تازہ ترین
outline
Jutice Nasir ul mulk

پارلیمانی بالادستی کا قائل انگلش جج

نگران وزیراعظم نامزد ہونے والے جسٹس (ر) ناصر الملک کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے ہے اور ان کا شمار علمی و ادبی ذوق رکھنے والی شخصیات میں ہوتا ہے

جسٹس ناصر الملک 17 اگست سنہ 1950 کو سوات کے علاقے مینگورہ میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے -سنہ 1993 میں اُنھیں صوبہ خیبر پختونخوا کا ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیا گیا اور سنہ 1994 میں اُنھیں پشاور ہائی کورٹ کا جج بنا دیا گیا۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک ایک دھیمے مزاج اور سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔ ملک کے نامور وکلا جب بھی سپریم کورٹ میں ان کی عدالت میں پیش ہوتے تو وہ قانون سے ہٹ کر ایسی کوئی بات نہیں کرتے تھے جو ناصر الملک کو ناگوار گزرتی ہو۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک بھی اعلی عدلیہ کے ان ججز میں شامل تھے جنھوں نے سنہ 1999 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کو سنہ 2004 میں پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا جبکہ ایک سال کے بعد اُنھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک سپریم کورٹ کے اُن ججوں میں شامل ہیں جنھیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھروں میں نظر بند کر دیا تھا تاہم اُنھوں نے سنہ 2008 میں ملک میں عام انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اُس وقت کے چیف جسسٹس عبدالحمید ڈوگر سے دوبارہ اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔

ناصر الملک اس چودہ رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس عدالتی فیصلے کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کے بہت سے ججز کو اپنے گھر جانا پڑا تھا جنہوں نے پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لیا تھا۔

نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کے بعد قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھی رہے ہیں۔

جسٹس ناصر الملک مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد چیف جسٹس بنے تھے اور ایک برس سے زیادہ عرصے تک اس عہدے پر فائز رہے تھے
جسٹس ناصر الملک نے سپریم کورٹ کے اس بینچ کی سربراہی کی تھی جس نے پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں ایک پنچایت کی طرف سے ایک خاتون مختاراں مائی کو ونی کرنے کے فیصلے کو خلاف قانون قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نے اس سات رکنی بیچ کی بھی سربراہی کی تھی جس نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو 26 اپریل 2012 میں اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کے مقدمے میں مجرم قرار دیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑا تھا۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نے اس عدالتی کمیشن کی بھی سربراہی کی تھی جس نے حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی سے متعلق تحقیقات کی تھیں۔

پاکستان تحریک انصاف کو بڑی امید تھی کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عدالتی کمیشن نے ان انتخابات میں الیکشن کمیشن کی کچھ بےضابطگیوں کی نشاندہی ضرور کی تھی لیکن مجموعی طور پر ان انتخابات کو شفاف اور قانون کے مطابق قرار دیا تھا۔

اس عدالتی کمیشن کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔

قانون کے متعین کردہ دائرہ کار سے باہر نہ نکلنے کے باعث جسٹس ناصر الملک کو “انگلش جج “ کہا جاتا تھا وہ اپنے فیصلوں میں برملا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ عدالتیں پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کو کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*