تازہ ترین
outline

سلیکشن ہو چکی اب فقط الیکشن باقی ہے-نصرت جاوید

فیصلہ تو اسی دن آگیا تھا جب حکم ہوا کہ حنیف عباسی کے خلاف سات سال سے چلائے ایفی ڈرین کیس کو ہر صورت 21جولائی تک نمٹادیا جائے۔ اس حکم کے بعد مجھ ایسے قانون کی باریکیوں سے نابلد افراد کو بھی خوب علم تھا کہ ”وہ کیا لکھیں گے جواب میں“۔ اس کے باوجود ہفتے کی دوپہر 12بجے سے رات 11بجے تک راولپنڈی شہر ڈرامائی سسپنس کی گرفت میں رہا اور بالآخر ”ٹانگہ آگیا کچہریوں خالی….“

حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ ضمانت کا حصول ایسی سزا پالینے کے بعد بہت دشوار ہوجاتا ہے۔ ہائی کورٹ سے انکار کے امکانات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ کم از کم دو سال کی ذلت ورسوائی بھگتنا لازمی نظر آرہا ہے اور مجھے گماں ہے کہ حنیف عباسی اپنے حصے میں آئی ذلت کے لئے ذہنی طورپر تیار تھے۔

راولپنڈی کے شہریوں کو اگرچہ 25جولائی سے پہلے ہی ان کے شہر سے قومی اسمبلی کی اس نشست کا ”نتیجہ“ مل گیا ہے جہاں حنیف عباسی پاکستان مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر راولپنڈی ہی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کے مقابل کھڑے تھے۔ بقراطِ عصر کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت اس سے قبل دورِ حاضر کا صادق وامین بھی ٹھہراچکی ہے۔ یہ سعادت ان سے قبل فقط عمران خان کو نصیب ہوئی تھی۔

بدقسمتی مگر یہ بھی رہی کہ عمران خان کو ”لاڈلا“ کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔بقراطِ عصر کی جانب کوئی توجہ ہی نہیں دیتا جنہوں نے اپنے شہر میں حکومتی وسائل سے ایک ہسپتال بھی تعمیر کروانا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کا غریب مریضوں کے لئے پریشان ہوتا دل بھی اس ہسپتال کی فوری تعمیر کا خواہاں ہے۔ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوجانے کے بعد فرزندِ لال حویلی کے لئے اس تعمیر کو فاسٹ ٹریک پر مکمل کروانا آسان ہوجائے گا۔

راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے فرزند عمران خان صاحب کے بھی بہت لاڈلے ہیں۔ تحریک انصاف نے راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی ایک نہیں دونشستیں انہیں دان کررکھی ہیں۔ کئی پھنے خان الیکٹیبلز لاکھوں جتن کے بعد گلے میں تحریک انصاف کا دوپٹہ ڈلوانے کا شرف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے مخالفین نے انہیں حقارت سے ”لوٹا“ پکارا مگر 2018کے انتخابات میں فتح کی کنجی تصور ہوتا بلے کا انتخابی نشان انہیں نصیب ہوگیا۔ فرزندِ لال حویلی کو اس نشان کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ قلم دوات سے کام چلارہے ہیں۔

عاشقانِ عمران خان حنیف عباسی کو ملی سزا کے بارے میں بہت شاداں ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ریحام خان صاحبہ سے ان کے کپتان کے بارے میں ایک ”گندی“ کتاب لکھوانے میں حنیف عباسی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹویٹر پیغامات کے ذریعے باور کروایا جارہا ہے کہ ربّ کریم نے کپتان سے ہوئی ناانصافی کا ازالہ کردیا۔ وہ ”خونی لبرلز“ جو حنیف عباسی کو ملی سزا کے طریقہ کار پر سوالات اٹھارہے ہیں خاص طورپر ان عاشقان کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

بہت تواتر سے انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ حنیف عباسی ایک ”منشیات فروش“ تھا۔ حکومت سے ایفی ڈرین کا کوٹہ لیا اور اسے منشیات کی پرچون فروشی میں مبتلا عناصر میں بانٹ دیا۔ یہ پرچون فروش ایفی ڈرین کو چھوٹی پُڑیوںمیں ڈال کر شہر بھر میں پھیلارہے تھے۔ ربّ کا لاکھ لاکھ شکر کہ تاخیر ہی سے سہی انصاف ہوگیا۔ سیاست کی آڑ میں منشیات فروشی کو تحفظ دینے والے ایک بڑے مجرم سے نجات مل گئی۔

سیاست کی آڑ میں منی لانڈرنگ جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے والا ایک اور گروہ جسے لوگ ”شریف خاندان “کے طورپر جانتے ہیں ”مافیا“ کہلوایا۔ اس مافیا کے دو سرکردہ افراد عمران خان صاحب کی محنت شاقہ کی بدولت اڈیالہ جیل جاچکے ہیں۔ خاں صاحب نے یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ اب اڈیالہ جانے کی باری شہباز شریف کی ہے۔ میں ان کے اس دعوے سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوں۔

سیاسی اعتبار سے حنیف عباسی راولپنڈی میں شہباز شریف کا آدمی تصور ہوتے تھے۔ میٹروبس ان کی نگرانی میں تعمیر ہوئی۔ اس شہر میں صحت اور تعلیم پر خرچ ہوئے ترقیاتی فنڈز بھی حنیف عباسی کے وسیلے سے تقسیم ہوئے تھے۔سپریم کورٹ سے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے بعد جب سزا یافتہ ہوئے سابق وزیر اعظم نے ”مجھے کیوں نکالا“ کے سوال کے ساتھ اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور جانے کا ارادہ باندھا تو آغاز سفر میں ان کا شوپھسپھسا تھا۔ حنیف عباسی نے بہت خلوص سے شہباز شریف کی پراگمیٹک  سوچ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے شہر میں رونق نہ لگنے دی۔معافی مگر نصیب نہیں ہوئی۔ سوپیاز کے ساتھ سوجوتے بھی مقدر ہوئے۔ شہباز شریف ”اپنے بندے“ کا تحفظ نہ کر پائے۔ حنیف عباسی کا حشر احد چیمہ جیسا ہوگیا۔ فواد حسن فواد بھی اسی صف میں کھڑے ہیں۔

راولپنڈی ہی سے قومی اسمبلی کی ایک اور نشست سے قمرالاسلام نامی سابق رکن صوبائی اسمبلی چودھری نثار علی خان کے خلاف پاکستان مسلم لیگ نون کی ٹکٹ سے امیدوار کھڑے ہونے کیجرات  دکھابیٹھا۔ ان دنوں نیب کی حراست میں ہے۔ قمرالاسلام اور حنیف عباسی کا مقدر ہوئی ذلت ورسوائی اس بات کو یقینی بنارہی ہے کہ 25جولائی کے دن اٹک سے جہلم تک پھیلے پوٹھوہار میں نون لیگ کی کامیابی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔یہ خطہ سپریم کورٹ کے ہاتھوں صادق وامین قرار پائے فرزندِ راولپنڈی اور چکری سے اُٹھے بااصول محب وطن چودھری نثار علی خان کا ہوچکا ہے۔

تجزیہ نگاروں کو انتخابی نتائج کا تخمینہ لگانے کے لئے کسی ”لہر“ یا ”ہوا“ کی ضرورت ہوتی۔ یوم انتخاب سے چار رووز قبل حنیف عباسی کو عمر قید سناکر نون مخالف ”لہر“ کو مہمیز لگادی گئی ہے۔ دیکھئے اس کا اثر وسطی پنجاب میں کہاں تک جاتا ہے۔ کم از کم راولپنڈی شہر تو فرزندِ راولپنڈی کے لئے کلیئر ہو گیا۔ سلیکشن  ہوچکی اب فقط الیکشن باقی ہے کیونکہ رسم دُنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*