outline
Nvaeed ch

ٹرمپ کا انتباہ۔نوید چوہدری

امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی سے قبل ہی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ’’اہم پیغام‘‘ پاکستان کی عسکری قیادت کو پہنچا چکے تھے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی میڈیا بریفنگ میں اس حوالے سے بعض اشارے موجود تھے۔ کسی لگی لپٹی کے بغیر انہوں نے واضح کر دیا کہ اگر ہم متحد رہے تو ملک کو کوئی خطرہ نہیں۔ آپریشن خیبر فور کی کامیابی اور دیگر اہداف مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے کوئی سخت پالیسی آئی تو معاملہ قومی مفاد میں دیکھا جائیگا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ کی تقریر کا بہت بے چینی سے انتظار کیا جارہا تھا، تقریر میں کھلی دھمکی کے ساتھ الزامات بھی عائد کیے گئے۔ یہ کہنا کہ امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر دیتا ہے مگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے بہت سنگین الزام ہے۔ اس سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ پاکستان بالخصوص قبائلی پٹی میں حقانی نیٹ ورک اور دیگر تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کررہا۔ پہلی مرتبہ براہ راست الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان بطور ریاست دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے ۔وارننگ جاری کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے پر پاکستان کو فائدہ جبکہ دوسری صورت میں نقصان ہو گا، امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہے گا۔ امریکی صدر نے پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ وہاں 20 دہشتگرد تنظیمیں کام کررہی ہیں، دنیا کے کسی اور خطے میں ایسی صورت حال نہیں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا بھی معنی خیز ہے کہ ’’ہماری پوری کوشش ہے کہ جوہری ہتھیار یا ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگے‘‘،ٹرمپ نے بھارت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ’’وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان کی اقتصادی معاونت اور ترقی کیلئے مزید کام کیا جائے‘‘ ٹرمپ کی اس تقریر سے یہ تو واضح ہو گیا کہ امریکہ افغانستان سے نہیں جارہا، تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے سخت موقف تو اختیار کیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی صدر پاکستان پر کس حد تک دباؤ ڈال سکتے ہیں، خصوصاً ایسی صورت حال میں کہ جب جلد یا بدیر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان کا کردار اہم ہو گا۔ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور انڈیا کے تعلقات میں اضافے اور افغانستان کی معاشی ترقی میں انڈیا کے کردار پر زور دینے کا مقصد نہ صرف خطے کی وسیع تر علاقائی پالیسی کو تلپٹ کرنا تھا بلکہ پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بھی بجانا تھا۔ افغان جنگ اب ٹرمپ کی جنگ بن چکی ہے اس لیے امریکی صدر نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کوئی عذر تسلیم نہیں کریں گے اور مطلوبہ نتائج حاصل کر کے رہیں گے۔ پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے ان کا یہ کہنا بھی اہم ہے کہ صورت حال تبدیل ہوکر رہے گی اور فوری تبدیل ہو گی۔
امریکی صدر کی دھمکی ہی کیا کم تضحیک آمیز تھی کہ نائب صدر مائیک پنس بھی بول پڑے ’’پاکستان کو نوٹس دے دیا ہے‘‘۔ بھارت اور افغانستان میں موجود پاکستان دشمن لابی کی تو گویا باچھیں کھل گئیں۔ بھارتی حکام نے ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا افغان عوام کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے ہوئے تعمیر و ترقی میں معاونت جاری رکھے گا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ انڈیا افغانستان اور سرحد کے اس پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کے اقدامات کی حمایت اس لیے بھی کرتا ہے کہ ہمارے خدشات اور مقاصد مشترکہ ہیں ،جبکہ افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے افغان امریکہ شراکت داری اہم ترین موڑ پر ہے۔ اس کشیدہ ماحول میں چین نے حق دوستی ادا کرتے ہوئے سب سے پہلے پاکستان کی حمایت میں آواز بلند کی، پاکستان کا اپنا سرکاری موقف سامنے آنے سے بہت پہلے ہی امریکی تنبیہ کے جواب میں چین نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی قوم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اس بیان پر ریاست پاکستان کو چین کا شکر گزار ہونا چاہیے ،مگر اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی کسی صورت بھولنا نہیں چاہیے کہ پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور سی پیک صرف ہمارا ہی نہیں چین کا بھی خواب ہے ،اور ہمیں اس بات کا بھی بخوبی علم ہے کہ سی پیک عالمی اسٹیبلشمنٹ کیلئے ایک ڈراؤنا خواب بنا ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں علاقے کے جو حالات بننے والے ہیں اس کے تناظر میں پلاننگ کرتے ہوئے تمام امور کو سامنے رکھنا ہو گا ۔چین کے بارے میں ایک بات ہم سب کو اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ وہ اس موقع پر صلح صفائی تو چاہے گا مگر کسی نوع کے تنازع میں ملوث نہیں ہو گا۔ چین کسی بھی طور لڑائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھوٹان کے علاقے ڈوکلام میں بھارتی فوج نے 2 ماہ سے جو ’’داداگیری ‘‘شروع کر رکھی ہے اس پر بھی چین نے کوئی عملی اقدام نہیں کیا، ایک آدھ موقع پر لڑائی ہوئی بھی تو دونوں ممالک کے فوجیوں نے ایک دوسرے کو پتھر مارے۔ اب تک معاملہ اس لیے لٹکا ہوا ہے کہ چینی حکام کسی طور مسلح تصادم نہیں چاہتے ورنہ کہاں چین ،کہاں بھارت ۔ ہمارے لیے اس وقت سب سے بڑا خطرہ ملک میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورت حال ہے، شاید اسی لیے سینیٹ کے جہاندیدہ چیئرمین رضا ربانی نے چند روز قبل ہی کہہ دیا تھا کہ ادارے ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت کرتے رہے تو کام نہیں چلے گا۔ پارلیمنٹ کی حیثیت گھٹانے کی کوششیں کسی طور قابل قبول نہیں۔ رضا ربانی نے تجویز دی تھی کہ عدلیہ فوج اور پارلیمنٹ کے نمائندے اکٹھے بیٹھ کر ڈائیلاگ کریں تاکہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرے۔ چند روز قبل تک عام خیال تھا کہ فوج تو دور کی بات عدلیہ بھی ایسی کسی تجویز کو ہر گز نہیں سراہے گی ،مگر اب فوجی ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے کہ فوج گرینڈ ڈائیلاگ کا حصہ بنے گی۔
اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ پاک فوج کی قیادت اس حوالے سے صرف سنجیدہ ہی نہیں بلکہ اس کی ضرورت بھی محسوس کررہی ہے ۔ایک مرحلے پر یہ بھی لگا کہ موجودہ حالات کے حوالے سے کہیں نہ کہیں کوئی دباؤ موجود ہے یا پھر کوئی ایسی گرہ لگ چکی جو آسانی سے کھل نہیں رہی۔ ملک کے اندر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اداروں کو متنازعہ بنانے کا عمل تسلسل سے جاری ہے اور اس میں کوئی ایک فریق قصور وار نہیں۔ کٹھ پتلیوں کے تماشے، نامعلوم افراد کی حرکات ،غیبی اشارے کسی ایک ادارے کے تشخص کیلئے موزوں نہیں تو انصاف کے ایوانوں کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں اور اب خود وکلاء برادری نے جج گردی کے نعرے لگانا شروع کر دیے ہیں، سیاستدان تو بدنام تھے ہی مگر عدالتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں بھی عوام کی ایک غالب اکثریت کی رائے منفی ہونے کا عمل جاری رہا تو پورے ریاستی ڈھانچے کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے، بہتر ہو گا کہ ’’وسیع تر قومی مفاد‘‘ کے نام پر ایک دوسرے کی غلطیاں چھپانے کی بجائے سامنے لا کر حل کیلئے تدابیر کی جائیں۔ یہ بات کوئی نہیں مانے گا کہ ملک میں سول ملٹری تعلقات کاکوئی مسئلہ سرے سے ہی موجود نہیں اب تو عام آدمی بھی کسی اہم واقعہ کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کسی ’’مقدس گائے‘‘ کا ذکر کرنے سے نہیں چونکتا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی میڈیا کانفرنس میں کی گئی باتیں بذات خود سوالات کی صورت اختیار کر گئی ہیں۔ فی الحال اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ فوجی ترجمان کو ایسی کسی بھی بریفنگ سے پہلے معاملے کے تمام پہلوؤں کا نہایت احتیاط سے جائزہ لے کر اپنے رائے دینا چاہیے،یہ بھی بالکل درست بات ہے کہ میڈیا خصوصاً کنٹرولڈ چینل ملک میں غیر یقینی صورت حال کو بڑھاوا دینے کے ایجنڈے پر ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صاحبان ایجنڈا تو اپنے مشن پر لگے ہوں اور دوسری جانب سے کوئی جواب نہ آئے۔ پاکستان میں انارکی پیدا کرنے کی سازش کرنے والے بین الاقوامی شاطر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے اندرون ملک کسی کو بھی آلہ کار بنا سکتے۔یہاں کوئی دودھ کا دھلا نہیں۔اسٹیبلشمنٹ کو خود سوچنا چاہیے کہ اس کے چینل ’’بول‘‘ کے اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ڈی جی رینجرز سندھ کی تقریر کے خلاف لائیو پروگرام میں استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا، ڈی جی رینجرز نے صرف یہی کہا تھا کہ ہر کوئی خود کو پنجابی، پختون، سندھی، بلوچی اور مہاجر کے بجائے پاکستانی کہلوائے۔ ہو سکتا ہے کہ فوجی افسر اپنی بات کو مؤثر پیرائے میں بیان کرنے میں ناکام رہے ہوں، مگر عامر لیاقت نامی اس خاص الخاص اینکر کا رویہ کئی سوالات چھوڑ گیا ہے، ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے جمہوری نظام اور سیاسی جماعتوں کو آئین پاکستان کے دائرے میں کام کرنے کا موقع دینا ہو گا۔ دھونس اور دھرنوں کی سیاست یا این آر او کے نام پر آئین اور قانون کا مذاق اڑانا کسی طور پر سود مند نہ ہو گا۔معاشرے میں صرف موقع پرست سیاستدان، سرکاری افسران یا مختلف قوتوں کے آلہ کار کا رندے ہی نہیں باشعور سول سوسائٹی بھی موجود ہے۔اختیارات کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کیلئے بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش بہت پیچیدہ نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔آزاد تجزیہ کاروں کی رائے تو یہی ہے کہ آنے والے چیلنجوں سے نمٹنا ایک یا دو اداروں کے بس میں نہیں رہ جائے گا۔ اس وقت ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی ہے، کسی حل کی طرف بڑھنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے جن کے ہاتھ میں اصل اختیار اور طاقت ہے۔ معاملات کو سلجھانے کے بجائے کسی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے الجھانے کی کوششیں جاری رہیں تو پھر ہر شے اپنا اثر کھو سکتی ہے، ٹرمپ کی دھمکی وارننگ بھی ہے اور ویک اپ کال بھی۔
چلتے چلتے جناب رضوان رضی کی ایک ٹویٹ ’’ جو باتیں ٹرمپ نے کی ہیں وہی بیچاری جمہوریت نے کرنے کی کوشش کی تھی تو ہم نے ڈان لیکس کر کے ان کا تورا بورا کر دیا، ٹرمپ کو جے آئی ٹی کے سامنے کون طلب کرے‘‘

تبصرے “ 1 ”

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*