outline

موٹر سائیکلیں بیچ کر ہیلی کاپٹر خرید لیں

وزیراعظم عمران خان وزیراعظم ہائوس سے بنی گالہ جانے کے لیئے ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں اور اسے شاہ خرچی قرار دیتے ہوئے ایک عرصے سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا مگر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس بحث کو بہت دلچسپ بنا دیا ہے

ایک ٹاک شو کے دوران جب اینکر نے ان سے ہیلی کاپٹر کے شاہانہ سفر سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کا سفر تو بہت سستا پڑتا ہے اور پھر خود ہی بتا دیا کہ ہیلی کاپٹر کا سفر 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر پڑتا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات کے اس مضحکہ خیز دعوے کر لیکر سوشل میڈیا پر جگت بازی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ۔کسی نے کہا میں اپنی موٹر سائیکل بیچ کر ہیلی کاپٹر خریدنے لگا ہوں تو کسی نے یہ تجویز پیش کی کہ رینٹ اے کار کی سہولت دینے والی کمپنیوں اوبر اور کریم کو ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنی چاہئے کیونکہ ہیلی کاپٹر کا سفر بہت سستا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم کے پاس چار ہیلی کاپٹر ہیں جنہیں استعمال کرنا ان کا استحقاق ہے

لیکن سوال یہ ہے بنی گالہ اور وزیراعظم ہائوس کا کتنا فاصلہ ہے اور واقعتا ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنے جانے پہ کتنا خرچ آتا ہے ؟

گوگل کے نقشے پر عمران خان کی بنی گالا میں موجود رہائش گاہ سے پاک سیکرٹیریٹ کا فاصلہ معلوم کرنے کی کوشش کریں تو وہ 15 کلومیٹر بنتا ہے۔ ہوابازی کی زبان میں یہ فاصلہ 8 ناٹیکل میل بنتا ہے

جو ہیلی کاپٹر بنی گالا آتا جاتا ہے وہ آگسٹا ویسٹ لینڈ کمپنی کا ہیلی کاپٹر ہےجسے  اے ڈبیلو 139  کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ کے سات ہیلی کاپٹر حکومتِ پاکستان کی ملکیت ہیں جن میں دو سویلین ہیلی کاپٹر وزیرِاعظم کے زیرِاستعمال رہتے ہیں

اس ہیلی کاپٹر کا فی ناٹیکل میل خرچ 13 ڈالر یعنی 1600روپے بنتا ہے۔ اسے آٹھ سے ضرب دیں تو یہ خرچ 104 ڈالر بنتا ہے جو پاکستانی روپوں میں 12800 روپے سے زیادہ بنتا ہے۔

یہ اعدادوشمار اپریل 2018 کے حساب سے دستیاب ہیں جن میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر اور جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے کو بھی مدِنظر رکھیں تو اس میں اضافہ ہی ہو گا کمی نہیں۔

وزیراعظم کی آمدورفت کے لیے ہیلی کاپٹر ہیلی پوٹ سے جو کہ سپورٹس کمپلیکس کے قریب واقع ہے وہاں سے پرواز کرتا ہے اور بنی گالہ جاتا ہے بنی گالہ سے مسافروں کو لے کر وزیراعظم سیکریٹیریٹ جاتا ہے اور یوں یہ سفر وزیراعظم سیکریٹیریٹ سے بنی گالہ تک کا سفر نہیں بلکہ اس سے زیادہ سفر بنتا ہے۔ جس حساب سے اس پر اٹھنے والے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ہوا بازی کے ماہرین بتاتے ہیں کہ فی ناٹیکل میل خرچے کی بات تو تب آتی ہے جب ہیلی کاپٹر اڑتا ہے ورنہ ہیلی کاپٹر کو تو صرف اسٹارٹ کرنے پر ہی لاکھوں روپے کا خرچہ آتا ہے چاہے اس پر سفر کریں یا نہ کریں

اس کے علاوہ ہیلی کاپٹر کی مینٹی نینس اور عملے کے اخراجات بھی کچھ کم نہیں ہیں – یہ تاثر بھی درست نہیں کہ ہیلی کاپٹر پر جانے سے سکیورٹی کی مد میں تعینات کیئے جانے والے اہلکاروں کے اخراجات نہیں کرنا پڑتے – ہیلی کاپٹر کے اڑنے سے پہلے روٹ پر جگہ جگہ سینکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات کیئے جاتے ہیں تاکہ ہیلی کاپٹر کو تخریب کار نشانہ نہ بنا سکیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*