outline

درندگی-عائشہ تحسین

میں جو آج لکھ رہی ہوں میرا قلم اس بیان کو لکھنے سے قاصر ہے کہ آج پھر ایک اور ہواکی بیٹی کو جنسی زیادتی کے بعد اس کی لاش کو منسک کر کے سڑک پر پھینک دیاگیا۔

جی میں بات کر رہی ہوں اسلام آباد کی رہائشی معصوم فرشتہ کی جسے کسی وحشی صفت انسان نے اغواء کر کے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔دس سالہ فرشتہ جو اپنے گھر سے 15 مئی سے لاپتہ تھی اس کے والد غلام نبی نے اس کی رپورٹ تھانہ شہزاد ٹائون میں درج کروانے جاتے رہے لیکن اس کی رپورٹ باقاعدہ وقت پر درج نہ کی گئی اور 20 مئی کو فرشتہ کی لاش منسک ہوئی حالت میں سڑک پر کوڑے کے ڈھیرسے ملی ۔

بات یہاں یہ ہے کہ آخر کب تک ہوا کی بیٹیاں ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بناتی رہیں گی ؟

کیا عورت ہونا اتنا بڑا گناہ ہے جس کی سزا فرشتہ جسی معصوم بچی کواپنی دس سال کی عمر میں دی گئی آخر کیوں ہمارا معاشرہ عورت کو ہوس کی نظر ہی سے دیکھتا ہے کیوں معصوم بچیوں کی زندگی ان کے بچپن میں تباہ کردی جاتی ہے۔

کیا اس لئے مائیں اپنی اولاد پیداکرتی ہیں کہ وہ ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بن سکے یا اس لئے کہ باپ اپنی بیٹی کی لاش کو اٹھا کر سڑکوں پر بیٹھ کر اپنی بیٹی کے قاتلوں کے لئے انصاف مانگتا پھرے

جب قصور کی زینب کے ساتھ زیادتی کی گئی اس سات سالہ بچی کو اپنی ہوس پوری کرنے کہ لئے اغواء کیا گیا۔اس دن بھی میرا دل خون کے آنسو رویا اور آج فرشتہ کے لئے بھی وہی ہی حالت ہے۔

ہمارا معاشرہ کبھی ترقی کر ہی نہیں سکتا کیونکہ یہاں تو ہماری آنے والی نسلیں ہی محفوظ نہیں ہے۔

معصوم فرشتہ کو دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ زمین پر فرشتے بھی ان حیوانوں سے محفوظ نہیں ہم اسلامی ملک میں رہتے ہیں جہاں رمضان کا مبارک مہینہ ہے کہتے ہیں رمضان میں شیطان قید کر لیا جاتاہے جب شیطان قید ہے تو وہ کون تھا جس نے معصوم دس سالہ فرشتہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔جس نے اپنی ہوس پوری کرنے کیلئے اس معصوم بچی کی روح تک نوچ ڈالی ان جسے درندوں سے تو شیطان بھی پنامانگتا ہوگا اور مجھے تو لگتا ہے کہ ہم انسان جانوروں سے بھی برے ہے کیونکہ جانوروں کے بھی کچھ اصول ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو زیادتی کا نشانہ نہیں بناتے اور ہم انسان ہو کر اس درجے انسانیت سے گر چکے ہیں کہ ہم اپنے انے والی نسل کو بھی اپنی ہوس کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ہمارے اداروں اور معاشرے کا یہ حال ہے کہ جب تک آواز نہ اٹھائی جائے ہمیں انصاف ہی نہیں ملتا کل جیسے زینب کا باپ اور اس کے گھر والے انصاف کے لئے سڑکوںپر نکلے تھے آج ایسے ہی غلام نبی سڑکوں پر بیٹھ کر اپنی دس سالہ فرشتہ کیلئے انصاف مانگ رہاہے ۔کیا ہمارے ہاں انصاف لینا اتنا مشکل کام ہے کہ ہم اپنے ساتھ ہوئی جانے والی زیادتی کے لئے سڑکوں پر بیٹھ کر مجرم کے لئے سزا کی بھیک مانگے۔کیا ہمارے معاشرے میں مظلوم کی آواز اٹھانے کیلئے کوئی نہیں ہے جو اس فرشتہ کے قاتلوں اور وحشی درندوں کو سرعام پھانسی دے سکے۔کہاں ہیں ہمارے ادارے کیوں وہ مجرم کے لے سزائیں سخت نہیں کرتے۔کیوں ہر بار ظلم کی انتہاہو جاتی ہے اور ظالم کو سزا دلوانے کیلئے ہمیں آواز اٹھانی پڑتی ہے۔کیوں ہم ان درندوں کو اسی سڑک پر لٹکا نہیں سکتے کہ دیکھنے والے عبرت کرلے کہ جوکوئی معصوم بچیوں ہوس کا نشانہ بنائے گا اسے سر عام پھانسی دی جائے گی ۔میرے خیال سے اس دن جب عمران نے قصور کی سات سالہ زینب کے ساتھ زیادتی کی تھی اس دن عمران کوسرعام پھانسی دی جاتی تو شایدآج فرشتہ کسی درندے کی ہوس سے بچ جاتی۔کیونکہ جہاں ادارے کمزور ہوں وہاں ان جسے وحشیوں کو سزا کے ڈر سے ہی جرایئم کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔

رمضان کا مبارک مہینہ ہے اور ہمااسلامی معاشرے میں رہ کر بھی اپنی بچیوں کو محفوظ نہیں کرسکتے ۔کیا ہماری آنے والی نسلیں اس ڈر سے جئیں گی کہ ان عزت اور زندگی ہی محفوظ نہیں ہے

کیا عورت اپنے گھر اور معاشرے میں محفوظ اور عزت دار زندگی گزار ہی نہیں سکتی

یا سب سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند کردی جائیں اور سب بچیوں کو گھر رکھ کر محفو ظ ر کھا جائے تاکہ ان کی عزت اور زندگی محفوظ رہ سکے۔
نہیں یہ کوئی حل تو نہیں ہوا میرے خیال میںہمیں اپنے بیٹوںکی تربیت پھر سے کرنی ہوگی تاکہ ہماری آنے والی عورت محفوظ رہ سکے۔

اس میں سب سے بڑا ہاتھ مائوں کا ہے جو بیٹا پیدا کرنے کے بعداسے ہر کام میں روکناٹوکنا بند کردتی ہے کہ تم تو لڑکے ہو تمہاری خیر ہے تم کچھ بھی کرو کوئی تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

ایک یہی جملہ اس مرد کے سوچنے کا انداز ہی بدل دیتا ہے ۔وہ اپنی زندگی میں جو بھی غلط کام کرتا ہے تو سمجھنے لگتا ہے کہ میں تو لڑکا ہوں میںکرسکتا ہوں جس کے نتیجے میں وہ ایک دن ہوا کی بیٹی کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنالیتا ہے۔

خدارہ اپنے بیٹوں کی تربیت ایسی کریں جواپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ ساتھ باہر کی عورتوںکی بھی عزت کریں ۔میری ان مائوں سے درخواست ہے کہ اپنی آنے والی بچیوں کو وحشی درندوںسے محفوظ رکھناہے تو اپنے بیٹوں کی تربیت اچھی سے اچھی کریں انہیں انسان بنائے انسانیت سکھایئں کہ زندگی کے کسی مقام پر وہ جوان بن کسی معصوم فرشتہ جیسی بچی کی زندگی تباہ نہ کرے۔

کیونکہ ادارے تب ہی کچھ کرسکتے ہیں جب ہمارا معاشرہ ٹھیک ہوگا تو کیوں نہ ہم قصور کی سات سالہ زینب اور اسلام آباد کی دس سالہ فرشتہ کے لئے اور بہت سی ایسی بچیوں کیلئے جو ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بنی اور انصاف کے لئے ان کے گھر بار والے سڑکوں پر نکلے ان کے اس کوشش کے ساتھ ساتھ ہم ان کے لئے آواز اٹھائیں اور آنے والے نسلوںکے لئے ہم اپنے ملک کو محفوظ بنائیں۔

آج ہم اگر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے آنے والے مردوں کی تربیت بہترین کریں گے تو ہم اپنی آنے والی ہوا کی بیٹیوں کیلئے اپنے معاشرے کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
ذرا سوچیئے ماں اولاد کی پہلی درس گاہ ہے ایسا درس دیں کے وہ اچھا انسان اور شہری بن سکے تاکہ ہم اپنے پاکستان کو پاک ملک بنا سکے ہم اپنی اولاد کی اچھی تربیت کر کے ہزاروں بچیوںکی زندگیاں محفوظ بناسکتے ہیں۔

بات تو سوچنے کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*