outline

ٹرمپ کا مواخذہ مگر کیسے ؟

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی باتیں نہایت زور و شور سے ہو رہی ہیں اور اب تو صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں پہلی بار خبردار بھی کر دیا ہے کہ ان کا مواخذہ کرنے کی کوشش کی گئی تو معیشت کو دھچکا لگے گا مگر اصل سوال یہ ہے کہ امریکی صدر کے مواخذے کا طریقہ کار کیا ہے اور کیا ٹرمپ کے مواخذے کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں ؟

امریکی آئین کے مطابق ’صدر کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے اس صورت میں ہٹایا جا سکتا ہے جب انہیں بغاوت، رشوت ستانی، کسی بڑے جرم یا بد عملی کی وجہ سے سزا دینا درکار ہو۔‘

مواخذہ کی کارروائی ایوانِ نمائندگان سے شروع ہوتی ہے اور اس کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس کا مقدمہ سینیٹ میں چلتا ہے۔

یہاں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور امریکی تاریخ میں یہ سنگ میل کبھی عبور نہیں ہوا۔

صدر ٹرمپ کے مواخذے کی باتوں نے تب زور پکڑا جب ڈونلڈ ٹرمپ سے جنسی تعلقات رکھنے والی دو خواتین کو انتخابی مہم کے دوران پیسے دیکر خاموش کروانے کا معاملہ سامنے آیا اور خود صدر ٹرمپ نے رقم دینے کی تصدیق کی

امریکی صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ان خواتین کو رقم دینے سے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور اس بنیاد پر ان کا مواخذہ نہیں کیا جا سکتا جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق ان الزامات کے تحت بطور صدر ان کے خلاف کوئی اور قانونی کارروائی تو نہیں ہو سکتی تاہم ان کے خلاف مواخذے کا راستہ کھلا ہے

ایک اور اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ماضی میں کبھی کسی امریکی صدر کا مواخذہ ہوا بھی یا اس آپشن کو محض دھمکی کے طور پر استعمال کیا گیا ؟

اینڈریو جانسن امریکہ کے 17ویں صدر تھے جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا -1865 میں برسر اقتدار آنے والے اینڈریو جانسن کے خلاف چار سال بعد مواخذے کی تحریک لائی گئی -سنہ 1868 میں جب انہوں نے اپنے وزیرِ جنگ ایڈوِن سینٹن کو برطرف کر دیا تو ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی گئی

ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی بات کرنے والے بھی اینڈریو جانسن کی مثال سامنے رکھتے ہوئے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کے صدر ٹرمپ سے اختلافات کی مشابہت پیش کرتے ہیں

تو کیا اینڈریو جانسن کے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب ہو گئی ؟نہیں ،بلکہ امریکی صدر اینڈریو جانسن بال بال بچ گئے -ان کے خلاف دو تہائی اکثریت محض ایک ووٹ سے رہ گئی اور اس کی وجہ ایوان میں ریپبلکنز کی اکثریت تھی

امریکی صدر نکسن کو بھی واٹر گیٹ سکینڈل پر مواخذے کی دھمکی دی گئی مگر وہ دانا نکلے اور کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی عہدہ صدارت سے الگ ہو گئے

Bill clinton with monika lewinsky

ماضی قریب میں بل کلنٹن ایسے امریکی صدر ہیں جنہیں مونیکا لیونسکی سکینڈل پر مواخذے کا سامنا کرنا پڑا-امریکہ کے یالیسویں صدر کو مونیکا لیونسکی سکینڈل میں جھوٹ بولنے پر مواخذے کا سامنا کرنا پڑا-

امریکی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے پہلے الزام پر 228 میں سے 206 ووٹوں کے ساتھ مواخذے کی حمایت کی جبکہ دوسرے الزام پر 221 میں سے 212 لوگوں نے حمایت کی

تاہم جب 1999 میں یہ معاملہ سینیٹ تک پہنچا تو حکم نامہ کی منظوری کے لیے دو تہائی حمایت حاصل نہ کی جا سکی کیونکہ ان کی جماعت کو سینیٹ میں اکثریت حاصل تھی

تو کیا ان ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے ؟ قانونی اعتبار سے تو شاید اس سوال کا جواب ہاں میں ہے لیکن اس کے لیئے درکار عددی برتری کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ کام انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ ایوان میں ری پبلکنز کو اکثریت حاصل ہے ،اس کے برعکس اگر ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کا اختیار ہوتا تو اب تک مواخذے کی دستاویز پر کام شروع ہو چکا ہوتا

بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ہی ری پبلکنز کو واضح اکثریت حاصل ہے- ایک اور بات جو صدر ٹرمپ کے حق میں جاتی ہے وہ یہ ہے کہ رپبلکنز کی ایک بڑی تعداد صدر ٹرمپ کی وفادار ہے اور رواں ماہ ہی پیو کے ایک سروے کے مطابق ان کی توثیق کی شرح بھی مستحکم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*