صبح لنچ ساتھ لے جانا بھول گئی تھی میں واپس آئی تو ڈرائنگ روم کا دروازہ بند تھا نمرہ کمرے میں نہی تھی میں نے آواز دی تو نمرہ نے کہا بھابھی میں ڈرائنگ روم میں ہوں میری دوست آئی ہے۔ہم مل کر پڑھ رہے ہیں ۔
میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہو گئی ۔تھوڑی دیر کے بعد جب میں نمرہ کے کمرے میں صفائی کے لیئے داخل ہوئی تو مجھے کچھ عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں نمرہ کے کمرے کا واش روم جس کا دوسرا دروازہ ڈرائنگ روم کی طرف ہے وہاں سے میں اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو نمرہ صوفے پر لیٹے ایک لڑکے کے اوپر بے لباس جھکی ہوئی تھی۔ میرے اونچا بولنے پر وہ لڑکا تیزی سے اٹھا کپڑے پہنے او ررفو چکر ہو گیا۔نمرہ مجھے دھکا دے کر واش روم سے اپنے کمرے میں چلی گئی میرے تو جسم سے جیسے جان ہی نکل گئی۔تھوڑی دیر تک دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو آپ کی امی داخل ہوئیں مجھے نظر انداز کرتے منہ میں کچھ بڑبڑاتے سیدھی نمرہ کے کمرے میں چلی گئیں۔میں کچن میں برتن دھو رہی تھی کہ امی نے اچانک میرے بالوں سے پکڑا اور کھینچ کر باہر لے آئی ایک بیگ جس میں میرے اور زینب کے کپڑے تھے نمرہ نے اٹھا کر صحن میں پھینک دیا ۔نہ جانے نمرہ نے امی سے کیا کہا تھا کہ وہ میری بات سننے کو تیار ہی نہ تھیں میں دروازے کے باہر تھی پورا محلہ تماشا دیکھ رہا تھا ۔میں وہاں سے چلی زینب کی چھٹی کا وقت تھا اسے سکول سے لیا اور رکشہ لے کر اپنی امی کے گھر آگئی انہیں بتایا کہ زینب ضد کر رہی تھی اس لیئے دو تین دن رہنے آگئی عارف یہ باتیں کانوں سے سن تو رہا تھا مگر اس کا دماٖغ ماؤف ہوچکا تھاپھر اچانک زینب’’ پاپا پاپا‘‘ پکارتے کمرے میں داخل ہوئی مہوش نے بات تبدیل کی اور برتن اٹھا کر کمرے سے باہر چلی گئی
ابھی شام کے 6بجے تھے کہ عارف کی امی کی کال آئی اور کہا کہ نمرہ ابھی تک کالج سے واپس نہیں آئی مجھے بہت فکر ہو رہی ہے۔عارف نے مہوش کو بتایا تو مہوش نے کہا یقیناًوہ کسی مشکل میں ہو گی اس کا فون بھی مسلسل بند جارہا تھا۔عارف نے بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور گھر واپس آگیا ۔عارف کی والدہ غم سے نڈھال پڑی تھیں مہوش نے انہیں سہارا دیا اور عارف نمرہ کوتلاش کرنے نکل گیا۔رات کے بارہ بج چکے تھے مہوش کو نمرہ کی ایک دوست سب کچھ بتا چکی تھی مگر عارف ابھی تک واپس نہی آیا تھا عارف کی والدہ مہوش سے بار بار معافیاں مانگ رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ میں غلط تھی جو تمہیں طلاق دلوانے پر بضد تھی۔مہوش اٹھی، رکشہ پکڑا اور کالج ہاسٹل کی طرف چل نکلی اچانک دیکھا تو نمرہ بیگ ہاتھ میں لیئے ہاسٹل کے سامنے بس سٹاپ پر اکیلی کھڑی تھی وہ رکشے سے اتری اور دوڑتے ہوئے اس کے قریب گئی ،بھابھی کو دیکھتے ہی نمرہ کی آنکھوں میں آنسوں رواں ہوگئے وہ ڈری اور سہمی ہوئی تھی مہوش نے اسے اپنی بانہوں میں لیا اور گھر لے آئی نمرہ اور اس کی امی شرمندہ ہو کر بار بار مہوش سے معافی مانگ رہی تھیں ۔مہوش اپنا گھر بچانے کے لیئے نہ صرف انہیں معاف کر چکی تھی بلکہ نمرہ کو تسلیاں بھی دے رہی تھی۔دروازے پر دستک ہوئی مہوش نے دروازہ کھولا تو عارف ادھ موئی حالت میں اندر داخل ہوا سامنے نمرہ کو دیکھ کر تھوڑی طبیعت تو سنبھلی مگر منہ سے کچھ بول نہ پایا مہوش نے بتایا کہ آج نمرہ کے کالج کا ٹور تھا اس کا موبائل بند ہو گیا تھا اور امی کو یاد نہی رہا آپ کے گھر سے نکلتے ہی یہ آگئی تھی۔اب دونوں ماں بیٹی مہوش کو اس طرح دیکھ رہی تھیں کہ ہم نے اس کو رسوا کیا اس کا گھر توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یہ ہمارا ہی دفاع کر رہی ہے۔عارف کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا کہ مہوش تم نے اپنی بے لوث چاہت سے مجھے اپنا غلام کر لیا۔عارف کی ماں بھی چپ نہ رہ سکی ،کہنے لگی ’’بس تھوڑی سی چاہت ہوتو بہو بھی بیٹی بن سکتی ہے‘‘

Imtiaz shad

امتیاز شاد پیشے کے اعتبار سے معلم اور صحافی ہیں

اخبارات میں کالم لکھتے ہیں اور افسانہ نگاری بھی کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*