outline
indian-women

بنک والوں نے اڑایا ہے میری غربت کا مذاق

دہلی(نیوزڈیسک) انڈیا کے دارالحکومت دہلی سے کوئی 70 کلو میٹر کے فاصلے پر آباد شہر میرٹھ کی رہنے والی شیتل یادو اور ان کے شوہر ضلعدار سنگھ یادو اس وقت چونک گئے جب انھوں نے اپنے جن دھن اکاؤنٹ میں تقریباً 100 کروڑ روپے کا بیلنس دیکھا۔
ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والے ضلعدار یادو نے بتایا کہ انھوں نے ایسی افواہیں سنی تھیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی جن دھن اکاؤنٹ میں پیسہ جمع کرا رہے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ بینک اکاؤنٹ وزیر اعظم کی سکیم کے تحت ملک بھر میں لاکھوں افراد نے کھلوائے تھے۔
یہ افواہ سن کر وہ اور ان کی اہلیہ بینک بیلنس چیک کرنے کے لیے پہلے ایکسس بینک کے اے ٹی ایم میں گئے۔ یہ اکاؤنٹ ان کی بیوی کے نام سے تھا۔ جب انھوں نے سلپ نکالی تو وہ چونک گئے اور انھیں اپنی آنکھوں پر بھروسہ نہیں رہا۔
ضلعدار سنگھ یادو کا کہنا تھا: ‘ہم جانتے ہیں کہ یہ افواہ تھی کہ مودی جی سب کے جن دھن اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرا رہے ہیں لیکن میری بیوی نے کہا کہ ہمیں اپنا بیلنس چیک کر لینا چاہیے۔ وہ اتوار کا دن تھا۔ ہم نے ایکسس بینک کے اے ٹی ایم میں چیک کیا، ہم حیران ہو گئے پھر ہم دو تین اے ٹی ایم میں گئے لیکن نتیجہ وہی تھا ہمارے کھاتے میں 99،99،99،339 روپے دکھائے جا رہے تھے۔’
ضلعدار سنگھ یادو نے کہا کہ میں نے اس بارے میں درخواست لکھ کر بینک والوں کو مطلع کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ملازمین نے درخواست قبول نہیں کی۔
انھوں نے مزید بتایا: ‘میں نے درخواست میں لکھا کہ میرے اکاؤنٹ میں اتنا بیلنس ہے اور اسے درست کرنے کی اپیل کی، لیکن بینک والوں نے جواب دیا کہ منیجر آئیں گے تبھی درست ہوگا۔ منیجر کا ٹرانسفر ہو گیا تھا۔ کسی نے میری مدد نہیں کی اور میں واپس آ گیا۔’
ضلعدار سنگھ یادو کے مطابق ان کے بینک میں صرف 611 روپے تھے۔
وہ بتاتے ہیں: ‘میں نے 19 تاریخ کو ہی پی ایم او آفس اور آئی ٹی محکمے کو اس بینک بیلنس کے بارے میں مطلع کیا تھا جس میں بینک کی مکمل معلومات بھی دی تھی۔’انھوں نے مزید بتایا: ‘بینک کے تین اہلکار سوموار کو میرے دفتر آئے۔ انھوں نے کہا کہ كے وائی سی نہیں تھا اس لیے غلطی ہو گئی۔ ساتھ ہی بینک والے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ان کی بیوی کا اکاؤنٹ ہولڈ پر رکھ دیا گیا تھا۔ میرے پاس اس کی مکمل معلومات نہیں ہے لیکن وہ اپنا دفاع کر رہے تھے اور میں نے میڈیا میں معلومات دے کر اپنا دفاع کیا ہے۔’
شیتل یادو کہتی ہیں کہ مجھے خط میں کیا لکھا گیا ہے اس بارے میں مکمل معلومات نہیں ہے۔ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہے کہ پریشانی ہوئی، اتنا شور شرابہ ہوا اور اس ایمانداری کا ہمیں کچھ انعام بھی نہیں ملا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*