outline
awais-ghauri

قادیانیت کا ’’رانگ نمبر‘‘۔محمد اویس غوری

سگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’ انسانوں کی ایک خاصی بڑی تعداد کو محبت کے کھونٹے سے باندھنا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے بشرطیکہ ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو ان متحدہ لوگوں کی جارحیت کا نشانہ بن سکیں‘‘۔ وطن عزیز میں نفرت کے سوداگروں کی دکانیں پھلتی پھولتی دیکھ کر خیال آتا ہے شاید فرائیڈ نے یہ بات ہمارے معاشرے کے بارے میں ہی کہی تھی۔ ذات پات ٗ مذہب ٗ لسانیت ٗ صوبائیت ٗ زبانوں ٗ رنگوں کی سیاست تو بہت پرانی ہے لیکن تجربات و مشاہدات بتاتے ہیں کہ اس سے ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے۔ جب تک آپ ان عوارض سے جان چھڑوا کر بحیثیت انسان آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے ٗ ترقی کی معراج کی پہلی سیڑھی پر بھی قدم نہیں رکھ پاتے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے ٗ کیا سے کیا ایجادات ہو رہی ہیں ٗ کون کون سے سیارے مسخر کئے جا رہے ہیں اور ہم آج بھی ریاستی معاملات میں انہی مغالطوں کا شکار ہیں اور مسلسل ’’رانگ نمبرز‘‘ سے کالز وصول کر رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نظر سے گزری ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ پروفیسر ساجد میر فرما رہے تھے:
’’ پاکستان کی فوج دنیا بھر میں سب سے بڑی اسلامی فوج ہے اور اس اسلامی فوج کا سربراہ کوئی غیر مسلم نہیں ہو سکتا ہے۔جو نام اس وقت آرمی چیف کیلئے زیر غور ہیں اطلاعات کے مطابق ان میں سے ایک خاندان کا تعلق ایسے لوگوں سے ہے جن کا ختم نبوت کے حوالے سے عقیدہ غیر اسلامی ہے ۔ اس لئے میرا مطالبہ ہے حکمرانوں سے کہ وہ اس حوالے سے توجہ کریں اور کوئی ایسا نام سلیکٹ کرنے سے گریز کریں جس کا تعلق ایسے خاندان سے ہو جن کا عقیدہ غیر اسلامی ہے اور خاص طور پر ختم نبوت کے حوالے سے یہ بہت ضروری ہے ۔ ملک کے مستقبل کیلئے ٗ دینی حلقوں کو اپنے ساتھ رکھنے کیلئے اور اللہ کی طرف سے ٗ اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ایک ذمہ داری بھی ہے حکمرانوں کی کہ وہ ایسے کسی نام سے گریز کریں جو آئندہ پاکستان کیلئے اور دینی اقدار کیلئے تباہ کن ثابت ہو ٗشکریہ ‘‘۔
پہلی بات تو یہ کہ ان تمام باتوں کا انحصار محض افواہوں اور قیاس آرائیوں پر ہے۔اور باالفرض یہ خدشات حقائق پر مبنی ہوں تو بھی ان کاسیدھا سا جواب یہ ہے کہ پاکستان کا آئین و قانون اجازت دیتا ہے اسی لئے تو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی فوج میں ایک قادیانی یا قادیانی خاندان کی طرف رجحان رکھنے والا شخص فوج کے اعلیٰ عہدے تک پہنچا ہے اس لئے آپ کا یہ فرمانا کہ اسلامی فوج کا سربراہ کوئی غیر اسلامی نہیں ہو سکتا ٗ آپ کی ذاتی رائے ٗ یا آپ کا اپنا خیال ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان کے آئین میں اس کی گنجائش ہے تو پھر آپ کو پہلے آئینی طور پر یہ قرار داد پیش کرنی چاہیے کہ قادیانیوں کو اس ملک میں کسی بھی سرکاری ملازمت کا کوئی حق نہیں ہے ۔ لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ قادیانی جو کے پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم قرار پا چکے ہیں ان کو اس ملک میں اقلیت کے طور پر رہنے کی اجازت حاصل ہے یا نہیں ؟ انہیں یہاں پر بنیادی انسانی حقوق حاصل ہو سکتے ہیں یا نہیں؟۔ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ استدلال پیش کیا جاتا ہے کہ قادیانی کافر نہیں بلکہ مرتد ہیں اور اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے۔ مان لیتے ہیں لیکن جناب جنہوں نے اسلام کو ترک کر کے قادیانیت اختیار کی وہ تو مر کھپ گئے اور ان کی اولاد تو کبھی مسلمان تھی ہی نہیں تو ارتداد اسلام کا اطلاق کیسے ہوتا ہے ان پر؟ س لئے انہیں تو پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق یہاں پر زندگی گزار نے کی اجازت ہونی چاہئے اور پاکستانی شہری ہونے کے ناتے انہیں مساوی حقوق ملنے چاہئیں۔
ہم یہ نہیں بتاتے کہ بھارت جیسے ہندو انتہا پسند ملک میں بھی سکھ وزیر اعظم اور مسلمان صدر بن سکتا ہے ٗ امریکہ جیسے ملک میں جہاں کالے چند دہائیوں قبل غیر انسانی زندگی گزارتے تھے وہاں ایک کالا صدر بن سکتا ہے تو پاکستان دنیا کے نقشے پر کون سا ایسا انہونا ملک بن گیاہے جہاں پر آج بھی وہی گھسے پٹے مسائل اٹھائے جاتے ہیں جن کا اس ملک کے عام عوام کے کسی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ علامہ ساجد میر نے ایک اور نقطہ مذہبی حلقوں کا اٹھایا یعنی اگر حکومت نے آرام سے ریاستی معاملات چلانے ہیں تو ملک کے مستقبل اور مذہبی حلقوں کو ساتھ رکھنے کیلئے کسی بھی ایسے نام سے گریز کریں جو پاکستان اور دینی اقدار کیلئے تباہ کن ثابت ہوں ۔ معذرت کے ساتھ پاکستان کیلئے جو چیز سب سے خطرناک ثابت ہوئی ہے وہ یہاں کی مذہبی سیاست کا رویہ رہا ہے جو اسلام کیخلاف یہود و ہنود کی سازشوں اور قادیانیوں پر ہی سیاست کر رہے ہیں جنہوں نے آج تک پاکستان کے بنیادی مسائل یعنی بیروزگاری ٗ امن و امان ٗ مہنگائی وغیرہ کو درخور اعتنا سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کہ اور یہاں پر ہر مذہبی رہنما اسی آس اور کوشش میں دنیا سے چلا جاتا ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کر دے۔ لیکن لگتا ہے کہ اللہ بھی ہم سے ناراض ہے جو ہمارے مذہبی رہنماؤں کی کسی دعا کو بھی قبولیت کا شرف نہیں بخش رہے ٗ اسلام کی نشاۃ ثانیہ ٗ مسلمانوں کا عروج ٗ پوری دنیا میں اسلام کا غلبہ کوئی بھی دعا تو اللہ قبول نہیں کر رہے ۔ اس کی کوئی وجہ تو ہو گی؟
شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے
اس کے سجدوں میں اثر ہو ٗ یہ ضروری تو نہیں
پاکستانی تاریخ کے کامیاب ترین وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان قادیانی تھے،طبعیات کے شعبے میں نوبیل ایوارڈ لینے والے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی تھے ،اب بھی بہت سے کلیدی عہدوں پر قادیانی متمکن ہیں ،ایک قومی شاعر سمیت متعدد اہم شخصیات کے متعلق اس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں تو کیا ان سب کو تاریخ سے کھرچ کر پھینک دیا جائے؟قائد اعظم کا تعلق اہل تشیع مسلک سے تھااور بعض مسالک کے نزدیک یہ لوگ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو کیا قائداعظم سے بھی لاتعلقی کا اعلان کر دیا جائے؟
’’رانگ نمبرز‘‘ سے متواتر آنے والی کالز پر نہ جائیں ،پاکستانیت اور انسانیت کا جھنڈا اٹھائیں،قادیانی بھی انسان ہیں،پاکستانی ہیں اور انہیں اچھوت بنا نے والے اسلام کے خیرخواہ ہیں نہ پاکستان کے۔

55 تبصرے

  1. بہت ہی اچھا، مدلل اور مکمل کالم ہے۔ خوشی ہے کہ نئے لکھنے والے نوجوان لوگ نفرت اور ہیجان انگیزی سے بالاتر ہوکر سوچتے ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔

  2. کالم نگار نے وہی کام کیا ہے جس کا الزام مذہبی رہنماؤں اور جماعتوں پر لگایا ہے. اپنے کالم میں موصوف نے قادیانیوں کی وکالت کرنے کی کوشش کی ہے.

    1. کالم نگار نے قادیانیوں کی ہرگز وکالت نہیں کی ۔ انہوں نے بے لاگ بات ضرور کی ہے۔ قادیانی کارڈ بڑی کامیابی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور بھٹو صاحب نے کوشش کی تھی کہ اس کا استعمال آخری ہو لیکن لگتا ہے کہ ابھی تک اس میں رس باقی ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو تفکر سے روکنا آسان ہے اور ایسے معاشرہ میں جہاں اکثریت اگر تعلیم سے محرومی کا شکار ہو تو یہ اکژیت جلد توہمات اور افواہوں کا شکار ہو سکتی ہے۔ یقین جانیے یہی لوگ قادیانیوں کے حقیقی مددگار ہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹ ملا کر افوہیں چھوڑتے ہیں اور جب جھوٹ ثابت ہو جائے تو لوگ متنفر ہو جاتے ہیں۔

    2. احمدی پاکستان کے سچے وفادار پاکستانی ھین اور پاکستان بنانے والوں میں سے ھین احمدیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ھے یا جو کچھ ھو رھا ھےپھر بھی پاکستان کی حفاظت کے لئے دن رات دعائیں کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے

  3. Meray bhai jo marzi in kay haq men likho Yeh log kabhi pakistan aur islam Kay haq men naen hungay… Hamesha sazish aur munafkat krengay…. Ap jasay logun ka masla yeh ha keh molvi ko gali day kar islam ko gali daitay aur apna dil thanda kartay ho

    1. Kia aap yah batana pasand karain gai kah kab qadianion nai mulk Kai khilaf Sazish Ki or koi Aisa wakia share karain koi saboot dain.Aaj tak aik Bhi wakia aap ko Nahin Milan gai.Khuda Kai wastay jhoot bolna chor dain.Aur Zara ghor karain aaj tak Kai tamam wakiat Jin sai Pakistan or Islam ko nuqsan pohancha hai Woh kid nai kiya hain.Aap Kai moonh par khud hi chapair paray gi.Agar aap ka Zameer Abhi tak zinda hai to,

    2. bhai sasish koi daleel bhi honi chahie asal meen sasish ka ilzam laganeen wale wohi log heen jo pakistan ke aour Qaide Azam ke Mukhalif
      the yeh qAdianioon ki aar meen Qaid Azam per hamla karte heen
      kioon keh in ke nazdeeq Qaid azam bi sashoon meen shareek the kioon keh unhoon neen hi pakistan ke muqadima ke lie ek qadiani ko wakeel muqarar kia aour phir ek qadiani ko wazeere kharja banaaia

    3. Ap koi saboot ya waqiya btaen jis main qadiyanis ney mulk k khilaf koi Sazish ki ho ? Apk comment sey ye Zahir hota hai k ap nafrat kartey ho unsey wo nhn kartey

  4. جہاں علما حضرات دیگر احکامات پر عوام پر رقت طاری کردیتے ہیں، تو آپﷺ کا وہ فرمان ِ مقدس بھی گوش گزار کردیا کریں کہ صفائی نصف ایمان ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ہم ذاتی صفائی پر توجہ دیں لیکن معاشرے کی اجتماعی صفائی پر رویہ بے حسی کا مظہر ۔ میں نے شاید ہی کوئی ندی یا جھیل ایسی دیکھی ہو جہاں دولت مند اور تعلیم یافتہ افراد پکنک منانے آئے ہوں اور وہ وہاں کوڑا کرکٹ نہ پھینک گئے ہوں۔ کاش ہمارے حکمرانوں کوبھی عقل آجائے اور وہ دیگر آفاقی امور کے علاوہ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی توجہ دیں جو ہمیں مہذب قومبناسکآی

  5. Tamam mazhbi jamatain pakistan ke khilaaf thein pakistan ko palidistaan aur quaid azam ko kafir e azam kehney wali yehi mazhabi jamatain hain ye log mazhab ka naam istemaal kartey hain aur pakistan ko shadeed nuqsan puhcha rahe hain, Rasoole khuda ne in ulma ke barey farmaya tha ke ye suar aur bandar ke mushabeh hon ge,allah tala islam aur pakistan ko inkey shar se mahfooz rakhay,aur

  6. اسلام میں کہیں نہیں لکھا کہ اپ کسی کلمہ گو کو کافر کہیں اور پھر اس سے اسکے جینے کے سارے حق ہی چھین لیں ۔۔۔ پھر اپ میں اور برما کے غیر مسلموں میں اور قریش مکہ میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔۔۔اسلام تو چھوڑیں انسانیت بھی نہی۔۔۔ امن بھی نہی۔۔ اسوہ رسول بھی نہی۔۔۔ صرف مذہب کے نام پر سیاست اور اپنی مسجدیں چلا رہے ہیں ۔۔۔ کیا یہ مسلمان ہیں جی بچوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتیاں کرتے ہیں مسجدوں میں ۔۔ شرابیں پیتے ہیں ۔۔ کرپشن اور نا انصافی عام ہے۔۔۔ فحش اور بے ہودہ آخلاق نے پوری قوم کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔۔۔ صرف کرسی کا معاملہ ہے ۔۔۔ اور کوئی بات ہی نہی۔۔۔ لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں یہ حکمران۔۔۔ بھول گئے کہ مکہ اور مدینہ میں کافر ۔مشرک۔ یہودونصاری۔اور بدو سب اکٹھے رہتے تھے اور اپنے اپنے مذہب کے مطابق ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انکے مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔۔۔اب تو ان عدالتوں کے فیصلے بھی حکمرانوں اور پیسے والوں کی مرضی سے ہی ہوتے ہیں ۔۔ غریب عوام اور مظلوم کو کون پو چھتا ہے۔۔۔ اب تو ایک ہی دعا ہے کہ اے اللہ ان فرعون صفت حکمرانوں کے لئے کوئی موسی بھیج دے امین ۔۔۔

    1. جی بالکل ایسی آزادی تو ھر انسان کا حق ہے ۔۔ اسلامی قانونِ شریعت اور عام تعلیماتِ اسلام بھی یہی سکھاتی ہے ۔۔۔۔
      مگر
      آئینِ پاکستان کی رو سے اقتدارِ اعلٰی اللّہ کے پاس ہے اور کوئی قانون اور کام قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا
      اور ایک قادیانی کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کی مکمل پیروی نہیں کر سکتا
      اور وہ فوج جس کا مقصد ہی ” ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ” ہو اس کا سربراہ اگر ایک غیر مسلم ہو تو کیا وہ فوج اپنے مقاصد پورے کریگی ؟؟؟
      اس لیے اگر تو واقعی کوئی غیر مسلم بھی فہرست میں شامل ہو تو فوراً سے پیشتر نکال دیا جانا چاہیے۔
      باقی تمام غیر مسلموں کو جینے اور لکھنے ، پڑھنے ، کاروبار کرنے ، غرض ہر کام کی مکمل آزادی ہونی چاہیے اور یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ اس آزادی کو یقینی بنائے
      اور جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ٖیر مسلموں کے مل جل کر رہنے کی بات ہے تو اس میں بھی کبھی کسی بھی لشکر کا سپہ سالار کسی غیر مسلم کو نہیں بنایا گیا ۔۔۔ نہ ہی کسی اہم تزویراتی اور خاص عہسہ یا مرتبہ پر کسی غیر مسلم کو فائز کیا گیا۔۔۔۔
      براہ مہربانی غلط بات نہ کریں۔۔ شکریہ

  7. اللہ کرے انداز بیاں اور زیادہ ۔۔ تعلیم حاصل کرنا فرض تو مسلمان پر کیا گیا ۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے چین جانے کی بھی تاکید فرمائی لیکن اسکے حصول میں سرگرم ھیں غیر مسلم اور دھریہ اقوام ۔ صرف اسلئے کہ انہوں نے قران اور صحیح احادیث سے سبق حاصل کیا اور اپنایا ۔ آج ان اقوام کی ترقی اور خوشحالی اسی سسٹم کی مرھون منت ھے جو کہ اسلام سے مستعار ھے۔ بلکہ اسلام پر عمل ھی انھوں نے کیا ھے۔ اور اب اللہ کے فضل سے سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کی راھنمائی میں *اکثر احمدی کر رھے ھیں۔۔
    ھر گام پر فرشتوں کا لشکر ھو ساتھ ساتھ۔
    ھر دیس میں تمھاری حفاظت خدا کرے۔۔آمین ثم آمین ۔۔ طالب دعا۔ دعا گو ۔
    ڈاکٹر محمد بشیر چوہدری

  8. بردارم محترم انسان دوستی کے جذبات کی قدر کرنی چاییے۔ پاکستان کی اقلیتوں کو آئین کے مطابق حق بھی ملنے چاہییں۔آپ نےممکنہہ قادیانی ض شخص کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے وہ بھی صحیح ہے۔ مگر قادیانی حضرات کا ٹریک ریکارڈ کے لیے کچھ باتیں آپ کے غور کے لیےعر ؑرض کرتا ہوں۔ عبدسلام سائسدان کے مطعلق صاحزادہ فارق سابقہ وزیر خاریہ کا قصہ عرض ہے۔ ملک صاحب جو ایک نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والے صحافی تھے۔ اپن کتاب میں ذکر کرتے ہیں۔ امریکا میں ایک مینتنگ میں میرے سامنی عبسلسلم نے امریکوں کو پاکستان ایٹم بمب کا مالڈل دیکھا کر مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ میں کہہ رہا تھا ہم ایٹم بمم نہیں بنا رہے امریکوں نے مجھے اس کا ماڈل دیکھا دیا۔سرظفراللہ نے تقسیم کے وقت جب اآبادی ک حساب کتاب ہو رہا تھا تو قیادنیانیوں کو غیر مسلم بنا کر ہندووں کے آبادی کو زیادی کر دیا جس وجہ سے پائنڈری کمیشن نے گرداس پور بھارت کر دے دیا۔

    1. آپ نے تو وہی الزام لگایا ہے جس کا ملاں راگ آلاپ رہا ہے حوالہ ایک کتاب کا دیا ہے جیسے وہ الہامی ہو۔ کبھی انسان اپنے دماغ کا معمولی استعمال کر کے صرف ایک سادی سی بات پر غور کرے کہ آج ہماری فوج کے سپہ سالار کو کن لوگوں کے خلاف ضرب عضب کرنا پڑ رہا ہے۔ کیا اس زمانے کا ملاں اس کا نشانہ نہیں ۔ جھوٹ غلاظت پر مبنی اس گند کو اس وقت ہماری فوج قربانیاں دے کر صاف کر رہی ہے جو کہ سارا ان ملاؤں نے امریکہ کی مدد سے ہماری نسل کی رگوں میں ڈالا ہوا ہے۔ یہ دین فروشُ ملاں ہی ہے جس نے پاکستانی قوم کو ۷۲ فرقوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے پر کفر اور واجب القتل کے فتوے صادر کیے ہوے ہیں۔ مگر افسوس یہ سادہ سا سچ سمجھ میں نہیں آ رہا مگر الزام۔۔۔۔۔۔۔

    2. بھائ اپ کے پاس اس بات کا کوی ثبوت ہے جو اپ لکھ رہے ہیں تو برائے مہر بانی پیش کریں۔ بغیر ثبوت کے کچھ لکھ دینا حق کی بات نہیں ہے۔ جزاکالله
      اور ثبوت ایسا ہونا چاہے جو اپ کے مطابق جو “سچ” ہے۔ اُس کو مکمل ثابت کرتا ہو۔

  9. غوری صاحب!
    آپ جیسے صحافی دیانتدار ، مہب وطن الله پیدا کرتا رہے گا
    کیا خوب کہا ہےشعر
    یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
    بہار زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
    محبت سب کیلۓ نفرت کسی کیلۓ نہی
    یہ شعر عین اس عبارت کے مطابق .
    ہے
    اآپ نے بلکل صیح تحریر کیا ہے اور جرآت سے صحافت کے شعبے کی نمائیدگی کی ہے۔ آپ مبارک کے مستحق ہیں ۔ الله آپ کو لمبی زندگی شجاعت سے گزارنے کی طاقت عطا فرماۓ۔ آمین

  10. اسلام علیکم
    بہت ھی اچھا کالم لکھا ھے لیکن ان ملاؤں کو کون سمجھائے جنہوں نے قوم کو یرغمال بنایا ھوا ھےجو کوئ انکی بات نہ مانے اسکو احمدی بنا دیا جب تک آپ سب بحیثیت قوم متحد نہیں ھوں گے آپ ترقی نہیں کر سکتے مسلمانوں کی سب بڑی کمزوری یہی ھے یہ بحیثیت قوم متحد نہیں ھیں سب سے پہلے ھم سب انسان ھیں اسکے بعد مذھب آتا ھے مذھب نزدیک لانے کیے لئیے ھوتے ھیں ناکہ دور کرنے کے لئیے

  11. مجھے تو اس ساری بحث میں ’’اسلامی ملک‘‘ کی اصطلاح بڑی عجیب لگتی ہے۔ قرآن تو کہتا ہے کہ ساری زمین اللہ کی ہے اس لئے ساری زمین اسلامی ہے البتہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو تو اسے مسلمانوں کا ملک کہہ سکتے ہیں لیکن زمین کو اسلامی اور غیر اسلامی میں تقسیم نہیں کرسکتے۔ اسی طرح ریاست بھی اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوسکتی البتہ حکومت مسلمانوں کی ہوسکتی ہے وہ بھی اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوسکتی۔ اسلام ایک دین ہے جو انسانوں کے لئے ہے ریاست اور حکومت غیر انسانی غیر مرئی وجود ہوتے ہیں اس لئے انہیں اسلامی یا غیر اسلامی کہنا بالکل غلط ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو لوگ اسلام کی بنیاد پر ایک غیر مسلم کو آرمی چیف بنانے سے انکار کرتے ہیں انہیں قرآن و سنت سے اس کے دلائل دینے چاہئیں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اسلام کے نام پر اپنی نفرت اور بغض کا اظہار کرتے رہیں۔

    1. سنت کے مطابق کوئی ایک مثال بھی نہیں جب ایک اسلامی لشکر کا سپہ سالار کوئی غٖیر مسلم بنایا گیا ہو ۔۔۔۔ اگر آپ کے پا س ہے تو پیش کیجیئے
      اور آئینِ پاکستان کی رو سے اس ملک میں کوئی کام قرآن و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا۔۔۔

  12. پاکستان کی مذھبی سیاسی جماعتوں اور انکے رنگ لیڈروں کا مسئلہ یہ ھے کہ لوگ انتخابات میں انکو ووٹ نہی ڈالتے ان کی للچائی نظریں ھر وقت اقتدار کی کرسی کی طرف ھوتی ھیں وہ سیاستدانوں کو مذھب کا نام لیکر بلیک میل کرتے ھیں کہ سیاست ملاں کے ماتحت رھے۔
    جماعت احمدیہ ان کے لئے سب سے آسان ٹارگٹ ھے جو چاھیں احمدیوں کے خلاف کہیں اور سیاست دانوں سے وعدے لیں کہ وہ ملاں کے تابع فرمان رھیں گے اس طرح ملاں سیاست میں پچھواڑے سے داخل ھو جاتا ھے ایسی مذھبی بلیک میلنگ میں پاکستان دنیا بھر میں لا ثانی ھے جب تک ملاں کو ملکی معاملات سے الگ نہی کیا جائے گا یہ کمبخت ملک میں امن نہی ھونے دے گا۔
    تحریک پاکستان میں موجودہ مذھبی سیاسی جماعتوں نے سخت مخالفت کی پاکستان کو نا پاکستان کہا قائد اعظم کو کافر اعظم کہا اور آج یہی جماعتیں پاکستان کی مالک نبی بیھٹی ھیں جبکہ جماعت احمدیہ نے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا حضرت قائد اعظم رح نے خود سر ظفراللہ خان صاحب کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر فرمایا تب ملاں خاموش تھا چونکہ پاکستان نیا نیا بنا تھا اور اسے تحریک پاکستان میں اپنا مخالفانہ کردار یاد تھا بعد میں پھر اس نے مذھب کا نام لیکر سیاستدانوں کو اپنے قابو میں کرنا شروع کیا اور آج بھی وہ یہ کام کر رھا ھے۔

  13. سر ظفر الله خان صاحب كو قائد اعظم نے باؤنڈری کمیشن میں مسلم لیگ کا نمائندہ بنا کر بهیجا تها. قائد اعظم نے ہی وزیر خارجہ بنایا
    گورداسپور والی جعلی کہانی میں ذرا سی بهی حقیقت ہوتی تو کیا قائد اعظم محمد علی جناح سر ظفر اللہ خان صاحب کو بهلا وزیر خارجہ بناتے.
    کچھ عقل کو بهی ہاتھ ماریں. احراری جو پاکستان کانگرس کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کو بازاری عورت کہتے تهے ان حقائق پر پردہ ڈال کے عوام کو دهوکہ دینے سے اب باز بهی آجائیں

  14. Thanks for this writing. We appreciate your thinking and expression. You are right. We need to think as Pakistani nation and not divide Pakistan on relegious or any other base. We hope you will continue your such writings for the betterment of nation and Pakistan. May Allah bless you and your family and keep you happy always.

  15. Ahmadi gaddar hn,isai aur yahood k agent hn ,pakistan ban ne k khilaf the ab mulk khilaf sazishn krte phirte hn in ko non_muslim qrar de dya ab mulk se nikala jye.
    Isi trha ki baten aksar sun ne ko milti hn
    But wait a moment,
    Ksbi in ko sabit b kya gya?
    History me jab gaddar,agent,mulk dushman talsh krne niklen to wafadar,muhibe watan, jan nisare watan,gazi wagera se mosoom ahmadoyon ka zikr milta ha.
    Taqseem pak indo k doran chohri zafrullah khan shb pr ilzam 1974 me b lsga k india ko ap ne pakistsn k ilake dye us pr justice kyani jo ahmsdi nhn the, ne kaha k me b taqseem commety ka membr tha chohdri zafrulah khan shb ne bari imsndari se kam kya .
    Etraz krne wslon ko pehle tareekh ka mutalia kr lena chahye.
    Sirf yehi nhn bal k 1965 ki jung k hero general akhtar hussain aur abdul Ali mslik ,Gen iftikhar janjua (phle pakistani Gen jo shaheed hue)Genmuneer, air commandant Abdullah saeed Aur sab se bari bat k nobel prize pane wale pàkistan sur muslim dunya k pehle Sciencetist Dr Muhammad Abdussalam hain,
    Ye hn wo log jin ko gaddar ,mulk dushman wagera ka nam dya jata ha.
    Quran kareem me Allah Tala hukum deta ha k jab koi khabar momin sune to tahqeeq kr lya karen , agar khud ko momin kehte ho to Allah ka hukum to man lo atleast.
    May God guide u to the right path.

    1. سب سے پہلے تو میں قرآن کریم کی آواز میں کہتا ھوں۔ لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔ خدا تعالی کی لعنت ھو کھو ٹومب پر۔
      اب میرے کچھ سوال ہیں کیا کوئی جواب دے سکتا ھے
      با نئ جماعت اسلامی مودودی صاحب نے قا ید اعظم کو کا فر اعظم کہا اور پاکستان کو کا فرستان کہا۔ کیا یہ صحیح نہں کہ ۔ ان کے علاوہ اور بھی مولوی حضرات تھے جو پاکستان کے خلاف تھے۔ پھر یہ بھی کیا غلط ھے کہ ۱۹۳۷ میں جب حضرت قائد اعظم مولویوں سے تنگ آکر کیونکہ مولوی صاحبان گاندی جی کے حامی اور مددگار بنے ھوئے تھے کہ قائد اعظم تنگ آکر لندن چلے گئے اور پھر کس کی کوششوں سے واپس ہندوستان آئے اور پاکستان بنانے کے لئے پھر دوبارہ سیاست میں قدم رکھا اور ہمیں پاکستان بنا کر دیا۔

      1. جی نہیں مودودی صاحب نے کبھی بھی ایسا نہیں کہا۔۔۔
        تو اس طرح خود آپ ہی کے بیان کے مطابق ” لعنۃ اللہ علی کاذبین” آپ پر پوری اترتی ہے ۔۔۔
        کیونکہ قرآن ہی کے مطابق ” جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئےتو پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرو” ۔۔۔
        جو بیان آپ مودودی صاحب سے جوڑ رہے ہیں وہ تو چند علماء دیوبند نے اپنی ذاتی حیثیت میں دیا تھا ۔۔ کیونکہ دیوبند سے ہی مفتی تقی عثمانی اور دیگر کئی علماء تحریک پاکستان میں آگے آگے تھے۔۔
        اور مودودی صاحب نے ہی ایک کتابچہ ” دو قومی نظریے” کے حوالے سے لکھا تھا جو مسلم لیگ جگہ جگہ تقسیم کرتی تھی ۔۔۔
        اور مودودی صاحب اگر اتنے ہی برے ہوتے تو کیا قائد اعظم ان کو ریڈیو پا کستان سے تقریر کرنے بلاتے؟؟؟

  16. وہ جھوٹ اتنی صفائی سے بولتے ہیں
    ایسا لگا ,  سب سچائی سے بولتے ہیں

    گہرے زخم لگے ہیں روح پر اتنے شدید
    اپنوں سے بھی بے وفائی سے بولتے ہیں

    کچوکے لگا کے دل کو آزار دیتے رہے بار بار
    اندر کچھ اور باہر , دلربائی سے بولتے ہیں

    امید سحر کے پروانے جل مرے شمع پر
    کئی اور بھی وہاں رسوائی سے بولتے ہیں
    …ابن ریاض..

  17. اس مضمون سے یہ بات تو واضح ہے کہ لکھنے والا پاکستان اور انسانیت کا درد رکھتا ہے اور سچے دل سے ان کا خیر خواہ ہے۔ تبصرہ کرنے والے بعض حضرات نے اپنے متعصبانہ تبصروں سے ان کی بات کی سچائی پر مہر بھی ثبت کردی۔ ہر قسم کی نفرت کی بنیاد غلط فہمیاں ہیں اور جو لوگ ملک اور اسلام کو نقصان پہچانا چاہتے ہیں وہ غلط فہمیوں کو ہی اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔ اس لئے اپنے مطالعہ کو وسیع کرتے ہوئے ان غلط فہمیوں کا علاج کرنا چاہئے تاکہ کو مطلب پرست ملک و قوم کو نقصان پہچانے کے لئے قوم کے فرزندوں کو ہی ہتھیار نہ بنا لے۔

  18. انسانیت کا تقاضہ تو یہی ہے کہ سب برابر ہیں ۔۔۔ کوئی کسی بھی مذہب مسلک کا ہو ملک اس کا اپنا ہوتا ہے ۔ بہت اچھا کالم ہے ۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے ۔۔۔

  19. Good … is m kuch shak n k Mullahizm ne Islam ka naam le kr Islam ko naqabil e talafi nuqsan ponchaya ha. Muzhab ka khoon kia ha. Pakistan ki P na bnanny dene waly molvi aj Mazhab r Pakistan k thaikydaar ban gaey hn r Fasaad fil Araz ka moojib hn. Allah mullah k sharr s Pakistan ko mehfooz rakhy. Ameen

  20. مجھے افسوس ہے کہ ایسے کالم بھی شائع ہوجاتے ہیں . دنیا کے تمام ممالک میں سپہ سالا ہمیشہ ان کے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں. رہی بات آئین کی تو آئین میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ صدر وزیراعظم صرف مسلمان ہی بن سکتا ہے.. چونکہ فوج ایک اہم ترین ادارہ اور ملک کی دفاع کی ضامن ہیں اس لئے اس پردرجہ بالا قانون پر قیاس کر کے فوج کا سربراہ بھی صرف مسلمان بن سکتا ہے…کے

  21. جو مرضی کہو لیکن قادیانیوں کے ہاتھ ملکی دفاع نہیں دیاجا سکتا نہ ہی کسی اور ملک کی مثال کا انطباق ہم پر ہو سکتا ہے۔ کالم پڑھ کر لگا جیسے پیسہ بولا ہے یا مذہب۔

  22. ”اے ملکہ معظمہ قیصرۂ ہند! خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہدِ حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے، تیری ہمدردی رعایہ نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں… تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔” (ستارہ قیصرہ ص:15)۔

  23. سادسًا سب سے بڑھ کر انگریز کے خلاف جہاد کو نہ صرف انتہائی پُرزور الفاظ میں حرام اور منسوخ قرار دیا، بلکہ انگریز کے خلاف دل میں جذبۂ بغاوت یا دشمنی رکھنے والوں کو احمق، سخت نادان، سخت جاہل، نافهم مُاّف، دشن خدا، منکر نبی، شریر، بدذات، حرامی، بدکار، نالائق، ظالم، چور، قزاق اور اسی قسم کے بیہودہ خطابات سے نوازا۔

    سابعًا : اس دور میں جہاں کہیں بھی انگریزوں اور مسلمانوں میں تصادم ہوا، اُمت مرزائیہ نے وہاں اپنے ”نبی” کی تعلیمات کے مطابق مسلمانوں کی تائید وحمایت کی بجائے انگریزوں کی تائید کی، ان کے لئے فتح ونر ت کی دعائیں مانگیں اور مسلمانوں کی شکست اور انگریزوں کی کامیابی پر جشنِ فتح منایا۔ مثلاً :1914ء کی جنگ عظیم اول میں ترکوں کو جو شکست ہوئی اور بعض عرب علاقے ترکیہ کی اسلامی خلافت سے انگریزوں نے الگ کردیے، اس پر اُمت مرزائیہ کا تبصرہ ملاحظہ ہو:
    “حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں… کہ گورنمنٹ میری تلوار ہے، پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (فتح بغداد) پر کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق عرب ہو یا شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں… دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے دو فرشتے تھے، جن کو گورنمنٹ کی مدد کیلئے خدا نے اتارا تھا۔” (الفضل 7 ستمبر ٫1918)۔

    اس سے کچھ عرصہ پہلے روس نے اسلامی ترکیہ پر حملہ کرکے بعض علاقے ہتھیا لئے تھے۔ اس پر مرزائیوں کا ردِعمل ملاحظہ ہو:
    ۔”تازہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ روسی برابر ترکی کے علاقے میں گھستے چلے جاتے ہیں… اﷲ تعالیٰ ظالم نہیں، اس کا فیصلہ درست اور راست ہے اور ہم اس کے فیصلے پر رضامند ہیں۔” (الفضل 10 نومبر ٫1914)

  24. یہ معاملہ حساس ہے اس لیے کافی تبصرے آئے۔یہ حقیقت ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ 1973 کے آئین نے یہ فیصلہ کر دیا ہے۔ لیکن بغیر تحقیق اور بغیر جانے کسی کو قادیانی کہہ دینا مناسب نہیں۔ٹی وی شو میں جہاں تک کہا گیا کہ نواز شریف نے اپنے اتحادی سے یہ شوشہ چھوڑا۔ جیسے پہلے محمودخان اچکزئی سے کہلوایا گیا تھا۔ پھر فضل لراحمان سے بھی فوج کت خلاف باتیں کروائی گئیں۔ پہلے مشاہداللہ نے فوج کے خلاف بات کی۔ اس کو فارغ کیا۔ اب ڈان لیکس میں پرویز رشید کو فارغ کیا۔۔ فوج پر دبائو ڈالنے کے لیے یہ شوشہ چھوڑا گیا یہ کہنا ہے شاہد مسعود ٹی وی اینکر کا۔ اللہ کرے نواز شریف کو عقل آئے اور وہ فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہوں۔ فوج بھی سیاسی معاملات میں دخل نہ دے۔پاکستان کی کشتی صحیح سمت ۔چلتی رہے آمین
    میر افسر امان کالمسٹ
    کراچی

  25. ہم امن پسند مسلمان اس بات سے سو فیصدی متفق ہیں کہ اسلامی قوانین و معاشرت میں غیر مسلم اقلیتوں کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن جو اقلیت، قرآن و حدیث، آئینِ پاکستان اور قوانینِ عالمِ اسلامیہ کے مطابق خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم ہی نہ کرے، بلکہ خود کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے فیصلے پر، آن ریکارڈ دورانِ بحث قانون ساز اسمبلی اور ما بعد ابتک اس متفقہ علیہ آئینی اورشرعی فیصلے کے خلاف سب مسلمانوں کو کھلےعام کافراورجہنمی قراردے کرخود کو کافریا غیر مسلم نہیں، بلکہ زندیق ( یاد رہے کہ زندیق وہ کافر ہے جو کافر ہونے کے باوجود مسلمان ہونے کا دعوی کرے اور جواباً اصل مسلمان کو کافر قرار دے) ثابت کرے تو پھرایسی اقلیت کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہیے؟

  26. جو قادیانی خود کو کافر قرار دینے والے آئین پاکستان کو ولد الحرام پاکستانیوں کی کتاب قرار دیتے ہیں یا پاکستان کی سلامتی کے خلاف سرعام زہر اگلتے ہیں کیا وہ بحیثیت اقلیت اپنے فرائض پورے کر رہے ہیں یا خود کو اقلیت کی بجایے ایک زہرآلودہ ناسور ثابت کر کے ہمیں آنے والی خلافِ اسلام اور ملک دشمن سازشوں کے بارے الارم کر رہے ہیں

  27. قادیانیت کے بارے نرم گوشہ رکھنے والے احباب ، ان کے جعلی نبی مرزا غلام قادیانی کی کتابوں میں مسلمانوں کے بارے لکھی گالیاں ضرور پڑھ لیں ۔۔
    مسلمانوں کیلئے توہین آمیز القاب اور فحش گالیاں

    نمبر1 ۔۔۔ کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔ (آئینہ کمالات ص ٥٤٧
    نمبر2 ۔۔۔جو دشمن میرا مخالف ہے وہ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ہے۔ (نزول المسیح ص ٤، تذکرہ ٢٢٧
    نمبر 3 ۔۔۔ میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ۔ (نجم الہدیٰ ص ٥٣مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی
    نمبر 4 ۔۔۔ جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔
    ( انوارالاسلام ص ٣٠مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

  28. فاضل کالم نگار اگر قادیانی ہیں تو پھر بجا طور پر اپنا نمک حلال کیا ہے مزید بھی کریں”نولہ ما تولی”اور اگر قادیانی نہیں ہیں تو پھر جن کی وکالت کا بیڑہ اٹھایا ہے ان کے سپریم لیڈر کے بقول وہ “حرامزادے ” ہیں اور “بیابانوں ” کے خنزیر ” اور وہ سبھی جو قادیانی کو اپنا نبی نہیں مانتے ان کی عورتیں “۔ ۔ ۔ ۔ ” ہیں ۔ ۔ میرے قلم میں یہ سکت نہیں کہ فاضل مضمون نگار اور وہ سب عامۃ المسلین جو سیدالانبیا ، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں ان کی خواتین کے متعلق وہ الفاظ نقل کروں جو مرزے گامے کادیانی نے کۓ ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس قدر لچر،بےہودہ ،بازاری اور گھٹیا زبان جو اپنے مذہبی مخالفین کیلۓ استعمال کرتا ہے وہ تو امن ، رواداری ، محبت اور باہمی اخوت کے جذبات کو فروغ دے رہا ہے اور جو ملا چیخ چیخ کر اس ملعون کی حقیقت لوگوں کو بتا رہا ہے وہ نفرت کا بیوپاری ۔ ۔ ؟
    انصاف کا یہ کیسا میزان ہے جو نجانے کن بلیوں نے موصوف کالم نگار کے ہاتھ میں دیا ہے
    قاید اعظم نے ظفراللہ کو پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا ۔ ۔ بالکل بجا ۔ ۔ لیکن ظفراللہ نے قاید اعظم کا جنازہ یہ کہ کر پڑھنے سے انکار کر دیا کہ مجھے “کافر حکومت کا مسلمان ملازم یا مسلمان حکومت کا ، کافر ملازم سمجھ لیجۓ ”
    اب بقول آپ کے جنہوں نے قاید اعظم پر کفر کے فتوے لگاۓ (حالانکہ آپ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ کس ملا نے قاید اعظم پر کفر کا فتوی لگایا تھا ، کم از کم مودودی صاحب نے نہیں ) وہ تو آپ کے ہاں لایق گردن زدنی ٹھہرے جو قاید اعظم کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں وہ آپ کی ھمدردیوں کے مستحق ۔ ۔ ؟ تفو برتو اے چرخ گرداں تفو
    اور پھر سوال یہ بھی ہے کہ جو قاید اعظم کے پیش کردہ تقسیم پاکستان کے فارمولے سے اختلاف کرنے کی جرآت کر لیں وہ تو کانگریسیۓ مولوی یا ہندوؤں کے ایجنٹ اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فدہ ابی وامی وروحی کے متعلق قرآن مجید فرقان حمید کے نظریہ ختم نبوت کو تار تار کرکے اس کی دن رات تبلیغ کرے وہ سچا پاکستانی ۔ ۔ ؟
    آپ جیسے کالم نگار ان متفقہ تصورات جن پر پوری امت کا اتحاد ہے ان کو چھیڑ کر خود نفرتوں کی باد سموم کو بلاوے دے رہے ہیں ۔ ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ قادیانی نہیں ہیں تو پھر آپ کو قادیانیت کا علم ہی نہیں ہے اور اگر نہیں ہے تو پھر اس قدر خامہ فرسای کر کے اپنا اور ہمارا وقت کیوں برباد کر رہے ہیں ۔ ۔وہ کام کیجۓ جو آپ کو موزوں ہو یا پھر جاییں اور کچھ پڑھ کے آییں ۔ ۔ ۔یہاں پہلے ہی نام نہاد لنڈے کے دانشوروں کی فوج ظفر موج علم و دانش کے ساتھ شب و روز کھلواڑ میں مصروف ہے

  29. بلکہ میرا مشورہ یہ ہے کہ فاضل مضمون نگار کتابوں کے مطالعہ کی بجاۓ ہندی فلموں پر اپنا وقت صرف کریں جیسا کہ ان کے عنوان سے ظاہر ہے ۔ یہ کتابیں ،شتابیں ان کی سمجھ سے بالاتر ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*