outline
dna

ڈی این اے کیا ہے اور اس سے کیسے کام لیا جاتا ہے؟

لاہور (نمائندہ آئوٹ لائن)قدرت نے خودکار نظام کے تحت جانداروں کو ایک ایسی شناخت دی ہے جس میں تحریف ناممکن ہے اور وہ ہے ڈی آکسی رائبو نیو کلیک ایسڈ جسے ہم ڈی این اے کے نام سے جانتے ہیں۔

انسانی جسم کی بنیادی اکائی یعنی خلئے کے نیو کلیئس میں پائے جانے والے اس جینوم کی ساخت 99.3فیصد تمام انسانوں میں ایک جیسی ہوتی ہے ،بہن بھائیوں میں تو یکسانیت کی شرح مزید بڑھ جاتی ہے مگر ماسوائے جڑواں بچوں کے دنیا کے کسی انسان کا ڈی این اے ایک جیسا نہیں ہو سکتا ۔جب کسی شخص کا ڈی این اے کیا جاتا ہے تو 15مختلف پہلوئوں سے جائزہ لینے کے بعد اتنے ہی نمبر ز کا ایک بار کوڈ مرتب کیا جاتا ہے۔جس طرح ہمارے موبائل فون نمبرمیں سات اعداد ہوتے ہیں ممکن ہے ان میں سے کوئی چھ ایک دوسرے سے ملتے ہوں مگر ساتوں نمبر ایک جیسے نہیں ہو سکتے اسی طرح ہرشخص کا ڈی این اے مختلف ہوتا ہے۔

ڈی این اے کے ذریعے کسی بھی شخص کے بالوں کی رنگت ،آنکھوں کی ساخت ،یہاں تک کہ اس کو لاحق تمام امراض کا ریکارڈ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ڈی این اے سیمپل خون ،تھوک ،سیمن،بال اور یہاں تک کہ اس ٹوتھ برش سے لیا جا سکتا ہے جسے آپ استعمال کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ناگہانی آفت ،حادثے یا دہشتگردی کی صورت میں لاشوں کو ڈی این اے کی مدد سے شناخت کیا جاتا ہے

junaid-jamshid-2

ایک مرتبہ میو اسپتال کی نرسری میںآگ لگ گئی تو سوختہ لاشوں کو ڈی این اے سے شناخت کیا گیا ،جنید جمشید سمیت کئی مسافر طیارہ تباہ ہونے سے لقمہ اجل بنے تو ایک مرتبہ پھر اسی ٹیکنالوجی کو مستعار لیا گیا۔چند برس ہوتے ہیں ایک حاضر سروس فوجی افسر کے تمام اہلخانہ کو قتل کر دیا گیا ،جائے حادثہ سے ایک ٹیبل لیمپ ملا جو مقتولین میں سے کسی نے مرنے سے پہلے قاتل کے سر پر دے مارا تھا،اس لیمپ پر خون کے دھبوں سے ڈی این اے کرکے اسے مشکوک افراد سے میچ کیا گیا تو یہ گتھی سلجھ گئی اورقاتل پکڑے گئے۔دنیا بھر میں قتل اور جنسی زیادتی کے پیچیدہ ترین مقدمات ڈی این اے کی مدد سے حل کئے جاتے ہیں۔مائیک ٹائی سن کے خلاف ریپ کا مقدمہ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام تک پہنچا۔

mike tyson

چونکہ ڈی این اے ایک تقابلی شناختی نظام ہے اس لئے دنیا بھر میں ڈی این اے سیمپل کا ڈیٹا محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ کسی بھی واردات کی صورت میں مشکوک افراد کو گرفتار کئے بغیر ہی یہ سراغ لگا لیا جائے کہ اس میں کون ملوث ہے برطانیہ میں پانچ ملین افراد کے ڈی این اے پروفائلز لیبارٹریو ں میں محفوظ کئے گئے ہیں۔
ڈی این اے نے کریمنالوجی اور فرانزک سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے اور ڈی این اے کو عدالتوں میں بطور شہادت تسلیم کئے جانے کے بعد نہ صرف داخل دفتر مقدمات حل ہو رہے ہیں بلکہ کئی ایسے بے گناہ لوگ بھی جیلوں سے رہا ہو رہے ہیں جنہیں غلط تفتیش اور جھوٹے گواہوں کی مدد سے سزا دیدی گئی مگر اب ڈی این اے کی مدد سے اصل مجرم پکڑے گئے۔سانحہ قصور برپا کرنے والا جنسی درندہ عمران علی نقشبندی جس نے زینب اور سات دیگر معصوم بچیوں کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا ،اسے بھی ڈی این اے کی مدد سے ہی گرفتار کیا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*