تازہ ترین
outline

نیوزی لینڈ میں بلّیوں سے کتوں والا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے ؟

پالتو جانوروں میں بلی سب سے زیادہ مقبول ہے کیونکہ یہ خوبصورت ہوتی ہے اور اس کی ادائیں دل لُبھانے والی ہوتی ہیں امریکہ میں قریباً آٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ پالتو بلّیاں ہیں یعنی ہر تین میں سے ایک گھرانے کے پاس بلی ہے۔

لیکن اب نیوزی لینڈ میں بلّیوں کو نئی مصیبت کا سامنا ہے ،انہیں ہمیشہ کے لیئے ختم کیا جا سکتا ہے ،ان کی نسل کشی ہو سکتی ہے یا پھر ان کی نقل و حرکت روکنے کے لیئے کرفیو نافذ کیا جا سکتا ہے

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے جنوبی ساحلی دیہات میں پالتو بلیوں پر پابندی لگائے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد وہاں کی قدیم جنگلی حیات کا تحفظ کرنا ہے۔

ساؤتھ لینڈ ماحولیاتی ادارے کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات کے تحت نیوزی لینڈ کے علاقے اومایوئی میں ان بلیوں کے مالکان کو ان کی جنسی صلاحیت ختم کروانے اور ان میں مائیکر چپ ڈالوانے کے بعد انہیں حکام کے پاس رجسٹرڈ کروانا ہوگا۔

جن لوگوں کے پالتو جانور مر جائیں گے انہیں مزید پالتو جانور حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی

نیوزی لینڈ میں آخر ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ؟حکام کا خیال ہے کہ یہ بلیاں ہر سال اربوں پرندوں اور میملز کی موت کی ذمہ دار ہیں

اس منصوبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر پیٹر مارا کہتے ہیں کہ بلی ایک حیرت انگیز پالتو جانور ہے۔ یہ لاجواب ہیں لیکن انہیں باہر گھومنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اور اس کا یہی واضح حل ہےہم کتوں کو کبھی ایسا نہیں کرنے دیتے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بلیوں کے ساتھ کتّوں جیسا سلوک کریں

اومایوئی میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بجا ہیں کیونکہ کیمروں میں کئی بلیوں کو پرندوں، حشرات اور رینگنے والی جانوروں پر حملے کرتے دیکھا گیا ہے۔

بائیو سکیورٹی آپریشن کے ڈائریکٹر علی ماید نے وضاحت کی کہ ’آپ کی بلّی اپنی قدرتی زندگی جی سکتی ہے ویسے ہی جیسے وہ جی رہی ہیں لیکن اس کے مرنے کے بعد آپ نئی بلی نہیں لا سکتے۔‘

اس پابندی پر عمل نہ کرنے والوں کو نوٹس جاری کیا جائے گا جس کے بعد حکام خود ان جانوروں کو وہاں سے نکالیں گے۔ لیکن یہ آخری حل کے طور پر کیا جائے گا۔

اومایوئی میں لینڈ کیئر چیریٹیبل ٹرسٹ کے سربراہ جان کولین نے اس پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا یہ اعلی قدرتی خزانوں کے تحفظ کے لیے ہے۔

اوٹیگو ڈیلی ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ہم بلیوں سے نفرت نہیں کرتے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ماحول جنگلی حیات سے بھرپور ہو۔‘

ڈاکٹر مارا کے مطابق 63 اقسام کے مخلوقات کو دنیا میں ناپید ہوگئی ہیں ان کا ذمہ دار بلّیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیا جاتا ہے۔ اور یہ مسئلہ نیوزی سمیت حسّاس قدرتی ماحول والے علاقوں میں شدت اختیار کر چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*