تازہ ترین
outline

بحران کے گہرے ہوتے سائے-وجاہت مسعود

خدا خیر کرے، میر تقی کے اتباع میں نامرادانہ زیست کرتے ہیں۔ چنانچہ ان دنوں میں جگر مراد آبادی کا یاد آنا ایک دلچسپ اشارہ ہے۔ بات اتنی ہے کہ ادھر شہباز شریف کا نام اس فہرست سے خارج کر دیا گیا جس کے آوارہ نصیبوں کو بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں ہوتی۔ ادھر میاں نواز شریف کو طبی بنیاد پر چھ ہفتے کے لئے ضمانت پر رہائی مل گئی۔ یہی نہیں، آصف علی زرداری کو بھی دس اپریل تک مہلت مل گئی ہے۔ دس اپریل کی تاریخ معنی سے خالی نہیں۔ 33 برس قبل دس اپریل کی شام محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی ختم کر کے لاہور ایئر پورٹ پر اتری تھیں۔ اس شام ان کے استقبال سے اقتدار کے صفحہ مرموز پر جو ارتعاش پیدا ہوا، بالآخر دو برس بعد 29 مئی 1988 کو جالندھر اور سندھڑی میں شراکت اقتدار کے سقوط پر منتج ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ 27 اور 28 مارچ کو محض چوبیس گھنٹوں کی مختصر مدت میں پیش آنے والے پے در پے ’ــحادثات‘ میں آنے والے وقت کی جھلک کیا، پوری تصویر اتر آئی ہے۔ اس پر بات کرنا ضروری ہے۔ مگر جگر مراد آبادی کا وہ شعر ضرور پڑھ لیجئے جس سے آج کی خیال آرائی کی موج اٹھی۔ اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا / کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ٹھیک آٹھ ماہ قبل جسے شاہ بے داغ سمجھ کر آگے بڑھایا تھا، وہ شاہ بے اماں بننے کی فکر میں ہے۔ وزیراعظم صاحب کو تین سمتوں میں ناکامی ہوئی ہے۔ انہیں برسوں منتخب حکومتوں، عوامی تائید کی حامل سیاسی قیادت اور جمہوری حرکیات کے خلاف ایسا آموختہ پڑھایا گیا کہ وہ حکومت میں پہنچے تو ان کی زنبیل میں جمہوریت کی فہم ہی موجود نہیں تھی۔ جمہوریت دستور کی روشنی میں سیاسی تسلسل کا نام ہے۔ جمہوریت میں اختلاف ذاتی عداوت نہیں ہوتا، پالیسی اور ترجیحات میں فرق سے ترتیب پاتا ہے۔ سیاسی مخالف کو شیطان اور چور وغیرہ سمجھنا مناسب نہیں ہوتا۔ وزیراعظم تو اسمبلی میں عقبی دروازے سے داخل ہو کر اپنی نشست تک جاتے ہیں، گویا حزب اختلاف سے ہاتھ ملانے کے بھی روادار نہیں۔ یہ سیاسی فراست نہیں، حد سے بڑھی ہوئی نرگسیت ہے۔ اس میں مشکل یہ ہے کہ پارلیمنٹ آئین کے تابع ہے اور آئین ایسی خود پسندی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ قائد حزب اختلاف اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے انتخاب میں مات کھائی۔ اب الیکشن کمیشن کے ارکان کی نامزدگی اور نیشنل ایکشن پلان پر نظر ثانی کے لالے پڑے ہیں۔ دو ماہ بعد بجٹ منظور کرانے کا مرحلہ درپیش ہو گا۔ دردمندوں نے بہت پہلے عرض کی تھی کہ کرپشن کے نعرے سے حکومتیں گرائی تو جا سکتی ہیں، کرپشن کے منتر سے حکومت چلائی نہیں جا سکتی۔ کیا دلچسپ منظر ہے کہ اپوزیشن کو ملیامیٹ کرنے کا عزم لے کر اٹھنے والا عضو معطل بنا بیٹھا ہے۔ یہی سوچ لیا ہوتا کہ آپ کی کشتی میں سوار بھاڑے کے مسافروں کی وفاداری آپ کی ذات اقدس سے نہیں، اپنے مفادات سے بندھی ہے۔

پی ٹی آئی کو دوسری بڑی ناکامی معیشت کے محاذ پر ملی۔ معیشت کے پتے ایک ایک کر کے مرجھا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے معاملات حتمی صورت اختیار نہیں کر رہے۔ ایف اے ٹی ایف والے البتہ دہلیز پر بیٹھے ہیں۔ اس کا کوئی تعلق ادائیگیوں کے توازن یا ڈالر کی قیمت سے نہیں۔ حقیقی ناکامی تو یہ رہی کہ پی ٹی آئی کا کیسہ معاشی بصیرت سے خالی پایا گیا۔ نواز حکومت نے انفراسٹرکچر، توانائی اور تجارتی روابط کا سہ نکاتی نمونہ پیش کیا تھا۔ عمران خان سرکاری گاڑیوں کی نیلامی سے شروع ہو کر مرغیاں اور بکریاں پالنے تک پہنچ گئے۔ اگر اسی کا نام معاشی بصیرت ہے تو یہ کام ڈاکٹر امجد ثاقب کہیں بہتر طریقے سے کر لیتے۔ پی ٹی آئی کی تیسری ناکامی یہ ہے کہ وہ خارجی دنیا میں پاکستان کا وقار بحال نہیں کر سکی۔ تسلیم کہ یہ ایک مشکل کام ہے۔ خارجی دنیا پاکستانی اخبارات کے کالم، ٹیلی ویژن شو اور پی ایس ایل نہیں دیکھتی۔ چنانچہ ہمارے حالات کا زیادہ حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتی ہے۔ اور بیرونی دنیا سے سب اچھا سمجھنے اور کہنے کی درخواست بھی نہیں کی جا سکتی۔

2008 میں پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد سے جو مرحلہ شروع ہوا تھا، وہ بہت سے اتار چڑھاؤ سے گزرتا ہوا جولائی 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت پر منتج ہوا۔ گویا حکومت ایک بار پھر حکومت میں آ گئی۔ یہ خیال ہی نہیں رہا کہ اس دوران گلی کے اندر اور باہر بہت سے منظر بدل گئے ہیں۔ پرانے زمانوں میں ایسا بندوبست طویل سناٹے کا غماز ہوتا تھا۔ وقت کی رفتار کچھ یوں بدلی ہے کہ برسوں کا سفر اب مہینوں میں طے ہو جاتا ہے۔ نواز شریف بھلے صحت کے ہاتھوں خاموش ہوں یا سیاسی حکمت سے کام لے رہے ہوں، ہمارا شوخ چشم اور بلند آہنگ طائفہ جو بھی کہے، بنیادی قضیہ تو ووٹ کی عزت اور جمہور کی بالادستی ہی کا ہے۔ یہ نصب العین کسی کی ذاتی میراث نہیں، اس ملک کے 22 کروڑ باشندوں اور ان کی آئندہ نسلوں کی امانت ہے۔ لیاقت علی خان کونسے ایسے جمہوریت پسند تھے، لیکن انہیں راستے سے ہٹایاگیا تو وہ ہمارے جمہوری ارتقا کا سنگ میل ٹھہرے۔ محترمہ فاطمہ جناح نے اکتوبر 58ء میں ایوب آمریت کا خیرمقدم کیا تھا۔ 1964 میں مادر ملت پارلیمانی جمہوریت کا پرچم اٹھا کر نکلیں تو ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی انتخابی مہم کے انچارج تھے۔ بے نظیر بھٹو نے ضیا آمریت سے ٹکر لی تو نواز شریف، غلام دستگیر خان، راجہ ظفرالحق، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی آمریت کی کشتی میں سوار تھے۔ 1985 میں محمد خان جونیجو آمریت کا حسن انتخاب تھے۔ 1988 میں ان کے خیمے کی طناب کٹ گئی تو کشتگان کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے دس برس کی اٹھا پٹخ میں کیا کسر چھوڑی لیکن 2006ء کے میثاق جمہوریت نے سب داغ دھو ڈالے۔

پاکستان کے عوام تہی دست سہی، کم ظرف نہیں ہیں۔ جمہوریت کے پرچم پر کسی کا اجارہ نہیں۔ سر چھپانے کے لئے چھت، روٹی، تعلیم اور روزگار کا خواب بادل کی طرح ہمارے ساتھ ساتھ چلا ہے۔ آج کے محضر میں اچھی خبر یہ ہے کہ سناٹے کا وقفہ زیادہ طویل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ عمران خان تیزی سے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ افسوس یہ کہ اس برس کے آخر تک جب بادل چھٹیں گے تو بہت سی دھوپ ڈھل چکی ہو گی۔ احمد مشتاق نے کہا تھا، جاتے ہوئے ہر چیز یہاں چھوڑ گیا تھا / لوٹا ہوں تو اک دھوپ کا ٹکڑا نہیں ملتا۔ جمہوریت سے کھلواڑ کی یہ قیمت بہت زیادہ ہے۔ توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*