outline

خیالی باتیں۔ غلام مہدی

 خدا خدا کر کے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔سال ہا سال سے یہ تاثر دیا جارہا تھا جب’ انصاف پسندوں‘ کی حکومت قائم ہو جائے گی تو ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔نئے حکمران ملکی ترقی اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے مختصر اور طویل دورانئے کے منصوبے بنا رہے ہیں جن کے ’دوررس ‘ اثرات جلد یا بدیر سامنے آمنا شروع ہو جائیں گے۔ملکی ترقی کے حوالے سے عوام کی وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ہمنواؤں سے جو توقعات ہیں ان کو خیالی باتو ں کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حکومت کی طرف سے قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ ملکی خزانہ خالی ہے، ملک پر اربوں ڈالرقرض کا بوجھ ہے اس لئے عوام قومی خزانے کو بھرنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔مگر عوام یہ چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح انہیں قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے اس مرتبہ خواص کو نچوڑا جائے جن میں سے بہت سارے تحریک انصاف اور حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرف سے ڈیم بنانے کے لئے چندہ مہم زوروں پر ہے ۔ مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ڈیم فنڈ میں دھڑادھر حصہ ڈال رہے ہیں مگر وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اس فنڈ میں ایک روپیہ تک دینے کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔عوام نیازی صاحب سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے سے اخلاص ثابت کرنے کے لئے اربوں روپے مالیت کا بنی گالہ والا محل بیچ کر رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرا دیں کیونکہ وہ ارب یا شاید کھرب پتی ہیں اورشنیدہے کہ’ریاست بنی گالہ‘ کے علاوہ اسلام آباد میں ان کے پاس رہائشی فلیٹ ہے جس میں وہ با آسانی رہ سکتے ہیں۔عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ منسٹر انکلیو اسلام آباد کے تمام قیمتی بنگلوں کو کرائے پر چڑھا کر حاصل ہونے والی آمدنی قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اوروزراء کو پارلیمنٹ لاجزکی رہائش پر اکتفا کرنے کا حکم دیا جائے۔عوام کی خواہش ہے کہ تحریک انصاف کے تمام ارکان اسمبلی اقتدار کے پانچ سالہ دورانئے کی تنخواہ اور دیگر مراعات نہ لینے کا اعلان کریں کیونکہ مقننہ کے ارکان میں سے شاید ہی کوئی ایساہو جو دیہاڑی دار ہو اور جس کے گھر والوں کے لئے جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے دال ساگ کا انتظام کرنا ممکن نہ ہو۔ایسا کرنے سے اربوں روپے کی بچت ہو گی اور بہت سارے قومی وسائل ضائع ہونے سے بچ جائیں گے۔عوام کا خیال یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ اپنی جماعت کے کروڑ اور ارب پتی ارکان کو حکم دیں کہ وہ خالی خزانے کو بھرنے کے لئے اپنے اثاثوں کا دس فیصد قومی خزانے میں جمع کرائیں تا کہ ملک سے ان کے اخلاص کا ثبوت مہیا ہو سکے۔عوام کے حافظہ میں یہ بات محفوظ ہے کہ زمان پارک لاہور میں بھی وزیر اعظم کاایک ’مکان‘ ہے جس کی مالیت اربوں نہیں تو کروڑوں میں ضرور ہو گی،عوام کی پر زور فرمائش ہے کہ وزیر اعظم اگر ملک و قوم سے مخلص ہیں تو اس مکان کی فروخت سے حاصل شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کرا دیں۔ عوام کا کہنا تو یہ بھی ہے کہ اتحادیوں کو خوش کرنے کے لئے وزراء اور مشیروں کی فوج ظفر موج کا بھاری بھرکم بوجھ قومی خزانے پر لاد کر ان کے خون پسینے کی کمائی کو شیر مادر نہ سمجھا جائے۔

عوام ستر سال سے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث ان گنت مشکلات کا شکار ہیں۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ مقتدرقوتیں ہر دور میں دفاع، خارجہ اور داخلی محاذ پر براہ راست پالیسی سازی کرتی رہی ہیں یا ان کی مرضی سے پالیسیاں بنائی جاتی رہی ہیں۔یہ ناقص پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک اس وقت گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔دہشت گردی، عدم استحکام، کرپشن، برا طرز حکمرانی، ڈگمگاتی معیشت،بد امنی اور کمزور جمہوریت کی بنیادی وجہ غیر جمہوری قوتوں کی طرف سے پالیسی میکنگ کے عمل میں ضرورت سے زیادہ مداخلت ہے۔ عوام کا یہ بھی خیال ہے کہ اب وقت آ چکا ہے وزیر اعظم راولپنڈی اور آبپارہ والوں کو واضح اور دوٹوک الفاظ میںیہ پیغام دیں کہ ماضی میں آپ کی طرف سے قومی معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت اورپرانی سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کر کے راتوں رات نئی سیاسی جماعتیں بنانے اوراپنی من پسند جماعتوں کو اقتدار میں لانے اور ناپسندیدہ جماعتوں کو اقتدار سے نکالنے کی منصوبہ بندی کے باعث ملک شدید مشکلات کا شکار ہے لہذا اس نا پسندیدہ روش کو ترک کر دیں ۔ ان کی خود کو برتر سمجھنے اور سویلین لیڈرشپ کو نااہل تصور کرنے جیسی ذہنیت کی وجہ سے ملک کوپہلے ہی ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ عوام سوچتے ہیں کہ سیاسی کلاس کے وابستگان کو ہمیشہ میڈیا ٹرائل اور احتساب کے کند خنجرسے ذبح کرنے کی کوشش کی گئی مگر سول ملٹری بیوروکریسی اور وابستگان عدل کے احتساب سے متعلق کوئی خاص اقدام نہیں کیا گیااس لئے ان اداروں کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔عوام چاہتے ہیں کہ دفاعی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ وہ جان سکیں دفاع کے نام پر جو کھربوں روپیہ ہر سال بجٹ میں مختص ہوتا ہے اس کا درست استعمال ہو رہا ہے یا یہ پیسہ بھی ناقص منصوبہ بندی کی بھینٹ چڑھ کر ضائع ہو جاتاہے۔ عوام اب بیتابی سے اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب ان کی تکالیف کا باعث بننے والی ناقص پالیسیوں کو بدلنے کے لئے جوہری اقدامات کئے جائیں گے۔

پاکستان کے عوام لامحدود دکھوں کا شکار ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ چند سالوں میں اپنی تقریروں کے ذریعے توقعات کا کوہ ہمالیہ کھڑا کر دیا ہے۔اس تناظر میں عوام ان سے بھر پور مطالبہ کرتے ہیں کہ منی بجٹ کے نام پر غریب عوام پر ٹیکسوں کا جو بوجھ ڈالا ہے اس سے مہنگائی کا جو طوفان آئے گا اس کی روک تھام کے لئے کوئی سبیل کریں۔ پانچ سال کے لئے تمام اشیائے ضرورت بالخصوص اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو منجمندکردیاجائے اورطے شدہ قیمت سے زیادہ ریٹ پر فروخت کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اوراشیاء کی قیمتوں کو بین الاقوامی منڈی میں آنے والے اتار چڑھاؤ سے منسلک کرنے کی بجائے مقامی سطح پر قیمتوں کا میکانزم بنایا جائے۔ابھی یہ کالم مکمل نہیں ہوا تھا کہ آج کے اخبار میں ایک تازہ ترین خبر نظر سے گزری جس میں بتایا گیا ہے کہ سادگی مہم کا اطلاق ارکان پارلیمنٹ پر نہیں ہو گا ان کی مراعات بر قرار رہیں گی۔

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
نوٹ
یہ سب خیالی باتیں ہیں وزیر اعظم کو ان غیر ضروری باتوں کی طرف توجہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ صرف وہی کام کریں جن کا مشورہ ان کے وزیر مشیر انہیں دیں۔

Email: gmahdi01@yahoo.com Cell: 03226717701

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*