تازہ ترین
outline
spy chronicles 4

جنرل (ر) درانی اور دولت کی کتاب کی تلخیص و ترجمہ ،آخری قسط

جنرل (ر)دُرانی کے خیال میں کارگل آپریشن پرویز مشرف کا احمقانہ اقدام تھا ۔کارگل آپریشن کے بعد پرویز مشرف نے جنرل (ر)اسد درانی کو صلاح مشورے کے لیئے بلایا اور پوچھا کہ اب کیا ہو گا ؟جنرل (ر) درانی نے کہا کہ جتنا میں نوازشریف کو جانتا ہوں وہ جس طرح جنرل اسلم بیگ ،جنرل آصف نواز جنجوعہ اور جنرل جہانگیر کرامت کیساتھ راضی نہ تھے اسی طرح پرویز مشرف کیساتھ بھی راضی نہیں رہ پائیں گے ۔1998ء میں جب بھارت نے پوکھران نے ایٹمی دھماکے کیئے تو جوابی ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کرتے وقت جنرل جہانگیر کرامت نے وزیراعظم نوازشریف سے کہا ،ہم نے تو عسکری اعتبار سے اپنی رائے دی ہے مگر اس اقدام کے معاشی اور سیاسی ردعمل کے بارے میں آپ نے سوچنا ہے ۔لیکن جہانگیر کرامت کو بھی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ پہلے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا ۔میں نے پرویز مشرف کو بتایا کہ نوازشریف موقع ملتے ہی تم سے نجات پانے کی کوشش کرے گا ۔جب 12اکتوبر 1999ء کو اقتدار پر قبضہ کرلیا گیا تو پرویز مشرف نے ایک ایک کرکے اپنے ان تمام ساتھیوں کو ٹھکانے لگا دیا جن سے ملکر اقتدار پر قبضہ کیا گیا تھا ۔جنرل عزیز کو فور اسٹار جنرل تو بنا دیا گیا مگر فوج کے سسٹم سے باہر کردیا گیا ،جنرل محمود کو امریکیوں کے کہنے پر نکال باہر کیا گیا اور پھر جنرل عثمانی کا بھی یہی General Jehangir Karamatحال ہوا ۔

pervez musharraf
کتاب مرتب کرنے والے صحافی آدتیہ سنہا کے سوال کرنے پر ایس او دولت بتاتے ہیں کہ وہ پاکستانی سیاستدانوں میں بینظیر بھٹو سے سب سے زیادہ متاثر ہیں ،وہ کرشماتی شخصیت کی مالک تھیں اور جب انہیں قتل کیا گیا تو مجھے بیحد افسوس ہوا۔اس پر جنرل (ر)اسد درانی ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو بنگلہ دیش بحران کا آرکیٹیکٹ سمجھاجاتا ہے ،حتی ٰ کہ بھٹو کے قریبی ساتھی بھی اسے ایک فاشسٹ حکمران سمجھتے ہیں ۔بینظیر بھٹو کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں،میں نے ان کے ساتھ کام کیا ۔بینظیر نے اپنے دورِحکومت میں غریب آدمی کے لیئے کبھی کچھ نہیں کیا ۔پہلے دورِحکومت میں تو شاید ان کے شوہر بدعنوان تھے مگر دوسرے دورِ حکومت میں تو بینظیر خود کرپٹ ہو گئیں ۔میں ویسے بھی سیاستدانوں کا شیدا نہیں مگر زرداری ،بینظیر اور نوازشریف تو قومی خزانے کی بالائی تک اتار کے کھا گئے ۔اس کے بعد ایس او دولت نے نوازشریف کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں بھارت میں فیورٹ سمجھا جاتا ہے تو جنرل (ر)اسد درانی پھر بھڑک اٹھے اور کہنے لگے مجھے معلوم ہے کہ میاں نوازشریف کیوں فیورٹ ہے اس لیئے کہ جب سے یہ شخص اقتدار میں آیا یہ ایک فون کال کی مار ہے ،اس نے کبھی سبق نہیں سیکھا ۔

پاکستان کا آئندہ وزیراعظم کون ہو گا ؟کتاب میں اس حوالے سے بھی حیران کن انکشافات کیئے گئے ہیں۔’’را‘‘ کے سابق چیف ایس اے دولت کہتے ہیں کہ وہ اپنے پاکستانی دوستوں کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ کیا ہو نے جا رہا ہے ؟لندن میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) احسان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ،عمران خان آرہا ہے مگر چند ہفتوں بعد میز کے گرد بیٹھے تمام پاکستانی دوستوں کا خیال تھا کہ عمران خان کے آنے کا کوئی امکان نہیں ۔پاکستانی دوستوں سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر میرا خیال ہے کہ شاہد خاقان عباسی ہی 2018ء کے بعد پاکستان کے وزیراعظم ہونگے کیونکہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ہولڈ ہے ۔عمران خان لاہور اور چند دیگر شہروں کے علاوہ کہیں سے کامیابی حاصل نہیں کر پائیں گے ۔شاہد خاقان عباسی میاں صاحب کا انتخاب ہیں جب میں نے یہ سوال کیا کہ نوازشریف عباسی کو اپنے بھائی پر کیوں ترجیح دیں گے تو جواب ملا ،اس لیئے کہ عباسی کبھی نوازشریف کی کمر میں چھرا نہیں گھونپے گا ۔اس پر کتاب مرتب کرنے والا صحافی آدتیہ سنہا ہوچھتا ہے ،تو کیا نوازشریف اپنے بھائی سے خوف زدہ ہے کہ وہ اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپے گا ؟ایس او دولت ہنتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر اس نے خنجر گھونپا بھی تو گھاؤ زیادہ گہرا نہیں ہو گا ۔اس پر جنرل (ر) اسد درانی نے بھی ایس او دولت کے تجزیئے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی بہت کایاں آدمی ہے اور کہتا رہتا ہے کہ میں نوازشریف کی پالیسیوں کی پیروی کروں گا ۔

kalbhushan
آئی ایس آئی اور ’’را‘‘ کے چیف مل بیٹھیں اور کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بات نہ ہو ،یہ کیسے ممکن ہے ۔جنرل (ر)اسد درانی نے کلبھوشن کے حوالے سے کہا کہ جب ایرانی صدر ہمارے معزز مہمان تھے تو اس وقت کلبھوشن کی گرفتاری ظاہر نہیں کرنی چاہئے تھی اورہزیمت کی بات یہ ہے اس لغزش کا مظاہرہ آرمی چیف کی طرف سے کیا گیا ۔جنرل (ر) درانی کے خیال میں اگرچہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کی طرف مس ہینڈل کیا گیا ہے مگر آخر کار اسے بھارت کو واپس کر دیا جائے گا ۔بہتر یہ ہوتا کہ کلبھوشن سے تمام ظاہری اور مخفی فائدے اٹھانے کے بعد ’’را‘‘ کو بتا دیا جاتا کہ تمہارا بندہ ہمارے پاس ہے اور پھر کسی مرحلے پر موزوں قیمت وصول کرکے اسے بھارت کے حوالے کر دیا جاتا۔اس موقع پر بلوچستان کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے جنرل (ر) درانی نے کشمیر سے اس صورتحال کا موازنہ کیا تو ایس اے دولت نے خوشی کا اظہار کیااور کہا لگتا ہے آج جنرل صاحب اچھے موڈ میں ہیں اس لیئے انہوں نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ایشو نہیں اٹھایا ۔اس موقع پربلوچستان میں مداخلت کے لیئے افغانستان میں قائم بھارتی قونصلیٹ استعمال ہونے کی بات ہوئی تو جنرل (ر)درانی نے کہا کہ اگر بھارتی قونصل خانوں کا اس مقصد کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے تو ہمیں خوشی ہوگی لیکن ان کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنی چاہئے ۔پاکستان میں بعض بے خبر لوگ کہتے ہیں کہ افغانستان میں 9یا 18بھارتی قونصلیٹ کام کر رہے ہیں یہاں تک کی یہ تعداد 23تک جا پہنچتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کا ایک سفارتخانہ اور 4قونصل خانے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارتی قونصل خانوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہے اسی طرح بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے بھی مبالغہ آرائی کی جاتی ہے ۔

اس کتاب میں ممبئی حملوں ،حافظ سعید اور مولا مسعود اظہر جیسے حساس موضوعات پر بھی بات کی گئی ہے ۔ایس او دولت نے کہا کہ جب بھی ہم مولانا مسعود اظہر کی بات کرتے تھے تو جنرل احسان کہتے ،ہاں وہ دہشتگرد ہے لیکن جانے کہاں چھپا ہے ۔اس پر جنرل (ر) درانی کہتے ہیں کہ اگر مولانا مسعود اظہر پاکستان اور بھارت دونوں کو مطلوب ہے تو پھر یہ کوئی ایشو نہیں ہونا چاہئے اور چین کو اس معاملے پر اقوام متحدہ میں ویٹو کرنے کی ضرورت نہیں۔میرا خیال ہے کہ چین پاکستان کی مدد کرنے کے لیئے مسعود اظہر کے خلاف کارروائی کو ویٹو تو کردیتا ہے مگر اسے اس حوالے سے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

کتاب کے آخر میں جنرل (ر) درانی اور ایس اے دولت نے مشترکہ طور پریہ تجاویز دیں کہ آئی ایس آئی اور ’’را‘‘ کے افسروں کی پوسٹنگ اعلانیہ ہونی چاہئے ۔دہلی کے پاکستانی ہائی کمیشن میں آئی ایس آئی کا کوئی افسر تعینات ہوتا ہے یا پھر اسلام آباد میں ’’را‘‘ کے کسی افسر کی پوسٹنگ ہوتی ہے تو نہ صرف سب کو پتہ ہونا چاہئے بلکہ ان آئی ایس آئی اور ’’را‘‘ کے ان افسروں کو متعلقہ حکام سے ملاقاتیں کرنی چاہئیں ۔اسی طرح ایجنسیوں کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہونا چاہئے ۔اس حوالے سے بات چیت کے دوران ایس او دولت نے اچانک پینترا بدل کر جنرل (ر) درانی سے سوال کیا کہ ممبئی حملوں کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی بھارت جائیں گے مگر وہ بھارت نہ آئے ،کیوں ؟جنرل (ر) درانی نے کہا کہ مجھے تفصیلات کا علم تو نہیں لیکن یہ آصف زرداری کا احمقانہ اعلان تھا کہ فوج ڈی جی آئی ایس آئی کو بھارت بھیجے ۔اسے(آصف زرداری) چاہئے تھا کہ چیف صاحب (آرمی چیف )کو بتاتا کہ میں یہ بیان دینا چاہتا ہوں چیف رضامند ہو جاتے تو پھر کسی موزوں شخص کو بھیج دیا جاتا ۔اگر آپ نے ڈی جی آئی ایس آئی کا نام ظاہر کر دیا تو پھر ساری توجہ اس پر مرکوز ہو جاتی اور پھر یہ آئندہ کے لیئے بھی ایک مثال بن جاتی

ختم شد 

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*