تازہ ترین
outline

میرے ماموں کا بیٹا -حیدر نقوی

آج کل سوشل میڈیا پر ماموں کے بیٹے کامران کا بہت چرچا ہے اور کامران کی شہرت پی ایس ایل کی شہرت پر حاوی ہوچکی ہے جس سے بات کرو جس طرف جائو بس ماموں کے بیٹے ہی کہ باتیں ہیں شاید دنیا میں آج تک ماموں کو اتنی شہرت نہ ملی ہو جتنی اب تک ماموں کے بیٹے کو مل چکی ہے اس سے پہلے کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ کامران کون ہے اور کیا کرتا ہے کہاں رہتا ہے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر یہ ہمارے کونسے ماموں کا بیٹا ہے اور ان ماموں کا پورا تعارف کیا ہے جب اپنے بڑوں سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ کوئی سگے ماموں نہیں ہیں بلکہ انھیں پیار سے سار ا جگ ماموں کہتا ہے اس لیے ہم سب بھی ماموں کہتے ہیں جب یہ پوچھا کہ آخر کیوں سب ماموں کہتے ہیں تو پتہ چلا کہ ان ماموں کو بچپن سے ہی ماموں بننے کا شوق تھا اس لیے جہاں جہاں گئے جس جس سے ملے سب نے ماموں ہی بنادیا ہے ان جگ ماموں کی پیدائش 1947 میں ہوئی تھی اور تب سے اب تک نہ جانے کتنی دفعہ دنیا انھیں ماموں بننے پر داد دے چکی ہے جبھی تو ہم فخر سے انھیں ماموں کہتے ہیں اور حکومت کی مہربانی سعودی عرب کی جیلوں سے رہا ہونے والا ہر فرد ہمارے ان ماموں کا بیٹا ہے اور روز جہاز بھر بھر کر ماموں کے بیٹے سعودی عرب سے گھر پہنچ رہے ہیں ۔ اگر ہم اپنے ان ماموں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسے لاتعداد واقعات نظر آئیں گے جہاں ہمیں اپنے ان ماموں پر ماموں بننے پر شدید غصہ آئے گا مگر کیونکہ ماموں کونانا جی نے ماموں بنایا اور وہ ہر لحاظ سے ہم سے کئی گناہ معتبر ہیں لہٰذا سوائے غصہ کرنے کے اور کچھ ہم کربھی نہیں سکتے یہ وہ نانا جی ہیں جنہوں نے ماموں بنانے میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ماموں کی اب ساری دنیا میں شہرت یہ ہے کہ اُن کی جب جو چاہے جیسے چاہے خدمات حاصل کرسکتا ہے بس بدلے میں ماموں کا موڈ بنانے کے لیے یا تو ڈالرز دکھانے پڑتے ہیں یا ماموں کی غیرت جگانا پڑتی ہے ماموں کی اس حالت کےاصل ذمہ دار نانا جی ہیں کیونکہ انھوں نے نہ ماموں کو مستقل پڑھنے دیا نہ کبھی کوئی ہنر سیکھنے دیا اور نہ ہی کوئی ڈھنگ کا کام کرنے دیا نانا جی کا جب دل چاہتا ماموں کو انگریزی اسکول میں داخل کرادیتے اور کبھی مدرسے میں کبھی دوائیں بیچنے پر لگادیتے کبھی انڈے بس نانا ماموں کا دھندا ہر سال بدل دیتے جس سے ماموں کے مزاج میں شارٹ کٹ کمائی کا حصول مضبوطی سے سرایت کرگیا اور اب ماموں کی وجہ سے پورا خاندان ہی اس پر لگا ہوا ہے۔

میں نظر ڈال رہا تھا ماموں بننے کی تاریخ پر جب سے ہمارے ماموں نے آنکھ کھولی بڑے فخر سے ماموں بننا شروع کردیا سب سے پہلا ماموں انھیں ہمارے ابا جی نے مانا اور ہمارے ابا جی کی دیکھا دیکھی سب کے ابا جی نے انھیں ماموں ماننا شروع کردیا اب تو میری کلاس کے ہر بچے کے یہ ماموں بن چکے تھے میرے ابا جی اپنا کاروبار کرتے تھے تو انھیں ماموں کی سب سے زیادہ ضرورت پڑتی تھی صبح دوپہر شام کہیں سے کچھ لانا ہوکچھ چھپانا ہو کچھ چرانا ہو بس ابا جی کا واحد آسرا ماموں ہی تھے مجھے تو ماموں پر کبھی کبھی بڑا رحم آتا تھا کہ ایک اکیلے ماموں اور سارے جگ کے مسئلے منہ دینے کے لیے ۔میرے ایک دوست کے ابا جی پولیس میں تھے انھیں ماموں کی سب سے زیادہ ضرورت تھی کبھی وہ ماموں کو بندوق تھماکر گشت پر لے جاتے تھے تو کبھی بارشوں اور سیلاب میں کشتیاں چلانے اور کبھی الیکشن میں ڈیوٹی لگانے ماموں کو یہ سب بہت اچھا لگتا تھا اس لیے میرے دوست کے ابا جی نے ماموں کو دل کھول کر ماموں کا رتبہ دیا اور جب جب جہاں ضرورت ہوئی بھیج دیا اُن کی وجہ سے ماموں کی ملک سے باھر بھی بڑی دھاک بیٹھ گئی اور اب ملک سے باھر بھی اگر کسی کو کوئی بہادر چاہیے ہوتا تو وہ ماموں سے ہی رابطہ کرتا آہستہ آہستہ ماموں پوری دنیا میں چھاتے چلے گئے اور اُن کا ڈنکا بجنے لگا اب وہ ایسی جرات و بہادری کی علامات بن چکے تھے کہ اگر کہیں کسی کو بچانا لوٹنا مارنا یا ڈرانا ہوتا تو ماموں کو ہی یاد کیا جاتا ۔ میرے ایک اور دوست کے ابا جی سیاست دان تھے اُن کے لیے تو ماموں سونے کی چڑیا تھے جب دل چاہا نعرے لگوانے کے لیے لے گئے جب دل چاہا دھرنے دینے کے لیے لے گئے جب دل چاہا ماموں کو ہر غلط کام کے لیے استعمال کرلیا کیونکہ ماموں کو ماموں بنے کا شوق تھا اور میرے اس دوست کے ابا نے ماموں کو ایسا ماموں بنایا کہ بیچارے اب اپنے اس شوق کو اپنا دشمن سمجھنے لگ گۓ تھے ماموں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ سب کا گناہ اپنے سر لے لیتے اور اس کے بدلے اگر کوئی تھوڑی بہت اُن کی مدد کردے تو اُن کے کچھ دن اچھے گزرجاتے ہیں یہ کام وہ بچپن ہی سے کررہے ہیں ایک دوست کے ابا نے ایک بہت بڑی ڈکیتی ڈالی اور الزام ماموں پر لگادیا کچھ لاکھ روپے کے بدلے ماموں نے دوست کے ابا کے بدلے جیل کاٹ لی اور جب جیل سے باہر آئے تو واپس اپنے پرانے دھندے ماموں بننے پر لگ گئے ۔ ماموں کو پھر چند لاکھ کی رشوت ملی اور ماموں نے اپنا گھر کچھ بدماشوں کو کرائے پر دے دیا وہ بدماش ماموں کے گھر میں چھپ کر اسلحہ اور بم بنانے لگے ماموں کو سب پتہ تھا مگر خاموش رہے کیونکہ ماموں کے ابا جی نے اس کے بدلے وہ لاکھوں روپے جو لے لیے تھے لہٰذا اگر ماموں شور کرتے تو لاکھوں روپے بھی واپس دینا پڑتے جو کہ ماموں کے ابا جی ایک دن میں ہی کھا چکے تھے۔ کیونکہ ماموں کو ماموں بننے کا بہت ہی شوق تھا اس لیے ماموں کی شہرت کو دیکھتے ہوئے ماموں کو دوسرے ملکوں سے بھی ماموں بننے کی آفریں آنے لگیں کبھی کسی ملک کے لیے ماموں کو اپنے بچوں کی بٹالین بھیجنے کے لیے کہا گیا کہ زرا حالت خراب ہیں تمھارے بچے تمھاری طرح ماموں ہی ہونگے تو سب سنھبال لیں گے۔ کہیں کسی کی سینہ زوری روکنے کے لیے بلایا گیا تو کہیں سینہ زوری دکھانے کے لیے کیونکہ ماموں ہر کام کے ماہر ہیں اور کام جتنا الٹا ہو ماموں اتنے کارآمد ۔ ماموں کو کیا چاہیے بس نانا جی کے لیے چند لاکھ باقی جو کام لینا ہے لو ماموں حاضر ۔ اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو ماموں کو سب سے زیادہ ماموں بنانے میں نانا کا ہاتھ ہے ظاہر ہے اگر نانا نہیں ہوتے تو ماموں بھی نہیں ہوتے تو سلام تو نانا کو ہونا چاہیے کہ جن کی وجہ سے آج ماموں دنیا بھر میں ماموں بن کر جی رہے ہیں مزے کی یہ بات ہے کہ جتنا ماموں کمزور اور لاغر ہوگئے ہیں اتنا ہی زیادہ نانا جوان اور طاقتور ہوگۓ ہیں لہٰذا نانا کو ماموں کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ انھیں پتا ہے کہ ماموں کی خیر ہے ماموں جیسے تیسے اپنا گزارہ کرلے گا اور نہ کرپایا تو وہ ماموں کے دوستوں کو بتادیں گے کہ بھائی ماموں اب تھک گیا یا تو قیمت بڑھائو تاکہ کام کم کرے یا پھر دوسرا ماموں ڈھونڈو ۔ نانا جی نے ماموں کو ہر سال ماموں بنایا ہر بار ماموں بنایا گرمیوں میں ماموں بنایا سردیوں میں ماموں بنایا جینے میں بنایا مرنے میں بنایا جمہوریت میں بنایا آمریت میں بنایا گلیوں میں بنایا سڑکوں پر بنایا دھرنوں میں بنایا سرحدوں پر بنایا مسجد میں بنایا منبر پر بنایا چرچ میں بنایا مندر میں بنایا غرض ہر دور میں ہر جگہ ماموں بنایا اب حال یہ ہے کہ ماموں کے گھر والے ماموں کے ماموں بننے کہ اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اگر اب ماموں کو کوئی ماموں نہ بنائے تو وہ اسے ماموں کے خلاف دشمنوں کی سازش کہتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نانا جی ماموں کی نئی خدمات کے بدلے ماموں کو اور کتنا ماموں بننے دیں گے کیا اس کے بعد رہا ہونے والے ماموں کے بیٹے کی باری ہے ماموں بننے کی یا پھر نانا جی ماموں ماموں کے اس کھیل کو ختم کرکے اپنی آخرت کی فکر کریں گے اور یاد اللہ میں باقی زندگی گزاریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*