outline

ہم ڈی ایچ اے والے-محمد حنیف

کل لاہور میں متاثرینِ ڈیج ایچ اے سٹی والوں کی دھنائی ہوتے دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا کہ ہم کراچی والے ڈی ایچ اے کے باسیوں کو کبھی کوئی مظاہرہ نہیں کرنا پڑا۔ ساتھ دل میں تھوڑا سا خوفِ خدا بھی جاگا کیونکہ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ڈی ایچ اے چور ہے۔ اس پر ظاہر ہے ڈی ایچ اے کے محافظین کو غصہ تو آنا ہی تھا۔ انھوں نے آگے سے کہا پکڑو، مارو ان کو۔ اس مار دھاڑ میں ایک خاتون کے ہاتھ سے بینر گر گیا جس پر نعرہ درج تھا، ’ڈی ایچ اے والو فوج کو بدنام کرنا بند کرو۔‘

ویسے تو میں نے کئی ستم ظریفوں کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ ہم پوری قوم ہی متاثرینِ ڈی ایچ اے ہیں لیکن میں نے شاذونادر ہی پاکستان کے کھاتے پیتے لوگوں کو ایسا احتجاج کرتے دیکھا ہے جس میں آگے سے لاٹھیاں کھانی پڑیں۔ ڈی ایچ اے سٹی والوں کے ساتھ ہوئی بھی صریحاً زیادتی ہے۔ ڈی ایچ اے میں پلاٹ خریدنے کے لیے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔ ڈی ایچ اے میں پلاٹ لینا آدھا لاٹری، آدھا جوا اور باقی جان جوکھوں کا کام ہے۔

ڈی ایچ اے لاہور سٹی والے ان سارے مراحل سے کامیاب گزرے۔ پچھلے آٹھ سال سے ان پلاٹوں کی قسطیں دیتے رہے اور اب پتہ چلا کہ وہ پلاٹ تو کہیں غائب ہو گئے۔ ایک مدبر سپہ سالار کے بھائی اور ان کے کچھ دوست ان لوگوں کے خوابوں کو گروی رکھوا کر خود دبئی، کینیڈا وغیرہ میں جا بیٹھے ہیں۔

ڈی ایچ اے کی انتظامیہ ویسے تو فوج ہے لیکن جیسا کہ کئی بار ثابت ہو چکا ہے کہ ایسا کہنے سے فوج کی بدنامی ہوتی ہے جو کہ ایک ناقابل ضمانت ٹائپ جرم ہے اور غداری کے زمرے میں آتا ہے اس لیے صرف ڈی ایچ اے کی انتظامیہ پر ہی اکتفا کرتے ہیں انھوں نے انتہائی فراخدلی سے پیشکش کی ہے کہ وہ ان متاثرین کو پیسے واپس کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن متاثرین بضد ہیں کہ میں تے پلاٹ ای لیساں۔

متاثرین کا خیال ہے کہ ان کو پلاٹ وقت پر مل جاتے تو ان کی قیمت چار گنا ہو چکی ہوتی۔ ان کو بیچ کر دو پلاٹ اور لیتے اور یہ سلسلہ جاری رہتا تو نسلیں گھر بیٹھ کر کماتیں۔ شاید یہ میری عمر یا کلاس کا مسئلہ ہے۔ جہاں چار مرد حضرات اکٹھے ہوتے ہیں پلاٹوں کی خریدوفروخت کی بات شروع ہو جاتی ہے۔

ابھی چند ماہ پہلے ایئرپورٹ کے سموکنگ ایریا میں کسی سے ماچس مانگی۔ ابھی سگریٹ آدھا بھی نہیں پیا تھا کہ میرے مہربان نے ڈیفینس ملتان اور ڈیفینس بہالپور کا تفصیلی جائزہ اور موازنہ پیش کرنا شروع کر دیا۔ کراچی ڈیفینس میں میری رہائش ہے۔ اس کے ایک طرف سمندر ہے اور دوسری طرف ایک کمرشل ایریا۔ کمرشل ایریا میں چار برس پہلے تک درزیوں، حجاموں، موٹر مکینیکوں اور فرنیچر والوں کی دکانیں تھیں اب وہاں صرف اور صرف پراپرٹی ڈیلروں کی دکانیں ہیں۔ ایک دن چلتے چلتے گننا شروع کیں اور ڈیڑھ سو پر پہنچ کر رک گیا اور اپنے آپ سے پوچھا کہ چریا ہوا ہے کیا؟

کچھ سنجیدہ قسم کہ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ پہلے پاکستان میں وڈیروں کی حکومت تھی۔ اس کے بعد کوئی 25 سال تک صنعت کاروں اور تاجروں کا راج تھا۔ نئے پاکستان کے ساتھ ہی ملک میں پراپرٹی ڈیلروں کا راج آ گیا ہے۔ میرے کمرشل ایریا میں شام کے وقت فائلیں بیچنے والوں، فائلوں کی رسیدیں خریدنے والوں اور پلاٹوں کے بارے میں حساس معلومات کا تبادلہ کرنے والوں کا اتنا رش ہوتا ہے جتنا سڑک کے اس پار عبداللہ شاہ غازی کے لنگر پر بھی نہیں ہوتا۔

قائداعظم ہمیں اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کا شاندار نعرہ دے گئے تھے۔ آج میرا ڈی ایچ اے دیکھتے تو پکار اٹھتے پلاٹ، پلاٹ اور صرف پلاٹ

بشکریہ بی بی سی اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*