تازہ ترین
outline
Featured Video Play Icon

جنرل موسیٰ :65کی جنگ کس نے شروع کی؟جیتا کون؟

پاکستان کے چوتھے سپہ سالار جنرل محمد موسیٰ نے 27اکتوبر1958ء کوافواج پاکستان کی کمان سنبھالی اور پھر 17ستمبر1966ء تک عساکر پاکستان کے سربراہ رہے۔ان کے دور کا سب سے اہم واقعہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ ہے۔مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ محض ایک کچی سڑک کی وجہ سے شروع ہوئی؟سندھ کے ویران اور سنسا ن علاقے”رن آف کچھ“میں ”ڈنگ“اور ”سرائی“کے علاقوں کو ملانے کے لیئے پاک فوج نے 18میل طویل غیر پختہ سڑک بنائی جس پر سرحدی جھڑپیں شروع ہوئیں اور پھر دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ گئی۔پاکستان اور بھارت کی اس پہلی باقاعدہ جنگ میں افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل موسیٰ تھے،ان کی شخصیت،مزاج،کامیابیوں اور ناکامیوں پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے ذکر اس سرحدی تنازعہ کا جو پاک بھارت جنگ کانکتہ آغاز ثابت ہوا۔

بتایا تو یہ جاتا ہے کہ بزدل اور ڈرپوک دشمن نے 6ستمبر کو اچانک رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا لیکن اس جنگ کا آغاز بہت پہلے ہو چکا تھا۔”رن آف کچھ“کا علاقہ قیام پاکستان کے بعدسے ہی متنازع سمجھا جاتا تھااس لیئے دونوں ملکوں نے یہاں چیک پوسٹیں بنانے سے گریز کیا۔جنوری 1965ء میں پاکستان نے یہاں ”ڈنگ“اور”سرائی“ کو ملانے کے لیئے کچی سڑک بنائی تو بھارت نے سفارتی سطح پر احتجاج کیا۔پاکستان نے موقف اختیار کیا کہ یہ علاقے تو قیام پاکستان سے ہی ہمارے کنٹرول میں ہیں۔بھارت بھی خم ٹھونک کر میدان میں آگیا اور کانجر کوٹ قلعہ سے نصف کلومیٹر کے فاصلے پر سردار پوسٹ چیک پوسٹ قائم کردی۔

پاکستان کو اس علاقے میں واضح برتری اور فوقیت حاصل تھی۔یہ علاقہ بدین ریلوے اسٹیشن سے 26میل دور تھا اور وہاں سے کراچی تک کا فاصلہ 113کلومیٹر تھا جہاں پاکستان کے 8ویں ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر تھا۔

بھارتی سپلائی لائن کے لیئے قریب ترین ریلوے اسٹیشن بھوج تھا جو 110میل کے فاصلے پر تھا اور وہاں سے قریب ترین 31ویں بریگیڈ کا ہیڈکوارٹر احمد آباد میں مزید 180کلومیٹر کی دوری پر تھا۔کمانڈرانچیف جنرل موسیٰ کی طرف سے 51ویں بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر اظہر کو پیشقدمی کا حکم ملا اور بھارت کی سردار چیک پوسٹ تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔9اپریل کی رات پاک فوج نے دھاوابول دیا۔سخت لڑائی کے باوجود پہلی کوشش میں کامیابی نہ مل سکی۔جب 14گھنٹوں کے مقابلے کے بعد فائرنگ تھم گئی تو بھارتی جوان چوکی خالی کرکے پسپا ہوگئے،پاکستانی فوجیوں کو پسپائی کا علم نہ ہو سکا اور وہ بھی واپس اپنے مورچوں میں آگئے جب بھارتی فوجیوں کو معلوم ہوا کہ پاکستانی فوج نے ان کی چوکی پر قبضہ نہیں کیا تو وہ شام ہونے سے پہلے واپس لوٹ آئے اور لڑے بغیر چوکی کا کنٹرول سنبھال لیا۔

مخدوش صورتحال کے پیش نظر 8ویں ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ جنرل ٹکا خان نے بریگیڈیئر افتخارجنجوعہ کی قیادت میں نہ صرف مزید کمک بھیجی بلکہ آپریشن کا کنٹرول بھی خود سنبھال لیا۔یوں پاکستان کو اس پہلے معرکے میں کامیابی ملی اور بھارتی فوج اسلحہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔افواج پاکستان نے نہ صرف سردار چیک پوسٹ پر قبضہ کیا بلکہ پیشقدمی کرتے ہوئے سیرابیت اور بیرابیت کی چوکیاں بھی فتح کر لیں اور بھارتی شہر بھوج کی مین واٹر سپلائی لائن کے قریب جا پہنچی۔

اس دوران ایک عجیب وغریب واقعہ پیش آیا۔پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل اصغر خان نے جی ایچ کیو کو اعتماد میں لیئے بغیر بھارتی ہم منصب ایئر مارشل ارجن سنگھ سے رابطہ کیا اور یہ پیشکش کی کہ رن آف کچھ کی لڑائی میں بری فوج کو زوربازو آزمانے دیا جائے اور دونوں ملکوں کی ایئر فورس اس بکھیڑے سے دور رہے۔بعد ازاں اصغر خا ن نے اپنے اس اقدام کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فضائیہ کو پاکستان ایئر فورس پر سبقت حاصل تھی اور ہم اپنی زمینی فوج کا اتنا ساتھ نہیں دے سکتے تھے جتنا بھارتی فضائیہ اپنے دستوں کو کور فراہم کر سکتی تھی۔لیکن افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل موسیٰ خان کے نزدیک یہ عذر بہت بھونڈا ہے۔انہوں نے اپنی کتاب Jawan to General میں اپنے اختلاف کا برملا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہماری ماری پور ایئر فیلڈ رن آف کچھ کے باالکل قریب تھی اور پاک فضائیہ کے F86 Sabresطیاروں کو بھارتی ایئر فورس پر برتری حاصل تھی اگر بری فوج کوپاک فضائیہ کور دیتی تو صورتحال کچھ اور ہوتی۔

اپریل 1965ء میں رن آف کچھ کے معرکے میں کامیابی کے بعد پاکستان کی بری فوج کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے کہ کشمیر کی آزادی کے اس مشن کو مکمل کرنے کی منصوبہ بندی ہونے لگی جو 1948ء میں جنگ بندی کی وجہ سے ادھورا رہ گیا۔اس بار ساتویں انفنٹری ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل اختر حسین ملک کو طارق بن زیاد کا کے طور پر منتخب کیا گیا اور کشمیر کی آزادی کے اس منصوبے کو ”آپریشن جبرالٹر“ کا نام دیا گیا۔

ُٓٓبری فوج کی آزاد کشمیر رجمنٹ کو جبرالٹر فورس میں تبدیل کردیا گیا جبکہ ہزاروں نوجوانوں کو جذبہ جہاد کے تحت بھرتی کرکے فارورڈ کہوٹہ کے راستے بھارت کے زیر انتظام کشمیر بھیجنے کا سلسلہ اگست میں شروع ہوا۔آپریشن جبرالٹر اس مفروضے پر لانچ کیا گیا کہ کشمیری بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور بھارت بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کرے گا مگر یہ دونوں باتیں خیال خام ثابت ہوئیں۔جبرالٹر فورس کے کمانڈوز ایک ایک کرکے پکڑے جانے لگے اور بھارت نے آگے بڑھ کر حاجی پیر،کارگل اور ٹیٹوال کے دروں پر قبضہ کرلیا۔

پاکستان نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیئے آپریشن گرینڈ سلام شروع کر دیا گیا جس کا مقصد چھمب سے پیشقدمی کرتے ہوئے اکھنور پر قبضہ کرنا تھا تاکہ بھارت کی سپلائی لائن منقطع کر دی جائے۔پاکستانی دستوں کی پیشقدمی کا سلسلہ جاری تھا اور عین ممکن تھا کہ اس محاذ پر بھارت کو شکست ہوجاتی مگر پاکستان کے سپہ سالار جنرل موسیٰ نے گھوڑا تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور جنرل اختر حسین ملک کی جگہ جنرل یحیٰ خان کو ڈویژن کمانڈر تعینات کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔کمان کی اس تبدیلی سے جو وقفہ ملا،وہ بھارت کے لیئے غیبی امداد ثابت ہوا اور آپریشن گرینڈ سلام ناکام ہوگیا۔

آپریشن جبرالٹر کو اسقدر خفیہ رکھا گیا کہ ایئر چیف مارشل نور خان کو بھی اس کی بھنک نہ پڑنے دی گئی۔جب کاروائیاں شروع ہوئیں تو پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان نے بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ کو ٹیلیفون کیا اورکافی دیر کریدنے کے بعد جنرل موسیٰ نے کھسیانی مسکراہٹ کیساتھ اعتراف کیا کہ ہاں اس طرح کا کوئی آپریشن جاری ہے۔ایئر مارشل نورخان نے 6ستمبر2005کو انگریزی اخبار ڈان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ”بری فوج نے ایک بڑا جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کیا کہ یہ جنگ پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے چھیڑی تھی اور اس میں پاکستان کو بڑی فتح نصیب ہوئی۔چونکہ اس جھوٹ کی تصیح نہیں کی گئی اس لیئے فوج اپنے ہی گھڑے گئے افسانے پر یقین کرنے لگی ہے اور غیر ضروری جنگیں لڑ رہی ہے۔“

بہر حال بھارت نے مشتعل ہو کر 6ستمبر کو پاکستان پر حملہ کردیا،دونوں ملک 1965ء کی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کا دعویٰ کرتے ہیں ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ دونوں کو فتح نصیب ہوئی تھی تو پھر ہارا کون؟یہ سوال دہرایا جائے تو نام نہاد دفاعی تجزیہ نگار یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اگر ہم جیتے نہیں تو ہم نے اپنے سے بڑے دشمن کو جیتنے بھی نہیں دیا،کیا یہ ہماری کامیابی نہیں؟1965ء کی جنگ کون جیتا؟یہ جانچنے کا ایک پیمانہ معاہدہ تاشقند ہے جس کے مطابق بھارت نے 710مربع میل کا علاقہ پاکستان کو واپس کیا جبکہ پاکستان نے 210مربع میل کا علاقہ بھارت کے لوٹادیا

جنرل موسیٰ بیرونی دشمن کے خلاف تو ناکام سپہ سالار ثابت ہوئے البتہ نواب آف دیر اور خان آف جندول کو زیر کرکے ان علاقوں کو فتح کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے۔خیبر پختونخوا کا ضلع دیر خان آف جندول کی خودمختار ریاست پر مشتمل تھا اور وہاں بری فوج کی تعیناتی کی مخالفت کی جا رہی تھی جس پر جنرل موسیٰ نے فرنٹیئر کور کی 25پلاٹونوں کو حملہ کرنے کا حکم دیا،مزاحمت دم توڑ گئی،نواب آف دیر اور خان آف جندول کو گرفتار کرلیا گیا،یوں یہ علاقے پاکستان کا حصہ بن گئے۔

جنرل موسیٰ خان نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل دو کتابیں تحریر کیں۔Jawan to Generalاور My Version۔ان دونوں کتابوں میں جنرل موسیٰ نے خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کی اور یہ بھی بتایا کہ مارشل لا کے نفاذ میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا مگر اس دور کی سویلین حکومتیں کس قدر لاچار و بے بس اور بے اختیار ہوا کرتی تھیں،اس کا اندازہ ایک دلچسپ واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جس کے راوی کوئی اور نہیں بلکہ جنرل موسیٰ ہیں

وزیراعظم محمد علی بوگرہ مغربی ممالک کے طرز پرپاکستان میں بائیں ہاتھ ڈرائیونگ کے احکامات جاری کرنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس ہو رہا تھا جس میں جنرل موسیٰ وزارت دفاع کی نمائندگی کررہے تھے۔جب جنرل موسیٰ نے بائیں ہاتھ ڈرائیونگ کی تجویز رد کردی تو ایک بیوروکریٹ نے پوچھا،کیا آپ نے یہ رائے دینے سے پہلے وزیر دفاع کو اعتماد میں لیا ہے؟اس سوال کا پس منظر یہ تھا کہ وزارت دفاع کا قلمدان بھی وزیراعظم محمد علی بوگرہ کے پاس تھا جو اس تجویز کے محرک تھے۔جنرل موسیٰ نے متکبرانہ انداز میں کہا،جب کمیٹی کی رپورٹ وزیر دفاع کو جائے گی تو انہیں میری رائے معلوم ہو جائے گی،رائے وینے کے لیئے پہلے سے ان کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔

یوں پاکستان کے وزیراعظم جن کے پاس وزارت دفاع کا قلمدان بھی تھا،اپنے ماتحت فوجی افسر کی مخالفت کے باعث بائیں ہاتھ ڈرائیونگ کا فیصلہ نہ کرسکے اور یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔جنرل موسیٰ کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے اور سپہ سالاری کے منصب پر فائز یہ شخص کس قدر ضعیف الاعتقاد تھا اس کا انداز Jawan to General میں بیان کیئے گئے ایک واقعہ سے ہوتا ہے

جنرل موسیٰ سی جی ایس تعینات ہوئے تو وزیر خزانہ چوہدری محمد علی نے درخواست کی وہ ان کے سرکاری بنگلے میں منتقل ہو جائیں اور جنرل موسیٰ کی سرکاری رہائشگاہ انہیں الاٹ کردی جائے۔جنرل موسیٰ کا خیال ہے کہ چوہدری محمد علی نے یہ گھر اس لیئے چھوڑا کہ وہاں جنات کا سایہ تھا،رات کو عجیب و غریب اور پراسرار آوازیں سنائی دیتیں۔انہوں نے جنات کو بھگانے کے لیئے مشہد سے ایک پہنچے ہوئے پیر کامل کو بلوایا تاکہ جنات کو گھر سے نکالا جا سکے۔مسلسل تین راتوں کی چلہ کشی اور دم درود کے بعد وہ جنات کو بھگانے میں کامیاب ہو سکے۔

جنرل موسیٰ 8سال تک افواج پاکستان کی قیادت کرنے کے بعد ریٹائرہوئے تو اپنے جانشین کے طور پر کس کا نام تجویز کیا اور ایوب خان نے ان کا مشورہ نظرانداز کرتے ہوئے یحیٰ خان کو کمانڈرانچیف بنانے کا
فیصلہ کیوں کیا؟یہ سب آپ جان سکیں گے،اگلی قسط میں۔سبسکرائب کیجئے اور دیکھتے رہئے ہمارا یو ٹیوب چینل ”ترازو“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*