تازہ ترین
outline

ڈاڑھی کا فیشن پھر سے اِن

ڈاڑھی مرد کی مجبوری ہے یا فیشن ؟یہ بحث اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود انسان -داڑھی اور مرد کا ساتھ زمانہِ قدیم سے قائم ہے۔ انسانوں کے سویلائزڈ ہونے سے پہلے پتھر کے دور میں تو ہر ایک مرد ہوتا ہی داڑھی والا تھا۔ وقت گزرا اور جب پتھر یا دھات کو اتنا تیز کرنا سیکھ لیا گیا کہ وہ چہرے کے بال اتار سکے تو شیو والی کہانی شروع ہو گئی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب دنیا کے پہلے آدمی نے شیو (داڑھی منڈوائی) کی ہو گی تو وہ کیسا لگا ہو گا؟ کیا اس وقت آئینے ہوتے ہوں گے جن میں اس نے خود کو دیکھا ہو گا یا صرف چہرے پہ پڑنے والی ٹھنڈی ہوا اور منہ دھونے کی صورت میں براہِ راست نمی کے احساس نے اسے بتایا ہو گا کہ استاد، تیری دنیا بدل چکی ہے؟

آس پاس والے پہلے تو اسے حیرت سے دیکھتے رہے ہوں گے لیکن جب انھوں نے محسوس کیا ہو گا کہ یہ کام سہولت والا ہے تو وہ خود بھی اسی راستے پہ چل پڑے ہوں گے۔

جی ہاں، داڑھی رکھنا بہرحال ایک مشکل کام ہے۔ گرمیوں میں چہرے پہ خراش ہو سکتی ہے، سردیوں میں اگر منہ دھونے کے بعد داڑھی گیلی رہ جائے تو سردی بھی لگتی ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ سالن کا ایک بھی قطرہ داڑھی پر نہ گرے اور برگر کھاتے ہوئے تو منہ کھولنا عذاب ہو جاتا ہے اگر آپ کی مونچھیں تھوڑی لمبی ہوں۔ لسی یا کافی پینا اس وقت تک ناممکن رہتا ہے جب تک لمبی مونچھیں سلیقے سے تہہ نہ کر لی جائیں اور یا پھر سٹرا کی مدد لی جائے۔ سٹرا بھی ایک شاندار ایجاد ہے۔ جس نے بھی سب سے پہلے سٹرا ایجاد کیی ہوگی یا تو اس کی داڑھی مونچھیں ہوں گی اور یا پھر وہ دوسروں کے جھوٹے برتن سے منہ نہیں لگانا چاہتا ہو گا۔

پھر داڑھی مونچھیں سو کر اٹھنے پہ اسی طرح اکڑ بھی سکتی ہیں جیسے سر کے بال اکڑتے ہیں، یعنی مہمانوں کے آنے پر نیند سے اچانک اٹھنے پہ آپ نے صرف بال ٹھیک کر کے دروازے پہ نہیں جانا بلکہ داڑھی کو بھی سیٹ کرنا لازم ہو گا۔ داڑھی میں عین اسی طرح کھجلی ہو سکتی ہے جیسے سر میں ہوتی ہے، بلکہ سر کے بالوں سے کچھ زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ بہرحال یہ سب کچھ آپ کی داڑھی کے بالوں کی صفائی اور موسم پہ منحصر ہے۔

ان تمام مشکلات کے باوجود اگر ہم کسی بھی علاقے میں پائے جانے والے پرانے مجسمے دیکھیں تو ہمیں زیادہ تر اہم شخصیات لمبی داڑھی میں ہی نظر آتی ہیں۔ اپنا وہ جو کنگ پریسٹ والا مجسمہ تھا، جو موہنجوڈارو سے نکلا تھا، ان صاحب کی بھی داڑھی ہے۔ ٹیکسلا سے نکلنے والے فاقہ کش بدھا کے چہرے پہ بھی داڑھی ہے، میسوپوٹیمین تہذیب میں زرتشت کے جو مجسمے عراق سے برآمد ہوئے تھے ان کے چہرے پہ بھی خوبصورت لمبی داڑھی تھی اور تقریباً ہر قدیم و جدید عقیدے کے روحانی پیشوا کا تصور بھی داڑھی کے ساتھ ہی ممکن ہوتا ہے۔

Guru rajnesh osho

داڑھی اصل میں انسان کے چہرے کے اردگرد پراسراریت کا ایک ہالہ قائم کر دیتی ہے۔ سوچیے اگر ٹیگور کی داڑھی نہ ہوتی تو کیا واقعی ان کے شاگرد ان کی باتیں اتنے غور سے سنتے؟ یا اگر گرو رجنیش (اوشو) کلین شیو ہو کے مارکیٹ میں نکل آتے تو کیا ان کو اتنی بڑی تعداد میں چاہنے والے مل سکتے تھے؟ اسی طرح کئی دوسری مثالیں موجود ہیں، چارلس ڈکنز، چیخوف، ہیمنگوے، دوستویفسکی، والٹ وٹمین، ٹالسٹائی، شیکسپئیر، چوسر، ڈی ایچ لارنس، ابسن اینڈ یو نیم اٹ! یہ سب بہت عظیم تخلیق کار تھے لیکن سب کے سب داڑھی والے تھے۔ تو کچھ تو ہے جو یہ سب داڑھیاں رکھے ہوئے تھے!

ویسا ہی ’کچھ‘ آج کل دوبارہ داڑھی کو فیشن میں لے آیا ہے۔ ابھی پانچ سال پہلے تک ہیئر ڈریسر لوگ کلین شیو چینی جاپانی بچوں کی تصویریں دکانوں پہ چاروں طرف چپکائے رکھتے تھے اب تو ان کی جگہ بھی داڑھی والے ماڈلز لے چکے ہیں

جوگیوں، فقیروں، خانہ بدوشوں، ہپیوں سے نکل کر داڑھی اس وقت فل ٹائم اِن ہے، وہ بیک وقت کُول بھی ہے اور ہاٹ بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرا نوجوان یا ایک عدد لمبی سی داڑھی کا مالک ہے یا مالک بننا چاہتا ہے۔

اگر آپ داڑھی رکھنا چاہتے ہیں تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی دن صبح سو کر اٹھیں اور آپ کی یہ بہت ساری داڑھی ہو۔ ایسا بھی صرف فلموں میں ہوتا ہے کہ ہیرو بیمار ہو جائے، بے ہوش ہو اور جب ہوش میں آئے تو ایک مہینے کی شیو کے ساتھ آئینہ دیکھے۔ داڑھی تو بھائی رکھنا پڑتی ہے۔

پہلے ہفتے میں جیسا کہ ہمارے یہاں دستور ہے سب آس پاس والے لوگ پوچھیں گے کہ بھئی سب خیریت ہے، شیو کیوں بڑھائی ہوئی ہے؟ تیسرے ہفتے وہ سمجھنے پہ مجبور ہوں گے کہ منڈے نوں کوئی روگ لگ گیا جے، دو ماہ بعد انہیں سمجھ آئے گی کہ نہیں یار یہ کوئی فیشن وغیرہ کا چکر ہے۔

اس دوران آپ سکون سے داڑھی بڑھائیں، کچھ تو لوگ کہیں گے، لوگوں کا کام ہے کہنا، ہاں اگر آپ کو داڑھی سے چہرے پہ خارش ہو تو اسے شیمپو کیا جا سکتا ہے، رات کو سوتے وقت موئسچرائزر لگا کے سونے کی کوشش کی جا سکتی ہے اور بہت زیادہ تکلیف میں آ جائیں تو بہرحال شیو کا آپشن موجود ہے لیکن ایک بات یاد رکھیں۔ پہلے مہینے ہر مشکل کام آپ کو خوفزدہ کرتا ہے، دوسرے مہینے آپ اس کے تھوڑے تھوڑے عادی ہوتے ہیں اور تیسرے مہینے وہ آپ کی فطرت کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ یہ تیسرا مہینہ ہی ہوتا ہے جب داڑھی اتنی بڑھ چکی ہوتی ہے کہ بندہ کسی اچھے سٹائلسٹ کے پاس جائے اور اس کی ٹھیک سے تراش خراش کروا کے دوستوں میں انٹری مارے۔

جب آپ ایک عدد داڑھی کے مالک ہو جائیں تو یاد رکھیں کہ جیسے زیادہ شیمپو اور کنڈیشنر سر کے بالوں کے لیے نقصان دہ ہے ویسے ہی داڑھی کے لیے بھی ہے۔ یہ صرف صفائی اور وقت پہ ایڈجسٹمنٹ مانگتی ہے۔ اور ہاں، اب روز صبح اٹھ کے پندرہ بیس منٹ آپ شیو میں ضائع نہیں کریں گے بلکہ اچھا بھرپور سا ناشتہ کریں اور کالج یا دفتر کا راستہ پکڑیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*