outline

شام، غذائی اشیا کے عوض مجبور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا انکشاف

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ سات سال سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں امدادی کارکنوں کی جانب سے غذائی اشیا کے عوض مجبور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے شرمناک واقعات کا انکشاف ہوا ہے۔

ایک برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے ان کی پارٹنر امدادی تنظیمیں شام کے جنوبی علاقوں میں امداد تقسیم کرتی ہیں۔ اس دوران بھوک کے ہاتھوں مجبور خواتین کو غذا کے عوض جنسی زیادتی پر مجبور کرنے کے واقعات تسلسل کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔

Image result for charity in women  syria

کچھ امدادی کارکنوں نے انکشاف کیا کہ امدادی مراکز میں جنسی استحصال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ کئی خواتین امداد کے لیے ان مراکز میں آنے پر تیار ہی نہیں کیوں کہ مشہور ہے کہ یہاں وہ خواتین آتی ہیں جو امداد کے عوض اپنا جسم دینے کے لیے تیار ہیں۔

وائسز فرام سیریا 2018ء نامی رپورٹ کے مطابق طلاق یافتہ اور بیوہ خواتین آسان ہدف سمجھی جاتی ہیں اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے۔

یہ واقعات تواتر کے ساتھ اس وقت سامنے آئے جب ایک امدادی تنظیم کی خاتون مشیر ڈینیل سپنسر کو خواتین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے آگاہ کرنا شروع کردیا اور بتایا کہ انہیں خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کے عوض جنسی خواہش پوری کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اس وقت تک امداد نہیں دی جاتی جب تک خواتین ان کی خواہش پوری کرنے پر رضا مند نہیں ہوجاتیں۔

اس حوالے سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی اداروں کا موقف ہے کہ وہ جنسی استحصال کے خلاف ہیں تاہم وہ اپنی پارٹنر تنظیموں کے متعلق ایسی معلومات نہیں رکھتے جب کہ ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شام میں امداد کے عوض جنسی استحصال کے شواہد موجود ہونے کے باوجود اقوام متحدہ نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے ترجمان نے جنسی زیادتی کے واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اجلاس میں جنسی استحصال کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*