outline
spoy chronicles 1

جنرل (ر) درانی اور دولت کی کتاب کی تلخیص و ترجمہ ،پہلی قسط

حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب (دا سپائی کرونیکلز )دراصل آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے سابق چیف ایس اے دولت کے مابین ہونے والے مکالمے پر مشتمل ہے جسے بھارتی صحافی اور مصنف آدتیہ سنہا نے مرتب کیا ہے ۔جنرل (ر)اسد درانی اور ایس اے دولت کے درمیان یہ بات چیت وقفوں وقفوں سے استنبول ،بنکاک اور کھٹمنڈو کے خوبصورت جزیروں پر ہوئی ہے اور اسے بھارتی پبلشر ہارپر کولنز نے شائع کیا ہے ۔جنرل (ر) اسد درانی نے اس کتاب کو ان بے نام ایجنٹوں کے نام کیا ہے جو اپنے ممالک کی خاطر زندگیاں داؤ پر لگاتے ہیں ۔کتاب کے ابتدائیہ میں جنرل (ر) اسد درانی نے سعادت حسن منٹو کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے اس حسرت بھرے جملے سے بات کا آغاز کیا ہے کہ ’’کاش ہم دوست ہوتے ‘‘۔اس کتاب کے لفظی ترجمے کے بجائے نچوڑ اور مرکزی خیال پر مشتمل خلاصہ مفاد عامہ کی خاطر پیش خدمت ہے ۔

جب بھی حساس نوعیت کی کوئی پوسٹنگ ہوتی ہے تو خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کی جاتی ہیں مگر یہ رپورٹیں کیسے تیار ہوتی ہیں ،جنرل (ر)اسد درانی نے اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے ۔اسد درانی بتاتے ہیں کہ جب وہ کرنل تھے اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں بطور انسٹرکٹر کام کر رہے تھے تو 1980ء میں انہیں جرمنی میں بطور دفاعی اتاشی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ۔خفیہ اداروں کے اہلکار تصدیق کرنے کے لیئے ماڈل ٹاؤن میں میرے سسرالی گھر آئے تو اہلخانہ موجود نہ تھے ۔انہوں نے ہمسایوں کے چوکیدار سے پوچھا ’’یہ کیسے لوگ ہیں ‘‘ چوکیدار نے کہا ’’اچھے لوگ ہیں ‘‘ اور ان چوکیداروں کے فراہم کردہ کریکٹر سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر مجھے جرمنی تعینات کر دیا گیا ۔اس پر ایس اے دولت نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ،یعنی اگر آپ کے سسرال رشتہ دار گھر میں موجود ہوتے تو آپ کی پوسٹنگ نہ ہوتی ۔

جنرل (ر)اسد درانی اس کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ نوازشریف جب پہلی بار وزیراعظم بنے تو وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے اوران کی نوازشریف سے نہیں بنی ،اسے آپ کیمسٹری کہیں یا کچھ اور ۔اس پر کتاب مرتب کرنے والے نے سوال کیا ’’کیا آپ کے خیال میں ان کی دانشورانہ صلاحیت زبردست نہیں ؟‘‘
اس کے جواب میں جنرل درانی کہتے ہیں کہ یہ ایک وجہ ہے اور میرا خیال ہے میاں صاحب کچھ چیزوں سے متعلق بہت محتاط ہیں وہ ان اندیشوں میں گھرے رہتے ہیں کہ فوج کیا کرے گی ،آئی ایس آئی کیا کرے گی ،کیوں نہ ان کا اپنا بندہ آئی ایس آئی کا سربراہ ہو۔جنرل (ر)اسد درانی کہتے ہیں کہ وہ جنرل اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئی ایس آئی سے جانے کا سوچ رہے تھے مگر ان کی بطور لیفٹیننٹ جنرل ترقی ہو گئی اور میاں نوازشریف نے یہ سوچ کر انہیں کام جاری رکھنے کو کہ دیا کہ اگر جنرل آصف نوازجنجوعہ یہاں اپنا بندہ لے آئے تو فوج اور آئی ایس آئی کا گٹھ جوڑ ہو جائے گا ۔

جنرل (ر)اسد درانی نے بھارتی خفیہ اداروں کے حسن سلوک کا تذکرہ بھی ایک ذاتی واقعہ کی صورت میں بیان کیا ہے ۔وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بیٹے عثمان درانی گزشتہ 20برس سے جرمنی میں ہیں اور وہاں ایک کمپنی کے شریک بانی اور سوفٹ ویئر ڈویژن کے ہیڈ ہیں ۔ان کی کمپنی نے بھارت میں دفتر کھولا اور ان کا آنا جانا شروع ہوا تو اسی اثنا میں ایک مشکل میں پھنس گئے ۔عثمان درانی ریکروٹمنٹ کے سلسلہ میں بھارتی شہر کوچی آئے اور ان کی کمپنی نے واپسی کا ٹکٹ ممبئی کی فلائٹ سے بک کروا دیا ۔پاکستان اور بھارت نے اپنے شہریوں کے لیئے جو ضابطہ بنایا ہے اس میں پورے ملککے لیئے ویزہ جاری نہیں ہوتا بلکہ مخصوص شہر کا ویزہ جاری ہوتا ہے اور اس شہر کے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔چنانچہ جب عثمان درانی ممبئی ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں سپیشل برانچ والوں نے دھرلیا ۔کچھ عرصہ قبل ہی ممبئی حملے ہوئے تھے اور ان حالات میں اگر یہ خبر پھیل جاتی کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا بیٹا بغیر ویزے کے ممبئی میں گھوم رہا تھا اور اسے پکڑ لیا گیا ہے تو بہت بڑی خبر بن سکتی تھی ۔جنرل (ر)اسد درانی نے ’’را‘‘ کے سابق چیف اور اس کتاب کے شریک مصنف ایس اے دولت سے رابطہ کیا اور انہیں اس مشکل سے آگاہ کیا ۔ایس او دولت نے اس وقت کے ’’را‘‘ چیف سے رابطہ کیا اور 24گھنٹوں بعد اس معاملے کو سلجھاتے ہوئے عثمان درانی کو جرمنی جانے کی اجازت دیدی گئی ۔بعد ازاں تعاون کرنے والے ’’را‘‘ کے حکام کا شکریہ ادا کرنے کے لیئے ٹیلیفون کیا گیا تو انہوں نے کہا ’’یہ تو ہمارا فرض تھا ،آخر وہ ہمارے پیٹی بھائی ہیں ‘‘

col saeed iqbal
اس کتاب میں جنرل (ر) اسد درانی نے ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق بھی اہم انکشافات کیئے ہیں ۔جنرل (ر)اسد درانی دعویٰ کرتے ہیں کہ آئی ایس آئی نے اسامہ بن لادن کا سراغ لگایا اور باہمی رضامندی سے طے کیئے گئے طریقہ کار کے مطابق اسے امریکہ کے حوالے کیا گیا ۔جنرل (ر) دُرانی کے بقول ’’ہم نے امریکیوں کو کہا کہ اسے لے جاؤ ،ہم لاعلمی کا بہانہ کریں گے اور یہ ظاہر کریں گے جیسے ہمیں کچھ پتہ ہی نہیں ‘‘جنرل (ر)درانی کا خیال ہے کہ سیاسی ردعمل کے پیش نظر آئی ایس آئی نے اپنا کردار تسلیم کرنے سے انکار کیا کیونکہ ایک ایسا شخص جسے بیشتر پاکستانی ہیرو سمجھتے ہیں اگر اسے امریکہ سے ملکر قتل کیا جاتا تو حکومت کے لیئے یہ بات ہزیمت کا باعث بن سکتی تھی ۔’’را‘‘ کے سابق چیف ایس اے دولت نے بھی جنرل (ر) درانی کی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کو آئی ایس آئی نے امریکہ کے حوالے کیا ۔جنرل (ر) درانی اور ایس اے دولت نے اس کتاب میں کڑیاں ملاتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن سے چند روز قبل آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی امریکی سینٹرل کمانڈ چیف جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے جا کر ملے اور ان سے ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے ڈیل فائنل کی۔ایس او دولت نے کہا کہ سی آئی اے نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے پولیو مہم چلا کر اسامہ بن لادن کا سراغ لگا لیا تو پھر انہوں نے افواج پاکستان سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ آپ ہمارے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں یا پھر ہم اپنے طور پر آپریشن کریں ۔جنرل (ر) درانی نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سی آئی سے صرف ڈاکٹر شکیل آفریدی کی وجہ سے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہوئی بلکہ میں پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ افواج پاکستان کا ایک ریٹائرڈ آفیسر جو انٹیلی جنس میں تھا ،اس نے سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کے بارے میں بتایا۔میں اس شخص کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں اسے مشہور نہیں کرنا چاہتا اور دوسری بات یہ ہے کہ اس بات کو ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔مجھے نہیں معلوم کہ اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے والے کے لیئے مختص 50ملین ڈالر میں سے اس نے کتنی انعامی رقم موصول کی مگر اب وہ پاکستان سے غائب ہے ۔(جنرل (ر)درانی نے جس شخص کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا نام مبینہ طور پر کرنل (ر)سعید اقبال بتایا جاتا ہے اور وہ ان دنوں امریکی ریاست سان ڈیاگو میں پر آسائش زندگی گزار رہا ہے ۔اس کا بیٹا میجر شہر یار اقبال جو جنرل پرویز مشرف کا اسٹاف آفیسر ہوا کرتا تھا ان دنوں دبئی میں ایک بھارتی شہری سے ملکر پرائیویٹ اسپتال چلاتا ہے ۔)جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*