تازہ ترین
outline

گلگت بلتستان کی دردناک کہانی،عبدالجبار ناصر کی زبانی

پاکستانی آئین کے آرٹیکل 257 میں جس ریاست جموں و کشمیر کا ذکرہے وہ اس وقت تین حصوں میں تقسیم ہے۔اسی لئے پاکستان جب ریاست جموں و کشمیر کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد یہ تینوں حصے ہیں اور ریاست جموں و کشمیر 84 ہزار مربع  میل پر پھیلی ہوئی ہے۔تین منقسم حصوں میں 1۔آزاد کشمیر، 2۔مقبوضہ کشمیر اور 3۔گلگت بلتستان شامل ہیں  ۔

پاکستان کے آئین کے مطابق آزاد جموں وکشمیر(آزاد کشمیر ) نمائندگی کرتا ہے پوری ریاست کی اور اقوام متحدہ میں یہ پوری ریاست متنازع ہے۔
بھارت کا موقف ہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی حکومت نمائندہ ہے پوری 14 اگست 1947 سے تک قائم ریاست میں شامل تمام علاقوں کی جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی شامل ہیں۔

پاکستان نے اپنے زیر انتظام ریاست کے ایک حصے آزاد کشمیر کو 1947 میں ایک ظاہری ریاستی سیٹ آپ دیا مگر اپنے زیر انتظام دوسرے حصے گلگت بلتستان کو 28 اپریل 1949 کے معاہدہ کراچی کے تحت حکومت پاکستان نے باقاعدہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس معاہدے میں تین فریق شامل تھے حکومت پاکستان کی جانب سے وزیر بے محکمہ مشتاق گورمانی، آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے صدر ریاست سردار محمد ابراہیم خان اور مسلم کانفرنس کی جانب سے سردار غلام عباس تھے۔

آزاد کشمیر حکومت نے حکومت پاکستان سے کہاکہ فی الحال ہم انتظامی طور پر بہت کمزور ہیں لہذا عارضی طور پر گلگت بلتستان کا انتظام پاکستان سنبھالے اور پھر پاکستان نے قانونی کنٹرول میں لے لیا۔

gilgit baltistan
گلگت بلتستان کو یہاں کے عوام نے اپنی مدد آپ آزاد کیا اور یکم نومبر 1947 کو مہاراجہ کشمیر نامزد گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کرکے یکم نومبر 1947 کو اسلامی جمہوریہ گلگت قائم کیا اور 16 نومبر 1947 تک یہ خودمختار ریاست قائم رہی۔

اسی دوران جنگ کا دائرہ گلگت سے نکل کر ایک طرف بلتستان اور کرگل لداخ اور دوسری جانب سرینگر سے غالبا 25 کلومیٹر دور تراگبل تک پھیل گیا، یہ میرا اپنا علاقہ ہے اور میرے دادا ، نانا ، تایا اور دیگر خود اس میں شریک رہے۔

بدقسمتی کچھ ناخوشگوار واقعات اور سیز فائرکی وجہ سے علاقے میں شکست ہوئی اور پھر کرنل حسن خان بچا کر بڑی مشکل سے واپس پہنچے اور وادی گریز قمری(قمری میرا گائوں ہے) ایل او سی بن گئی، جنگ کا یہ عمل اگست 1948 تک جاری رہا۔

یکم نومبر 1947 کواسلامی جمہوریہ گلگت نام کی ریاست کے قیام بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام پیغام بھیجا گیا (اس حوالے سے بھی متضاد باتیں ہیں)کہ یہ علاقہ ہم نے آزاد کرالیا ہے لہذا اس کو پاکستان میں شامل کیا جائے، بعض کا دعوی ہے کہ یہ پیغام بانی پاکستان تک نہیں پہنچا اور کچھ کا کہنا ہے نہیں پہنچا تھا۔مختصر یہ کہ 16 نومبر 1947 کو صوبہ سرحد سے ایک نائب تحصیلدارسردار عالم خان حکومت پاکستان کا نمائندہ بنکر گلگت پہنچا اور انتظامات اپنے کنٹرول میں لئے اور خود مختار ریاست کے صدر شاہ رائیس خان کو سول سپلائی افیسر بنادیا، عوام نے یہ سب کچھ پاکستان سے دلی محبت کی وجہ سے قبول کیا۔

اسی دوران معاملہ اقوام متحدہ میں پہنچا تو پاکستان نے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کو بھی متنازع حصہ قرار دیا جو درست عمل تھا، اس کا بنیادی مقصد یہ تھاکہ یہ پورا علاقہ مسلم ہے اور رائے شماری میں فائدہ ہوگا۔اسی وجہ سے 28 اپریل 1949 کو حکومت پاکستان نے حکومت آزاد کشمیر سے عارضی انتظامی طور پر حاصل کیا تھا۔

ایوب خان کے دور میں تقریبا 4 ہزار مربہ میل کا اقصائے چن کاعلاقہ پاکستان نے چین کو ایک معاہدے کے تحت دیا اور تنازع کشمیر کے حل تک یہ معاہدہ قابل عمل ہے۔

سنہ 1970سے قبل مختلف اوقات میں کرنل حسن خان اور دیگر نے کچھ کوشش کی مگرزیادہ کامیابی نہیں ملی تاہم 1970کے بعد کچھ ہل جل ہوئی اور شہید مقبول بٹ، امان اللہ خان مرحوم، فضل الرحمن عالمگیر مرحوم، جوہر علی مرحوم سمیت کئی رہنمائوں نے بے داری کی تحریک شروع کی اور ان کو اس کی سزا بھی ملی۔

تقسیم پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے علاقے میں کچھ اصلاحات کئے مثلا ایف سی آر کا کالا قانون اور فوجی بیگار سسٹم ختم کیا ،جبکہ مختلف اشیاء گندم، چینی ، نمک اور غالبا گھی رعایتی (راولپنڈی ) کے نرخوں پر راشن کارڈ پر فراہم کرنے کا حکم دیا۔ گھی اور چینی کا سلسلہ تو ختم ہوا تاہم گندم اور نمک آج بھی سبسڈی پر مل رہے ہیں۔

آزاد کشمیر میں ایکٹ 1974 کے نفاذ کے بعد گلگت بلتستان حقوق کی آواز میں شدت آئی اور پھر تین طرح کے مطالبات سامنے آیے۔اس میں شدت 1980 کے بعد ایرا نی انقلاب اور سعدوی عرب کے اثرات کی وجہ سے آئی۔

در اصل گلگت بلتستان مذہبی حوالے سے تقسیم ہے۔ فریقین کے دعووں کی بجائے مختلف اعداد و شمار کو دیانت دارانہ طورپر مد نظر رکھا جائے تو 28 ہزار مربہ میل پر پھیلے ہوئے گلگت بلتستان میں36 سے 38 فیصد شیعہ اثنا عشری ، 33سے 35 فیصد اہل سنت، 17 سے 18 فیصد اسماعیلی (آغا خانی) اور 10 سے 12 فیصد نوربخشی(ان کے کچھ عقائد اہل سنت اور کچھ اہل تشیع سے ملتے ) ہیں ۔ نوربخشیوں میں بھی دو گروپ ہیں ایک امامیہ اور دوسرا صوفیہ، امامیہ کے 80 فیصد سے زائد عقائد اہل تشیع اور صوفیہ کے 80 فیصد سے زائد عقائد اہل سنت سے ملتے ہیں اور نوربخشیوں کی اکثریت صوفیہ کی ہے اور یہ اکثر بلتستان کے ضلع گگچھے میں بستے ہیں، ضلع سکردو میں بھی 4 سے 5 فیصد ہیں۔

1980 کے بعد اہلتشیع کی جانب سے پانچویں صوبے کا مطالبہ شدت سے سامنے کے بعد اہل سنت کی جانب سے کشمیر سے تعلق یا الحاق کا پرانا جذبہ شدت سے جاگ اٹھا اور 1988 میں خوفناک تصادم ہوا، جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے اور ضلع کوہستان اور دیامر سے اہل سنت کو مدد ملنے کے باعث اہل تشیع کا نقصان بہت زیادہ ہوا۔

اہل تشیع اور اہل سنت کے مطالبات کے ساتھ اسماعیلی زیر اثر علاقوں کی نوجوان نسل میں الگ ریاست کا جوش اٹھا۔اگرچہ اہل تشیع اور اہل سنت کچھ نوجوان بھی شامل ہویے مگر ان طبقات کے زیر اثر علاقوں میں الگ ریاست کارڈ نہیں چل سکا۔

Gilgit baltistan protest
دراصل تینوں مطالبات استحصال پر مشتمل تھے اور ہیں ۔ اہل تشیع صوبے کی بات اس لیے کرتے ہیں صوبے میں ان کی اکثریت ہوگی اور جبکہ اہل سنت آزاد کشمیر کے ساتھ ملاکر ایک یونٹ بنانے کی بات اس لئے کرتے ہیں کہ مجموعی طورپر پر ان کی اکثریت ہوگی ،جبکہ اسماعیلی (بظاہر اسماعیلی اہل تشیع اور اہلسنت کی طرح مذہبی بنیاد پرسامنے نہیں ہیں،تاہم الگ ریاست کی بات کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق اسی طبقے سے ہے)حلقوں میں یہ خیال ہے کہ ایک ریاست کو چلانے کے لیے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان کے پاس ہیں ۔

شہید بھٹو کے بعد شہید ضیاء الحق کے دور میں اس علاقے کو مارشل لاء کا الگ زون قراردیا گیا اور مرحومہ بے نظیر بھٹو نے سیاسی اصلاحات میں بہتری کی کوشش کی مگر ان کو چلتا کردیا گیا اور پھر 1990 میں میاں محمد نوازشریف نے اصلاحات کا ایک فارمولہ تیار کیا مگر اعلان سے چند روز قبل ہی چلتا کردیاگیا تاہم نگراں وزیر اعظم معین قریشی نے نواز شریف کی اصلاحات کو مزید کچھ بہتر کرکے نافذ کیا اور پہلی بار ناردرن ایریاز کونسل قائم کرکے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ تخلیق کیا گیا جبکہ چیف ایگزیکٹو وزیر امور کشمیر کو رکھاگیا، اس قبل یہ ناردرن ایریاز مشاورتی کونسل کہلاتی تھی،جس کے کچھ بیشتر ممبران منتخب اورکچھ نامزد ہوتے اور اس کے نگراں کمشنر یا اس سے قبل ریزیڈنٹ ہوا کرتا تھا جو غیر مقامی اور غیر منتخب ہوتا۔

1993 کے بعد مرحومہ نظیر بھٹو مزید کچھ بہتری لائی اور تاریخ میں پہلی بار جماعتی بنیاد پر1994 میں انتخابات ہوئے اور پیپلزپارٹی کے پیر کرم علی شاہ ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو بنے اور پھر 1997 میں میاں محمد نوازشریف کا دور آیا۔ اصلاحات کے لئے جنرل عبد المجید ملک صاحب کو خصوصی ذمہ داری دی گئی اور 22 اکتوبر 1999 کو ان اصلاحات کا اعلان کرنا تھا مگر 12 اکتوبر 1999 کو خود جیل گئے ،جبکہ غالبا 10 یا 11 نومبر 1999 کو کونسل کا انتخاب ہونا تھا اور مشرف صاحب نے انتخابات کو ملتوی نہیں کرایااور میری زندگی میں سب سے شفاف ترین انتخابات تھے جس میں غالبا7یا 8 نشتوں کے ساتھ پیپلزپارٹی پہلے ، 5 یا 6 نشستوں کے ساتھ تحریک جعفریہ دوسرے اور 4یا5 نشستوں کے ساتھ مسلم لیگ(ن) تیسری جماعت کے طور پر جیت سامنے آگئی، باقیوں کو ایک ایک نشست مل گئی۔کونسل کی کل نشستوں کی تعداد 24 تھیں۔ تحریک جعفریہ اور مسلم لیگ(ن) نے حکومت بنائی اور مشرف صاحب نے اسپیکر کا عہدہ تخلیق کیا اور اختیارات میں کچھ اضافہ کیا اور موجودہ اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد تحریک جعفریہ کی جانب سے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو(شیعہ) اورمسلم لیگ (ن)کی جانب سے حاجی صاحب خان (سنی ۔ موصوف میرے حلقے سے ) پہلے اسپیکر بنے۔ 2004 میں ق لیگ کی حکومت بنی اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو کو چیف ایگزیکٹیو میں تبدیل کیا گیا، موجودہ گورنر گلگت بلتستان میر آف ہنزہ میر غضنفر علی خان پہلے چیف ایگزیکٹیو (اسماعیلی )بن گئے اور ملک مسکین(سنی)اسپیکر اور اسد زیدی (شیعہ ) ڈپٹی اسپیکر بنے۔

pervez musharraf

مگراس دوران تینوں مطالبات میں مزید شدت آگئی بالخصوص پانچویں صوبے کی آواز میں بہت شدت پیدا ہوئی اور کشمیر سے تعلق عملاً گالی سا بن گیا(سوائے اہسنت کے کچھ شدت پسند حلقوں کے)۔ پانچویں صوبے کی تحریک کے ساتھ الگ نصاب کی ایک تحریک بھی بہت شدت سے اٹھی جس کی قیادت آغا ضیاء الدین رضوی کر رہے تھے،جس میں اہل تشیع کا دعویٰ تھا کہ اس علاقے میں اہل تشیع کی اکثریت ہے اور ان کے لئے تعلیمی اداروں میں الگ نصاب ہونا چاہئے ،جبکہ اہل سنت کے حلقوں نے اس کی شدید مخالفت کی اور دوطرفہ تنائو رہا،جو 1988کے فسادات کے بعد مسلسل بڑھ رہا تھااور وقتاً فوقتاً فسادات ہوتے رہے عملاً گلگت شہر مکمل غیر محفوظ رہا اور عملاً اہل تشیع اور اہل سنت کے لئے ایک دوسرے کے علاقے نو گو ایریا بن گئے۔ جنوری 2005 میں ایک قاتلانہ حملے میں آغاضیاء الدین رضوی اپنے 3 ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوئے اور گلگت شہر میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے اورنصف درجن سے زائد اہل سنت سرکاری ملازمین کو سیکٹریٹ میں زندہ جلادیاگیا(ان میں میرا ایک قریبی ساتھی اور عزیز عبدالمجید بٹ بھی شامل تھا)، در اصل سیکٹریٹ اہل تشیع علاقے میں تھا اور جب حالات بہت خراب ہوئے تو ایک اسماعلی آفیسر طیغون نبی نے ان کو اہل سنت ملازمین کو اپنے گھر میں پناہ دی ، جس کی اطلاع کسی طرح مشتعل افراد کو ملی ، جنہوں طیغون نی سے مطالبہ کیا کہ ان افراد کو ہمارے حوالے کرو مگراس مرد قلندر نے ایسا کرنے سے منع کیا اور پہلے اس کو ماردیا گیا اس کے بعد پناہ گزینوں کو قتل کرکے لاشوں کو آگ لگادی گئی تاہم عزیز نامی ایک فرد بچ گیا تھا جو واش روم میں چھپا تھا مگر اس کے جسم کا کچھ حصہ بھی جلسا ہواتھا۔

کے کرفیو لگا اور کئی روز تک لگا رہا۔ بعد میں فوج کے تعاون سے کچھ مثبت اقدام کئے گئے۔یہ بات بھی خاص ہے کہ گلگت شہر میں جب کچھ ہوتا اس کا ردعمل اہل سنت کی جانب سے دیامر اور کوہستان کی حدود میں سامنے آتا اور عملاً شاہراہ ریشم جو واحد زمینی رابطہ تھا اہل تشیع کے لئے نوگو ایریا بن بن چکا تھا، یہ سلسلہ 2015 تک جاری رہا۔

2004کے انتخابات میں بنی والی اسمبلی نے ایک تاریخی کارنامہ یہ انجام دیاکہ طویل مشاورت کے بعد موجودہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان پرمشتمل پارلیمانی کمیٹی نے خطے کے اصل نام گلگت بلتستان کو پھر بحال کیا جو دراصل بھٹو شہید کے دور میں بدل دیاگیا تھا اورناردرن ایریازکا نام دیاگیا تھا۔
جب سے جماعتی بنیاد پر انتخابات ہوئے ہیں آئینی حقوق انتخابی منشور کا حصہ رہے، پیپلزپارٹی، تحریک جعفریہ اور مجلس وحدت مسلمین پابنچویں آئینی صوبے کی بات کرتے رہے ہیں ۔ گلگت بلتستان میں 2009 میں ناردرن ایریاز کونسل کے انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس ایگزیکٹو آڈر2009 جاری کیا۔ جوآئنی ترمیم کے بغیر ایک انتظامی حکم نامہ تھا ،اس میں گلگت بلتستان کونسل کو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا درجہ دگیا اور غالباً 56نکات پر قانون سازی کا حق دیاگیا۔ آزاد کشمیر طرز کی گلگت بلتستان کونسل 15 رکنی کو نسل پاکستان کے وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم کی گئی،جس میں 6 مقامی منتخب ممبران ہونگے ،جن کو اسمبلی منتخب کرے گی، گورنر گلگت بلتستان کے گورنروائس چیئیرمین اوروزیر اعلیٰ ممبر ہونگے باقی مختلف وفاقی وزرا اور نمائندے ہونگے۔ اس کونسل کو کئی امور پر قانون سازی کا مکمل حق دیاگیا۔ اسی آڈر میں گورنر کا عہدہ تخلیق کیاگیا اور چیف ایگزیکٹیو کو وزیر اعلیٰ کانام دیا گیا۔ اس کے اجرا کے وقت بھی اس کے خلاف شدید احتجاج کیاگیا مگر سلسلہ چلتا رہا اور پیپلزپارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی سید مہدی شاہ صاحب(شیعہ) پہلے وزیر اعلیٰ بنے اور پیرکرم علی شاہ (اسماعیلی)گورنر،وزیربیگ (اسماعلی)اسپیکر اورجمیل احمد (سنی)ڈپٹی اسپیکر بنے۔اس پیکیج کے بعد بھی پانچویں صوبے یا آئینی حقوق کا مطالبہ کم نہیں ہوا بلکہ زور پکڑتاگیا۔

nawaz sharif
گلگت بلتستان میں2015 کے انتخابات میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بطور پارٹی سربراہ اعلان کیاکہ ان کی جماعت کامیاب ہوئی تو گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دے گی، اور سرتاج عزیزکی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی جس میں راجہ ظفر الحق صاحب بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی میں گلگت بلتستان کی جانب سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان جو پارٹی کے صوبائی صدر بھی تھے کو کمیٹی کا ممبر بنایاگیا۔
2015 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو 33میں سے 24 نشستیں ملیں اور وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان (سنی)، فدا محمد ناشاد (شیعہ )اسپیکر اور میر غضنفر علی خان (اسماعیلی )گورنر بن گئے۔

اسی دوران گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے 33می سے 32ارکان کی حمایت سے مکمل آئینی صوبے کے حق میں اسمبلی نے قرارداد منظور کی اور ایک رکن قوم پرست رہنماء نوازخان ناجی نے اس کی مخالفت کی،جن کا موقف تھا کہ تنازع کشمیر کا فریق ہونے کی وجہ سے ہم پاکستان آئینی صوبہ نہیں بن سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سرتاج عزیز صاحب کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے درجنوں اجلاس ہوئے اور خلاصہ یہی نکلا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنایا گیا تو پاکستان کے اقوام عالم میں کشمیر موقف ، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور پاکستان کے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا۔

cm gilgit baltistan
حال ہی میں ایک جعلی ڈرافٹ مارکیٹ میں آیا یہ کس نے مارکیٹ میں پھینکا کسی کو علم نہیں جس میں تمام اختیارات کا مرکز و محور وزیر اعظم پاکستان کو بنیاگیا تھا، اس پر احتجاج شروع ہوا اور پھر حکومت نے اصل ڈرافٹ بھی جاری کردیا مگر اب اپوزیشن کے ایک گروپ کا مطالبہ ہے کہ (1)آئینی صوبہ ،(2)آزاد کشمیر طرز کا نظام یا (3)مقبوضہ کشمیر طرز کا نظام دیا جائے، آخر الذکر میں دونوں میں دفاع ، کرنسی اورخارجہ امورکے سوا تمام اخراجات مقامی حکومت کو منتقل کردئے جائیں یا مذکورہ اور اپوزیشن کے ایک گروپ نے حکومتی گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس ایگزیکٹو آڈر2015کو مکمل طور پر مسترد کیا اور احتجاج شروع کیا جو پہلے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر تھا مگر چونکہ 27 مئی کو(آج) وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے دورہ کرنا تھا اور کیا بھی، 24 مئی کو اپوزیشن نے اسمبلی کی جانب مارچ کیا اور اس پر لاٹھی چارچ ہوئی کچھ لوگ زخمی ہوئے ۔ آج وزیر اعظم کی اسمبلی میں تقریر کے دوران بھی احتجاج بھی ہوا بلکہ ارکان حکومت اور اپوزیشن کے دو ارکان نے ایک دوسرے پر تشدد بھی کیا۔

اطلاعات یہ ہیں کہ در اصل کچھ قوتیں حافظ حفیظ الرحمان سے نواز شریف سے گہرے تعلق اور نواز شریف کی نا اہلی کے بعد کی پریس کانفرنس کا بدلہ لینا چاہتی ہیں، دو بار عدم اعتماد کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہوسکی اور اب آخری کوشش ہے

نوٹ :یہ تحریر مشاہیر کے واٹس ایپ گروپ “اسٹڈی سرکل “سے مستعار لی گئی ہے 

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*