تازہ ترین
outline

جنرل (ر) درانی اور دولت کی کتاب کی تلخیص و ترجمہ ،دوسری قسط

بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے سابق چیف ایس اے دولت کہتے ہیں کہ آپ آئی ایس آئی کو ’’ڈیپ اسٹیٹ ‘‘ کہیں یا ’’اسٹیٹ ود اِن اسٹیٹ ‘‘مگر یہ ایک بہت زبردست ادارہ ہے ۔مجھے کراچی سے ایک ٹی وی چینل نے سوال پوچھا کہ آپ کا آئی ایس آئی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟میں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایک اچھا ادارہ ہے اور میں ڈی جی آئی ایس آئی ہوتا تو مجھے بہت اچھا لگتا ۔

جنرل (ر) دُرانی کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کی پولیٹیکل اسیسمنٹ کی صلاحیت بہت محدود ہے ۔یحیٰ خان نے 1970ء میں اس لیئے انتخابات کروائے کہ ایجنسیوں نے ان انتخابات کے نتیجے میں ’’ہنگ پارلیمنٹ ‘‘ وجود میں آنے کی رپورٹ دی تھی مگر جب نتائج آئے تو ان رپورٹوں کے برعکس مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان جبکہ بھٹو نے مغربی پاکستان میں کلین سویپ کیا ۔جنرل (ر) اسد درانی کے مطابق جب گراس روٹ لیول اسیسمنٹ کی بات ہوتی ہے تو پولیس کی اسپیشل برانچ سے بڑھ کر کچھ نہیں۔جنرل (ر) دُرانی اس ضمن میں لال مسجد آپریشن کی مثال دیتے ہیں ۔ان کے خیال میں لال مسجد کا واقعہ بہت تباہ کن تھا جس میں بہت سی خواتین اور بچے مارے گئے ۔اسد درانی کا خیال ہے کہ اس آپریشن کے لیئے غلط فورس غلط طریقے سے استعمال کی گئی ۔خواتین میں چھپے دہشتگردوں کو پکڑنے کے لیئے اسپیشل فورس استعمال کرنی چاہئے تھی مگر رینجرز کو بھیج دیا گیا جنہوں نے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا اور اس واقعہ کے نتیجے میں خود کش حملوں میں اضافہ ہو گیا ۔جنرل (ر)درانی کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے چند ہفتوں بعد میں راولپنڈی کے بھٹی اسٹوڈیو میں گیا تو وہاں موجود ایک ایس ایچ او نے مجھے پہچان لیا اور لال مسجد کے واقعہ سے متعلق کہنے لگا ’’جنرل صاحب ! اِک ایس ایچ او دا کم سی تسیں ساری فوج لے کے اوتھے پہنچ گئے ‘‘اس حوالے سے دوسری مثال سانحہ اے پی ایس کی ہے ۔ایجنسیوں نے یہ رپورٹ تو دی تھی کہ کسی اہم مقام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے مگر ہزاروں اہم مقامات میں سے کس اہم مقام کو نشانہ بنایا جائے گا اس حوالے سے کچھ معلوم نہ تھا ۔پولیس کی اسپیشل برانچ نے آرمی پبلک اسکول کے قریب مشکوک سرگر میوں کی اطلاع دی اور وہاں اسکیورٹی بڑھا دی گئی ۔

General Hameed Gul
جنرل (ر) اسد درانی نے آئی ایس آئی کے ایک اور سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل کے بارے میں بھی بہت سے باتیں کہی ہیں ۔جب سوال کرنے والے نے جنرل (ر) حمید گل کو نریندرا مودی کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈول سے تشبیہ دیتے ہوئے ان کے بارے میں پوچھا تو جنرل درانی نے جواب دیا ’’حمید گل کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مفروضے گھڑتے اور انہیں مخصوص تناظر کے سانچے میں ڈھال لیتے ۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ انہوں نے بذات خود کیا کچھ گھڑا مگر یہی ان کا مقصد تھا ۔حمید گل چیزوں کو اشتہا کی حد تک بڑھانے کے لیئے مبالغہ آرائی پسند کیا کرتے تھے ۔۔1988ء کے انتخابات میں جب حمید گل ڈی جی آئی ایس آئی تھے اور میں ایم آئی میں تھا تو نتائج حمیدگل کی توقعات کے برعکس آئے ۔ان کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب سے برتری حاصل ہو گی اور سندھ سے کم نشستیں ملیں گی جبکہ اس کے برعکس سندھ سے پیپلزپارٹی نے کلین سویپ کیا جبکہ پنجاب سے کم نشستوں پر کامیابی ملی ‘‘

dr-abdulqadeer
جب جنر ل (ر) دُرانی سے ملٹری اانٹیلی جنس کے دور کے یادگار واقعات سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ۔وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے نے بطور ڈی جی ایم آئی قومی دن کی تقریب میں شرکت کی اور جب واپس جانے کے لیئے اٹھ کر آئے تو گاڑیاں منگوانے کی ڈیوٹی پر تعینات شخص نے کہا ،سر ! آپ ایک طرف آئیں گے ،میں نے آپ سے بات کر نی ہے ۔پوچھنے پر اس نے بتایا کہ صاحب جی ! یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ایسی تقریبات میں کیا کام ؟اس کے کہنے کا مطلب تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو لائم لائٹ سے دور رہنا چاہئے ۔اس نے بتایا کہ جب کوئی اہم شخصیت جانے لگتی ہے تو گاڑی منگوانے لے لیئے اعلان کیا جاتا ہے مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ جنرل درانی صاحب کی گاڑی لے آئیں ۔جب بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان آتے ہیں تو میں ان کا نام نہیں لیتا بلکہ ان کے ڈرائیور کا نام لیکر کہتا ہوں کہ ڈرائیور فضلو خان گاڑی لے آئیں ۔میں یہ احتیاط اس لیئے کرتا ہوں کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان یہاں پر ہیں ۔میں اس بندے کو خفیہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں اور یہ بندہ ہے کہ اس طرح کی تقریبات میں شرکت کرتا پھرتا ہے ۔میں نے اس کے جذبے کو سراہا لیکن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ سب پسند تھا ۔ذاتی تشہیر اور نمود و نمائش ان کی کمزوری تھی اور اس بات کو شاید کئی مقامات پر سراہا بھی گیا ہو لیکن کئی لوگ اس بات کو سخت ناپسند کیا کرتے تھے ۔میں صدر پاکستان غلام اسحاق خان کے پاس گیا جو ایٹمی پروگرام کے کسٹوڈین تھے اور انہیں کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان عوامی تقریبات میں جاتے ہیں ،بیانات جاری کرتے ہیں اور یہ اچھی بات نہیں۔غلام اسحاق خان بہت سیانے آدمی تھے انہوں نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے یہ سب مگر ہر شخص کو اس کی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کیا جاتا ہے ۔وہ ایٹمی پروگرام کے لیئے مفید اور ناگزیر ہیں اس لیئے ہمیں یہ سب برداشت کرنا پڑے گا ۔

اس کتاب میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آئی ایس آئی اور ’’را‘‘ کا موازنہ کیا جائے تو ان دونوں میں سے بہترین ایجنسی کون سی ہے ؟جس پر ’’را‘‘ کے سابق چیف ایس اے دولت نے کہا کہ ان دونوں کا تقابل بنتا ہی نہیں کیونکہ ’’را‘‘ بہت بعد میں وجود میں آئی ۔اور جب یہ پوچھا گیا کہ آئی ایس آئی کے خلاف ’’را‘‘ کی سب سے بڑی ناکامی کونسی ہے تو ایس اے دولت نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ہم آئی ایس آئی کے کسی شخص کو منحرف کر کے اپنے  لیئے کام کرنے پر آمادہ نہیں کر سکے ۔

جاری ہے 

تبصرے “ 1 ”

  1. یہ درانی کی اپنی کتاب ان پر گواہ ھیں کہ یہ سب نااہل اور نکموں کاٹولہ ھے . عالمی چیلنجز کا تو انکے پاس عقل ھے کوئ ھیں .پل پل بکنے میں دیر بھی نھیں کرتے .ھمارے فوج کو اس ملک سے پیار ھے کوئ نھیں .ھم پر ستر سال سے ایک فوجی ٹولہ ھے ایک آشرافی ٹولہ ھے کی افتدار اور پاور جی جنگ چل رھاھے اسلیے ھم دن بدن تباھی کی طرف رواں دواں ھین ملک کے بنیاد اب ھل چکے ھیں ان بیوقوفوں کی جنگ ایک دن اس ملک کو لے ڈبوگی .

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*