تازہ ترین
outline
Spy chronicles

جنرل (ر) درانی اور دولت کی کتاب کی تلخیص و ترجمہ ،تیسری قسط

جنرل (ر) درانی آئی ایس آئی کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کشمیر میں تحریک شروع ہونے کے بعد ہم نے پیش گوئی کی تھی کہ بھارت کی طرف سے فوج کو سرحدوں پر لانے کا مطلب جنگ کی تیاری کرنا نہیں اور اس پر مجھے اپنی کمر تھپتھپانی چاہئے ۔جنرل (ر)درانی کے خیال میں آئی ایس آئی کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کشمیر کی تحریک کب تک چلے گی اس بارے میں صیح اندازہ نہیں لگایا جا سکا ۔اس طرح کے معاملات باالعموم 6ماہ یا ایک سال تک چلتے ہیں مگر جب یہ تحریک پائیدار ثابت ہوئی تو ہم حیران رہ گئے اور سوچنے لگے کہ اب اسے کس طرح سے ہینڈل کریں ۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ معاملات اس قدر آؤٹ آف کنٹرول ہو جائیں کہ جنگ شروع ہو جائے جو کوئی بھی فریق نہیں چاہتا ۔اب اگر پیچھے مڑ کر 1990ء کی تحریک آزادی کو دیکھا جائے تو مجھے لگتا ہے کہ مزاحمت کو سیاست کی شکل دینے کے لیئے حریت (حریت کانفرنس ) کی تشکیل ایک اچھا آئیڈیا تھا۔اس پر ایس اے دولت کہتے ہیں کہ عوامی تاثر کے مطابق داؤد ابراہیم ،حافظ سعید یا مسعود اظہر کو نہ پکڑنا زیادہ بڑی ناکامی ہے ۔اگر آپ داؤد ابراہیم کی سپاری دینے کے بجائے اسے آئی ایس آئی دہلی اسٹیشن کا چیف بنا دیتے ہیں تو عالمی سطح پر زیادہ بڑی ناکامی ہے ۔جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے ممبئی حملوں کے بعد دس سال کے دوران جتنی مرتبہ بھی بات ہوئی وہاں سے یہ تاثر دیا گیا کہ کشمیر کو بیک برنر میں پھینک دیں اس پر پھر بات کر لیں گے ۔جنرل (ر)اسد درانی ایک بار پھر جموں کشمیر کی تحریک آزادی سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم چاہتے تھے کہ ہلکی پھلکی موسیقی ہو مگر حالات اس قدر خراب نہ ہوں کہ دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ جائے ۔ایک موقع پر جنرل درانی نہایت صراحت کے ساتھ کہتے ہیں ’’ریاست (یعنی پاکستانی ریاست ) کی نیت کبھی یہ نہیں رہی کہ اس راستے پر چلتے ہوئے دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرایا جائے ‘‘

جنرل (ر) درانی کہتے ہیں کہ باالعموم ہم بھارتی نظام کو بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ یہ ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار ہے اور پاکستان کی طرح یہاں کسی کی خواہش پر یوں فیصلے نہیں ہوتے کہ طارق عزیز کو ریونیو سروس سے اٹھائیں اور قومی سلامتی کا مشیر بنا دیں یا پھر یا پھر کسی وفادار سکیورٹی افسر کو آئی بی چیف لگا دیں ۔پھر جنرل درانی اور ایس اے دولت دونوں اس بات پر کڑھتے ہیں کہ خفیہ اداروں کے سربراہان کا دورانیہ کم ہوتا ہے جنرل درانی کہتے ہیں کہ موساد کا چیف 6سال کے لیئے تعینات ہوتا ہے ،ایس اے دولت کہتے ہیں کہ ایم آئی سکس کے چیف اس سے بھی زیادہ وقت گزارتے ہیں مگر میں جنرل درانی کی طرح 17-18ماہ کے لیئے ’’را‘‘ کا چیف رہا ۔جنرل صاحب نے ذکر کیا کہ آئی ایس آئی کا بجٹ بہت کم ہے اس حساب سے ’’را‘‘ کا بجٹ تو ہے ہی نہیں کیونکہ ہمیں تو سی آئی اے سے فنڈز بھی نہیں ملتے ۔

Indian pm Narasimharao
اس سوال پر کہ مضبوط وزرائے اعظم کیساتھ کام کرنا ایجنسیوں کے سربراہان کے لیئے مشکل ہوتا ہے یا نہیں،ایس اے دولت کہتے ہیں کہ مشکل ہوتا ہے مگر اچھا بھی ہوتا ہے ۔ایس اے دولت کے مطابق بھارت میں اتفاقاً کئی ایسے وزرائے اعظم گزرے ہیں جنہیں انٹیلی جنس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی مثال کے طور پر میرا نہیں خیال کہ مرارجی ڈیسائی (1977-79)کے نزدیک انٹیلی جنس کسی قسم کا اثاثہ تھی ۔نرسہماراؤ (1991-96)تو اس قدر ذہین و فطین تھے کہ انٹیلی جنس کو فراڈ اور چغلی بازی خیال کیا کرتے تھے ۔یہاں تک کہ آئی کے گجرال (1997-98)انٹیلی جنس سے متعلق تشکیک کا شکار رہتے ۔راجیو گاندھی (1984-89)کو انٹیلی جنس میں دلچسپی تھی شاید اس لیئے کہ وہ نوجوان تھے ۔وہ انٹیلی جنس پر اس قدر انحصار کیا کرتے تھے کہ ہر روز 10:30بجے شب ڈی جی آئی بی کے ساتھ کافی پیتے۔وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی (1998-2004)جن کے ساتھ میں نے کام کیا اچھے سامع تھے اور توجہ سے بات سنا کرتے تھے ۔

جنرل (ر)دُرانی اور ایس اے دولت کے درمیان اس حوالے سے بھی بات چیت ہوئی کہ ایجنسیاں اپنے مقاصد کے لیئے میڈیا کو کس طرح استعمال کرتی ہیں ۔جنرل درانی نے کہاکہ آئی ایس آئی اور ’’را‘‘ میں میڈیا وار کی قدر مشترک ہے دونوں طرف سے ٹی وی چینلز کو بھی فنانس کیا جاتا ہے تاکہ یہ چینلز ان کے لیئے کام کریں ۔اس روایت کا آغاز سب سے پہلے ’’را‘‘ نے کیا جب اس نے اپنا حمایت یافتہ چینل قائم کرنے کے لیئے 25ملین ڈالر کی رقم فنانس کی ۔ایس اے دولت نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا مگر جنرل درانی نے اصرار کیا کہ دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیاں نفسیاتی جنگ کے لیئے ٹی وی چینلز کو استعمال کرتی ہیں ۔جنرل درانی نے اس حوالے سے ایک ذاتی تجربہ بھی بیان کیا کہ لاہور سے شائع ہونے والے نوائے وقت گروپ کے انگریزی اخبار ’’نیشن ‘‘ میں کسی سکھ یا ہندو نام سے ایک مضمون شائع ہوا جسے دیکھ کر مجھے پتہ چل گیا کہ یہ آئی ایس آئی کے کسی افسر نے لکھا ہے شائع کرنے والوں نے یہ تکلف بھی نہ کیا کہ اس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کو تبدیلی کر دیں تاکہ لگے کہ یہ بھارت سے کسی نے لکھا ہے ۔جنرل (ر)درانی نے ایک موقع پر میڈیا سے متعلق بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ میڈیا کبھی نہیں چاہتا کہ امن ہو ،میڈیا امن کا سب سے بڑا دشمن ہے کیونکہ اگر امن ہو جائے تو صحافیوں کی ملازمتیں ختم ہو جائیں گی اور چینل بند ہو جائیں گے ۔لیکن جنرل (ر) درانی یہ بتانا بھول گئے کہ امن کی سب سے بڑی دشمن افواج ہوا کرتی ہیں جن کا رزق براہ راست جنگ سے وابستہ ہوتا ہے اگر امن ہوجائے تو لوگ سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں کہ اتنی بڑی فوج پالنے اور دفاع پر اتنا زیادہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔باالفاظ دیگر اگر گھوڑا گھاس سے دوستی کرلے تو کھائے گا کیا ۔

General Ahsan ul Haq
بظاہر تو آئی ایس آئی اور ’’را‘‘ کی مثال آگ اور پانی کی سی ہے جس کا ملاپ ممکن نہیں مگر اس کتاب میں ا س راز سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے کہ دونوں خفیہ اداروں کے سربراہان چپکے چپکے ایک دوسرے سے ملتے رہے ہیں ۔جنرل (ر) اسد درانی نے انکشاف کیا کہ جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو 1991ء میں انہوں نے سنگاپور میں بھارتی ہم منصب جی ایس واجپائی سے ملاقات کی جس میں کشمیر کی تحریک آزادی سے متعلق بات چیت ہوئی ۔اس سے پہلے جب حمید گل آئی ایس آئی کے چیف تھے تو ان کی بھی ’’را‘‘ کے چیف اے کے ورما سے ملاقات ہوئی تھی ۔جنرل اسد درانی نے بتایا کہ ان کی ’’را‘‘ چیف سے ملاقات کے بارے میں پانچ سے چھ لوگوں کو علم تھا اور میں کئی برس تک اس ملاقات کی تردید کرتا رہا یہاں تک کہ بی رمن نے اپنی کتاب میں اس ملاقات کا بھانڈا پھوڑ دیا اور پھر میں نے اس ملاقات کا اعتراف کرنے کا فیصلہ کیا ۔ایس اے دولت نے بتایا کہ اگرچہ وہ بطور ’’را‘‘ چیف جنرل محمود سے نہیں ملے تاہم ایسی ملاقاتیں ہونی چاہئیں ۔اس دوران ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت ’’را‘‘ کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں جنرل پرویز مشرف پرحملہ ناکام بنایا گیا ۔ایس اے دولت نے کہا کہ میں ’’را‘‘ کا واحد سا بق چیف ہوں جو ایک یا دو نہیں چار بار پاکستان آیا ۔اور کراچی میں ٹی وی کو انٹرویو بھی دیا ۔ایس اے دولت نے 6اکتوبر 2017ء کو لندن اسکول آف اکنامکس میں آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ،جنرل (ر) احسان الحق سے ملاقات کی تفصیل بھی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ کیسے تقریب سے ایک روز قبل جنرل (ر) احسا ن نے انہیں ڈنر پر مدعو کیا اور پھر اگلے روز وہ دونوں ’’پب ‘‘ میں گئے ۔

جاری ہے 

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*