تازہ ترین
outline

محکمہ زراعت کی ضررساں حشرات کیخلاف مہم -بلال غوری کا ناقابل اشاعت کالم

انسان کی حرص وہوس کبھی ختم نہیں ہوتی۔مرغیاں اور بکریاں پالنے والے ان کا وزن بڑھانے کے لیئے ہارمونز کی افزائش تیز کرنے والے ایسے انجکشن استعمال کرتے ہیں جن سے گوشت تو بڑھ جاتا ہے مگر ان ادویات کے مہلک اثرات گوشت کھانے والے انسانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جو لوگ دودھ کے کاروبار سے منسلک ہیں وہ گائے اور بھینس سے زیادہ دودھ حاصل کرنے کی لالچ میں ایسے انجکشن لگاتے ہیں جن کی تاثیر دودھ میں شامل ہونے کے بعد انسانوں تک آجاتی ہے۔زراعت سے وابستہ افراد کیوں پیچھے رہتے،وہ بھی اپنے کھیتوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا چاہتے تھے اس لیئے محکمہ زراعت نے ان کی آسانی کے لیئے انواع واقسام کی کھادیں اور زہریلے اسپرے متعارف کروانا شروع کر دیئے۔میرا تعلق چونکہ جنوبی پنجاب کے اس علاقے سے ہے جہاں کپاس اور گندم کی فصل بکثرت ہوتی ہے اس لیئے ان فصلوں سے متعلقہ کیڑوں سے تھوڑی بہت آشنائی رہی۔کسانوں کا خیال ہے کہ جب سے ہماری حکومتوں نے زرعی زمینیں تجربات کے لیئے امریکی ماہرین کے حوالے کیں،تب سے مسائل بتدریج بڑھتے چلے گئے۔فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیئے غیر ملکی بیج درآمد کیا گیا جس سے فصل قدآور ہوئی اور پیداوار میں بھی اضافہ ہوا مگر یہ بڑھوتری نت نئے مسائل بھی ساتھ لیکر آئی۔کپاس کی فصل کو نقصان پہنچانے والے حشرات کی بھرمار ہوگئی۔چتکبری سنڈی آئی،گلابی سنڈی،لشکری سنڈی اور پھر امریکن سنڈی نے تو فصلیں تہس نہس کر دیں۔خدا جانے اس سنڈی کا اصل نام کیا ہے مگر ہمارے ہاں کسانوں میں یہی نام مقبول ہوا تو محکمہ زراعت نے بھی اسے امریکن سنڈی کہنا شروع کردیا۔اسی طرح تھرپس،سفید مکھی،چست تیلا،سست تیلا اور جوئیں (mites)بھی تباہی مچاتی رہیں۔ان سنڈیوں،کیڑوں اور مکھیوں کو تلف کرنے کے لیئے بیرون ملک سے زہریلی ادویات درآمد کرنا پڑرہی ہیں جس سے نہ صرف زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے بلکہ کسانوں کے اخراجات میں بھی بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ان زہریلی ادویات کا استعمال ابتدائی طور پر صرف کپاس جیسی فصلوں پر ہوتا تھا مگر اب تو غذائی اجناس بھی ان کی زد میں آگئی ہیں۔

آلو،ٹماٹر،پیاز،بھنڈی،بینگن سمیت کوئی ایک سبزی بھی ایسی نہیں جو کھاد اسپرے کے بغیر اگائی جا رہی ہو۔اسی طرح آڑو،خوبانی اور آم سمیت کوئی پھل ایسا نہیں جو ان زہریلی ادویات کے اثرات سے محفوظ ہو۔اس خطرناک رجحان کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ انسان کو خالص اور قدرتی غذائیں دستیاب نہیں اور کھاد اسپرے کے مہلک کیمیائی اثرات انسانی جسم میں منتقل ہو کر بیماریوں کو بڑھاوا دینے کا باعث بن رہے ہیں لیکن ایک اور نقصان یہ ہے حیاتیاتی تنوع اور توازن خراب ہونے کے باعث صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو جب محکمہ زراعت حشرات کو اپنے تئیں ضرر رساں خیال کرتے ہوئے انہیں تلف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں وہ ماحول دوست اور فصل پرور کیڑے مکوڑے بھی ختم ہو جاتے ہیں جو اچھی فصل کے لیئے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں اور جب وہ ختم ہوجاتے ہیں تو پھر سنڈیاں موقع غنیمت جان کر فصل پر پل پڑتی ہیں۔

چند ماہ قابل عالمی ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایسے پودے،جانور،مکھیاں اورکیڑے مکوڑے جو انسانی خوراک پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،وہ نہ صرف زوال اور انحطاط کا شکار ہیں بلکہ ان کی بقا کو خطرات لاحق ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق وہ حشرات الارض جنہیں ہم ناکارہ اور غیر ضروری خیال کرتے ہیں،وہ بھی قدرتی توازن برقرار رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر جب انسان زراعت کی طرف مائل ہوا،فصلیں کاشت کرنا شروع کیں تو تب کسی قسم کی کھادیں اور اسپرے دستیاب نہ تھے اور نہ ہی محکمہ زراعت کا کوئی وجود تھا۔انسانی ضروریات کے مطابق فصلیں لہلاتی تھیں اور موجودہ دور میں سردرد بننے والی سنڈیوں کا تب وجود ہی نہ تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ماحول دوست اور فصل پرور کیڑے ان سنڈیوں اور مکھیوں کا کام تمام کر دیا کرتے تھے جو فصل کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوتے۔جب کھاد اور اسپرے کا سلسلہ شروع ہوا تو محکمہ زراعت نے کسی قسم کی تخصیص کیئے بغیر آپریشن کیا جس سے ضرررساں کیڑے اورسنڈیاں تو مکمل طور پر ختم نہ ہوئے البتہ فصل پرور اور ماحول دوست حشرات اور نباتات ضرور تلف ہو گئے۔

حشرات الارض سے متعلق ہونے والی ایک تازہ ترین سائنسی تحقیق جو ”بائیولوجیکل کنزرویشن“نامی عالمی ریسرچ جرنل میں شائع ہوئی ہے،اس کے مطابق انسان دوست مکھیوں،چیونٹیوں،بھنوروں اور کیڑے مکوڑے کی 40فیصد انواع و اقسام نہایت تیزی سے معدوم ہورہی ہیں۔جس کے نتیجے میں گھروں میں پائے جارہے حشرات جیسا کہ لال بیگ،مکھیاں اور مچھر وغیرہ کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی فصلوں کو نقصان پہنچانے والے حشرات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ماہرین کے مطابق ان انسان دوست حشرات کے معدوم ہونے کی بنیادی وجہ فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیئے کھاد اور اسپرے کا بے دریغ استعمال ہے۔بتایاگیا ہے کہ محکمہ زراعت کی جانب سے جن حشرات کو ختم کیا جاتا ہے وہ دراصل ممالیہ جانوروں کی خوراک کا ذریعہ ہوتے ہیں،یہ مٹی کو زرخیز بنانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں،ضرر رساں کیڑوں کی تعداد کو کنٹرول میں رکھتے ہیں اور 75فیصد فصلوں کی تخم کاری کا سبب بنتے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق محکمہ زراعت کی غلط پالیسیوں کے باعث ایک تہائی حشرات کی بقا خطرے میں ہے۔اس تحقیق میں حصہ لینے والے سائنسدانوں نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ اگر صورتحال تبدیل نہ ہوئی تو آخر میں صرف وہ کیڑے مکوڑے ہی باقی رہ جائیں گے جو فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دنیا بھر میں غذائی اجناس کی کمی سے قحط کی سی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس صورتحال پر قابو پانے کا طریقہ کیا ہے؟کس طرح حیاتیاتی تنوع اور قدرتی توازن کو برقرار رکھا جا سکتا ہے؟عالمی ماہرین کے خیال میں محکمہ زراعت کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنا ہوں گی،جن حشرات کو اپنے تئیں نقصان دہ خیال کیا جا تا ہے ممکن ہے وہ ماحول دوست ہوں۔لہٰذاا فصلوں کی کاشت کے لیئے کھاد اور اسپرے کا استعمال ختم کرنا ہوگا۔شروع میں مشکل ضرور پیش آئے گی لیکن جب ماحول دوست اور فصل پرور کیڑے مکوڑے پرورش پانے لگیں گے،توازن بحال ہوگا تو نہ صرف کھاد اسپرے پر اُٹھ رہے اخراجات ختم ہو جائیں گے بلکہ سب کو خالص اور کیمیائی اثرات سے پاک غذائی اجناس بھی دستیاب ہوں گی۔سنا ہے کہ محکمہ زراعت جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں ان حشرات الارض کو تلف کرنے کے لیئے ایک بڑی مہم شروع کرنے لگا ہے جنہیں اس محکمہ کے ماہرین ضرررساں خیال کرتے ہیں۔میراخیال ہے محولا بالا رپورٹ کی روشنی میں اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔

کالم نگار روزنامہ جنگ سے منسلک ہیں ا ور ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

@mbilalghauri

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*