تازہ ترین
outline

دھرنوں کے دوران خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے کہا ،استعفیٰ دیدو یا رخصت پر چلے جائو،نوازشریف

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف نے احتساب عدالت میں دیئے گئے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی سزا دی جا رہی ہے ،دھرنوں کے دوران خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ استعفیٰ دیدو یا پھر طویل رخصت پر چلے جائو

احتساب عدالت میں چل رہے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنا بیان مکمل کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ نوازشریف کا کہنا تھاکہ مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباؤ بڑھادیا گیا، مجھے دھمکی نما مشورہ دیا گیا کہ بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک کردو، بذریعہ زرداری پیغام دیاکہ مشرف کےدوسرےمارشل لاء کو پارلیمانی توثیق دی جائے، میں نے مشرف کے دوسرے مارشل لاء کو پارلیمانی توثیق دینے سے انکار کیا، آصف زرداری نے مصلحت سے کام لینے کا کہا، وہ میرے پاس ایک قومی لیڈر کےپاس آئے۔

nawaz statement

انہوں نے کہاکہ مشرف کےخلاف مقدمہ شروع ہوتے ہی اندازہ ہوگیا کہ آمر کو کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہوتاہے، میرے خلاف جھوٹے، بے بنیاداور خودساختہ مقدمات کی وجہ جنرل مشرف کو سنگین غداری کیس میں کٹہرے میں لانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ شاید قانون اور انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاسات کے لیے بنے ہیں۔ جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی دھار کند ہو جاتی ہے اور فولاد بھی موم بن جاتا ہے۔

‘جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ایک منصوبے کے تحت خصوصی عدالت میں پیش ہونے کی بجائے راولپنڈی کے آرمڈ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چلے گئے تھے۔’

عدالتی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا رویہ کافی جارحانہ تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ججز ایک گھنٹے کے لیے بھی فوجی آمر کو جیل نہیں بھجوا سکے۔

اُنھوں نے کہا کہ ججز نے ملزم پرویز مشرف کے عالی شان محل کو سب جیل قرار دیا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی قانون یا عدالت غداری کے مقدمے کے ملزم کو ہتھکڑی بھی نہ لگا سکی۔

سابق وزیراعظم نےکہا کہ 2014کے دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤ میں لانا تھا، مجھ پر لشکرکشی کرکے پیغام دینا مقصود تھا کہ مشرف غداری کیس کو چلانا اتنا آسان نہیں ہے، لشکر کشی کرکےپیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہوجاؤ یا طویل رخصت پر چلے جاؤ، میرے راستے پر شرپسند عناصر بٹھادیے گئے، منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ میں دباؤ میں آجاؤں گا، کہا گیا وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائیں گے، مقصدتھا مجھے پی ایم ہاؤس سےنکال دیں، مشرف کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھے، پی ٹی وی، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر فسادی عناصر سےکچھ محفوظ نہ رہا، امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، کون تھا وہ امپائر؟ وہ جوکوئی بھی تھا اس کی پشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی۔

نوازشریف کا کہنا تھاکہ میں نے سرجھکا کرنوکری کرنے سے انکار کردیا، میں نے اپنے گھر کی خبر لینے اور حالات ٹھیک کرنے پر اصرار کیا، میں نے خارجہ پالیسی کوقومی مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، مجھے ہائی جیکر کہیں، مجھے سسیلین مافیا کہیں، مجھے گاڈ فادر کہیں، مجھے غدار کہیں، فرق نہیں پڑتا، میں پاکستان کا بیٹا ہوں مجھے اس مٹی کا ایک ایک ذرہ پیارا ہے، میرے آباو اجداد ہجرت کرکے یہاں آئے، میں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی توہین سمجھتاہوں۔

سابق وزیراعظم نےکہا کہ چونکہ پاکستان کے عوام مجھ سے محبت کرتے ہیں، مجھے ووٹ دیتے ہیں اور وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھاتے ہیں اس لیے میں نامطلوب شخص قرار پایا، کبھی آئینی معیاد پوری نہیں کرنے دی گئی، سبق سکھانے کے لیے قید کیا گیا، کال کوٹھریوں میں ڈال دیا گیا، ہائی جیکر قرار دے کر عمر قید کی سزا دی گئی، خطرناک مجرموں کی طرح ہتھکڑی ڈال کر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا گیا، ہر ممکن تذلیل کی گئی، ملک سے جلا وطن کیا گیا، جائیدادیں ضبط کی گئیں اور گھروں پر قبضہ جمالیاگیا، جب ساری پابندیا توڑ کر واپس آیا تو ہوائی اڈے سے ہی ایک بار پھر ملک بدر کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*