outline

اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا؟-یاسر پیرزادہ

فرض کریں اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں اکٹھا الیکشن ہوتا تو کیا نتیجہ نکلتا؟ کیا اس صورت میں بھی بی جے پی جیت جاتی؟ بھارت کی آبادی اِس وقت 1,339ملین ہے، پاکستان کی 220ملین اور بنگلہ دیش کی 165ملین، کل ملا کر ہوئے 1724ملین، بھارتی لوک سبھا میں 543نشستیں ہیں گویا پچیس لاکھ کی آبادی کے لئے ایک نشست، اِس حساب سے پاکستانی علاقے میں 89اور بنگلہ دیش کے حصے میں 67سیٹیں آنا تھیں اور ہندوستان کا ایوان 699نشستوں پر مشتمل ہونا تھا، 699کے ایوان میں بی جے پی اتحاد کی 353نشستوں میں 20کا اضافہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہندو آبادی کے حلقوں کی وجہ سے ہو جانا تھا اور یوں بی جے پی کو پھر بھی اکثریت حاصل ہو جاتی مگر یہ سب فرضی باتیں ہیں، تقسیم نہ ہونے کی صورت میں بی جے پی کی 353نشستیں بھی یقینی نہ ہوتیں کیونکہ بہت سے بھارتی حلقوں میں مسلم آبادی کا تناسب وہ نہ ہوتا جو اب ہے اور چونکہ متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعداد 538ملین ہوتی(کُل آبادی کا 31.2%) سو سیاست بھی مختلف ہوتی۔ اس جمع تقسیم کا اب کوئی فائدہ نہیں، متحدہ ہندوستان اب نہیں رہا، بھارت میں بی جے پی جیت چکی، مسلمانوں کے حصے میں 27نشستیں آ چکیں۔

ہمیں نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اِس جوڑی نے ہمیں بھارت کا وہ چہرہ دکھایا جو بالی وڈ کی چکا چوند کے پیچھے چھپا ہے، ہم اِس چہرے سے نا آشنا تھے جس میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کو سرعام ڈنڈے مار مار کر ہلاک کرتے ہیں، جس میں انہیں سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس میں آٹھ سالہ مسلمان بچی کی اجتماعی بے حرمتی کی جاتی ہے اور بی جے پی کے رہنما ریپ کرنے والوں کے حق میں ریلی نکالتے ہیں۔ یہ وہ انڈیا ہے جہاں کا وزیراعظم ایسے تمام پر تشدد واقعات پر یوں آنکھیں موند لیتا ہے جیسے اسے علم ہی نہیں کہ اُس کی پارٹی کے غنڈے کیا کرتے پھر رہے ہیں، یہ وہ بھار ت ہے جہاں امیت شاہ کھلم کھلا مسلمانوں کو دیمک سے تشبیہ دیتا ہے اور یہ وہ ہندوستان ہے جس کے فلمی ستارے، کھلاڑی، پھنے خان صحافی، انگریزی بولنے والے اینکر، ارب پتی صنعتکار اور درجنوں کتابیں لکھنے والے دانشور سینکڑوں مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو آسمان سے نازل ہوا کوئی مسیحا سمجھتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ اِس کی وجہ تلاش کی جائے ایک دلیل کا جواب دستی لے لیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کس منہ سے بھارت کو طعنے دیتے ہیں کہ وہاں مسلمان محفوظ نہیں، خود ہمارے ملک میں کیا اقلیتیں محفوظ ہیں؟ بالکل درست بات ہے کہ ہمارے ملک میں اقلیت تو کیا اکثریت بھی محفوظ نہیں مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت کو اِس بات کا طعنہ نہیں دیا جا سکتا، یہ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی بدکردار شخص پولیس کو اطلاع دے کہ فلاں جگہ ڈاکو شہریوں سے لوٹ مار میں مصروف ہیں تو پولیس محض اِس وجہ سے اُس شخص کی بات پر کان نہ دھرے کہ اُس کا کردار ٹھیک نہیں، سو اگر ہمارا اپنا کردار ٹھیک نہیں تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ نریندر مودی کے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہونے پر ہم بول نہیں سکتے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ مودی کی نفرت انگیز انتخابی مہم بہت موثر رہی مگر کیا اُس کی جیت صرف اِس وجہ سے ہوئی؟ کیا مودی نے ڈیلیور نہیں کیا؟ کیا بھارتی عوام نے مودی کی پانچ سال کی کارکردگی کو نہیں جانچا؟ یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ مودی سرکار نے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، ایک رپورٹ کے مطابق 2014میں بھارت کا جی ڈی پی 2ٹریلین ڈالر تھا جو 2017میں بڑھ کر 2.7ٹریلین ڈالر ہو گیا، 2014-17کے دوران دنیا بھر میں جتنے نئے بینک اکاؤنٹ کھلے اُن میں سے بھارت کا حصہ 55%تھا، سالانہ 12روپے پریمیم پر 14.64کروڑ لوگوں کا بیمہ ہوا، 9.74کروڑ ٹوائلٹ تعمیر کیے گئے، بھارت اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہوا جس کا اپنا سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم ہے، اس کے علاوہ تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر، زراعت، سماجی انصاف اور دیگر شعبوں میں بھی ایسے پروگرام شروع کیے گئے جن کا فائدہ عوام کو پہنچا، کسانوں کو خصوصی مراعات دی گئیں، بین الاقوامی سطح پر مودی نے دنیا کی چوٹی کی کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیں، انہیں بھارت میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کیا، بھارت اب عالمی فہرست میں پچاسویں نمبر پر ہے جہاں سہولت سے کاروبار کیا جا سکتا ہے، مودی سے پہلے بھارت کی 142ویں پوزیشن تھی۔ سو اس انتخاب میں مودی کے پاس بیچنے کے لئے صرف ہندتوا کا منجن ہی نہیں، کارکردگی کا ٹوتھ پیسٹ بھی تھا، بی جے پی نہایت کامیابی کے ساتھ اپنے ہندو ووٹرز کو یہ بتانے میں کامیا ب ہو گئی کہ نریندر مودی کی قیادت میں ایک نیا بھارت دنیا کے نقشے پر ابھر رہا ہے، ہر سچا ہندوستانی اگر وہ بھارت ماتا سے محبت کرتا ہے تو اسے مودی جی کو ووٹ دینا چاہئے اور یہی ہوا۔ اکشے کمار نے مودی کا ایک ’’غیر سیاسی‘‘ انٹرویو کیا جس میں اس قسم کے سوال پوچھے گئے کہ مودی جی آپ آم کیسے کھاتے ہیں، بھارتی ہیرؤنیں خم ٹھونک کر مودی کی حمایت میں میدان میں آگئیں، کرکٹرز نے بی جے پی کی ڈٹ کے حمایت کی، بڑی بڑی کمپنیوں نے اربوں روپوں کے چندے دیے، میڈیا میں بیٹھے مہا محبِ وطن خواتین و حضرات اینکرز نے ماحول گرما کر رکھا اور یوں مودی دوسری مرتبہ بھارت کا وزیراعظم منتخب ہو گیا، 1984میں جس بی جے پی کی 2نشستیں تھیں آج اس کی اپنی نشستیں 303ہیں، امیٹھی کی خاندانی نشست راہول گاندھی ہار چکے ہیں، ساس بھی کبھی بہو تھی کی شہرت یافتہ سمرتی ایرانی نے راہول کو 55,000ووٹوں سے شکست دی۔ ایسا بھی نہیں کہ بی جے پی نے انڈیا میں دودھ کی نہریں بہا دی تھیں، مودی نے ایسے ایسے احمقانہ بیانات بھی دیے جن کا دفاع کرنا ممکن نہ تھا، بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے کی پالیسی تو مکمل طور پر ناکام ہوئی تھی اور کئی معاشی محاذوں پر مودی کی کارکردگی خاصی بری رہی مگر اس کے باوجود بھارتی جنتا نے مودی سرکار کو کانگریس پر ترجیح دی۔ ایک وجہ تو موروثی سیاست کا طعنہ تھا، عوام کو ایک سیلف میڈ مودی جس کا کوئی خاندانی پس منظر نہیں، زیادہ بھایا بہ نسبت راہول گاندھی۔ یوں تو کانگریس نے بھی اس مرتبہ ہندو کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کی مگر جو نفرت بی جے پی نے پھیلائی کانگریس اس کا مقابلہ نہ کر سکی۔

جمہوریت کا المیہ یہ نہیں کہ اس میں عوام نریندر مودی، پوٹن اور ٹرمپ جیسے لیڈر منتخب کر لیتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ پاپولزم کی اِس لہر میں وہ خواص بھی بہہ جاتے ہیں جن کا کام عوام کو صحیح اور درست کی تمیز سکھانا ہوتا ہے۔ بنو امیہ اور عباس کے زمانے میں جب مسلمان فتوحات کر رہے تھے تو اُس وقت کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ مقبوضہ علاقوں میں غیر مسلموں پر ظلم ہو رہا ہے کیونکہ اُس وقت مسلمان قوم اپنے تئیں عروج پر تھی۔ آج بھارتی جنتا کو یقین ہے کہ وہ مودی کی قیادت میں عروج حاصل کریں گے سو انہیں آٹھ برس کی مسلمان بچی سے زیادتی میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*