outline

جسٹس فائزعیسیٰ سمیت تین ججوں کیخلاف ریفرنس14 جون کوسماعت کے لیئے مقرر

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قائز عیسیٰ سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تین جج صاحبان کیخلاف فائل کیئے صدارتی ریفرنسوں کی سپریم جوڈیشل کونسل کے روبرو ابتدائی سماعت کے لیئے 14 جون کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ سپریم کورٹ بار نے اسے انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے لائحہ عمل طے کرنے کے لیئے 12 جون کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے

واضح رہے کہ گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت کو خط لکھ کر اس معاملے کی وضاحت طلب کی تھی اور کہا تھا کہ اگر کوئی ریفرنس دائر کیا گیا ہے تو انہیں اس کی نقل فراہم کی جائے

جن ججوں کے خلاف صدارتی ریفرنس سماعت کے لیئے مقرر کیئے گئے ہیں ان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا بھی شامل ہیں ان ججوں پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے بیرون ملک اثاثوں کو انکم ٹیکس کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا

سپریم جوڈیشل کونسل نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل کو نوٹسں جاری کر دیا ہے۔ اٹارنی جنرل ان صدارتی ریفرنسوں میں پراسیکیوٹر جنرل کا کردار ادا کریں گے اور اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ان کیمرہ ہو گی

اس سے قبل ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے ریفرنس دائر کیئے جانے پر بطور احتجاج استعفیٰ دیدیا تھا

دوسری طرف اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان بار کونسل نے اپنا ہنگامی اجلاس 12 جون کو طلب کیا ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرنس پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے بتایا کہ پاکستان بار کونسل اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے کے حق میں ہیں لیکن اعلیٰ عدلیہ کے ایک دو ججوں کو ٹارگٹ کر کے ان کا احتساب کرنا کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جو فیصلہ تحریر کیا ہے اس سے حکمراں جماعت ان کے خلاف بغض رکھتی ہے اور اس صدارتی ریفرنس کی بنیاد بھی یہی بغض ہے۔ وائس چیئرمین کا کہنا ہے کہ 14 جون کو ان دونوں ججوں کے خلاف ان صدارتی ریفرنسوں کی ابتدائی سماعت ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*