تازہ ترین
outline
Featured Video Play Icon

چینی سبسڈی کے بعد پنجاب حکومت کا ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

چینی سبسڈی اسکینڈل کے بعد پنجاب حکومت کی ایک اور سبسڈی اسکیم میں خورد برد کا انکشاف ہوا ہے۔”آؤٹ لائن“کو دستیاب دستاویزات کے مطابق پنجاب کے محکمہ زراعت کی جانب سے 2ارب 37کروڑ روپے ہتھیانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے

پنجاب حکومت نے 2015-16اور2017-18کے دوران ایشیئن ڈویلپمنٹ بنک کے تعاون سے کسانوں میں 6000لینڈ لیولر مشینیں تقسیم کیں۔پنجاب کا قابل کاشت رقبہ 27ملین ایکڑ ہے اور ماہرین کے مطابق اس زمین کو لیزرٹیکنالوجی کے ذریعے ہموار کرنے کی غرض سے کم ازکم 22500لینڈ لیولر مشینیں درکارہیں جبکہ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اب تک 11500لینڈ لیولر مشینیں فراہم کی جا چکی ہیں۔موجودہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ کسانوں کولینڈ لیولر مشینیں خریدنے کے لیئے سبسڈی دی جائے۔اس مد میں 2ارب 37کروڑ روپے مختص کیئے گئے اور فیصلہ کیا گیا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے کسانوں میں 9500لینڈ لیولر مشینیں تقسیم کی جا ئیں گی اور فی مشین 2لاکھ 50ہزار روپے کی سبسڈی دی جائے گی

حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں پری کوالیفکیشن کے لیئے اشتہار دیا اور ایسی کمپنیوں سے درخواستیں مانگی گئیں جو لیزر لینڈ لیولر مشینیں تیار کررہی ہیں۔31کمپنیوں نے درخواستیں دیں اور ان میں سے 19کمپنیوں کو پری کوالیفائی کیاگیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر 2019ء میں یہ اشتہار دیئے جانے تک اوپن مارکیٹ میں لینڈ لیولر مشین کی کم از کم قیمت 2لاکھ 90ہزار روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ قیمت 5لاکھ روپے تھی اور مشینری کی تخصیص کی بنا پر قیمت میں فرق تھا مگر جب محکمہ زراعت نے 31کمپنیوں میں سے19فرموں کو پری کوالیفائی کیا تو لیزر لینڈ لیولر مشین کی کم ازکم قیمت 4لاکھ 65ہزار روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ قیمت 6لاکھ 95ہزار روپے طے کی گئی۔باالعموم جب حکومت خریداری کرتی ہے تو ریٹ اوپن مارکیٹ سے کم ہوتا ہے مگر حیرت انگیز طور پر محکمہ زراعت کی ملی بھگت سے لیزر لینڈ لیولر مشین کی قیمت بڑھا دی گئی۔

ایک اور عجیب و غریب بات یہ ہے کہ ایک ہی specificationکی لینڈ لیولر مشین کے لیئے ایک فرم کی قیمت کچھ اور ہے جبکہ دوسری کمپنی کی قیمت کچھ اور ہے۔مثال کے طور پر 950کلو وزن کی حامل لینڈ لیولر مشین جس کا سائز 8فٹ ہے،یہ میسرز فالکن ٹریڈرز سمیت بعض کمپنیاں 5لاکھ 20ہزار روپے میں دے رہی ہیں جبکہ میسرز کراس فیلڈنامی فرم اسی specificationکا لیزر لینڈ لیولر 6لاکھ 95ہزار روپے میں دے رہی ہے اور محکمہ زراعت نے دونوں کا ریٹ منظورکرلیا ہے۔پری کوالیفکیشن کے عمل میں بے قاعدگیوں کے الزامات تو ہیں ہی مگر اس سے بڑی کرپشن اور کیا ہوگی کہ سبسڈی کی مد میں رکھے گئے 2ارب 37کروڑ میں سے ایک پائی بھی کسانو ں تک پہنچنے کی کوئی توقع نہیں۔اوپن مارکیٹ میں لیزر لینڈ لیولر 2لاکھ 95ہزار روپے کا ہے اگر حکومت 2لاکھ 50ہزار سبسڈی دے تو کسان صرف 40ہزار روپے کی ادائیگی کرکے یہ مشین خرید سکتا ہے مگر کسانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں نے پری کوالیفکیشن کے دوران قیمتیں بڑھا دی ہیں اور اب 4لاکھ 65ہزار روپے کا لینڈ لیولر خریدنے کے لیئے کسان کو سبسڈی کے باوجود 2لاکھ 70ہزار روپے کی ادائیگی کرنے پڑے گی کیونکہ 26فیصد ٹیکس لاگو ہوگا تو سبسڈی میں سے 65ہزار کی کٹوتی کے بعد حکومت ایک لاکھ95ہزار ہی ادا کرے گی۔حکومتی اسکیم میں حصہ لیکر قرعہ اندازی کے ذریعے لیزر لینڈ لیولر لینے سے بہتر ہے کہ کسان اوپن مارکیٹ سے خرید لے کیونکہ سبسڈی کی مد میں رکھی گئی رقم تو ہرصورت محکمہ زراعت کو جونکوں کی طرح چپکے اس مافیا کو جانی ہے۔

ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن 19فرموں کو پری کوالیفائی کیا گیا ہے ان میں سے بیشتر آناً فاناً ایگری کلچر انجینئرنگ کے شعبے میں آئیں اور کسی کی مشینری کوالٹی کنٹرول کے کسی سرکاری ادارے سے تصدیق یافتہ نہیں۔ایک موقر انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جب کرپشن کے اس منصوبے کی تفصیل سامنے آئی تو حکومت پنجاب نے خانہ پری کی غرض سے 17اپریل 2020ء کو ملتان ایگری کلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل (فیلڈ)اور چیف پلاننگ اینڈ ایوالیوایشن سیل کو بھی بطور ممبر شامل کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*