تازہ ترین
outline

“کوکو کورینا“کا قتل عام،لگتا ہے کوک اسٹوڈیو احمقوں کے ہاتھ لگ گیا،،وحید مراد کے صاحبزادے کا ردعمل

مشہور کہاوت ہے “اولڈ اِز گولڈ“ اگر آپ نے نہیں سنی یا اس کہاوت کی سچائی پر کوئی شک ہے تو کوک اسٹوڈیو کے گیارہویں سیزن کا ریمکس گانا “کوکو کورینا“ سن لیں جسے فلم اور موسیقی کے مداح قتل عام قرار دے رہے ہیں

کوک اسٹوڈیو جب بھی کوئی ڈیبیو گانا ریلیز کرتا ہے اس پر کچھ نہ کچھ تنقید ضرور ہوتی ہے لیکن اس بار تو یوں لگ رہا ہے جیسے مومنہ مستحسن اور احمد رضا میر نے مداحوں کو سرخ جھنڈی دکھا دی ہے

سہیل رانا کا نام ہمیشہ سے پاکستانی موسیقی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور ملک میں شاید ہی کوئی ایسا بچہ ہے جس نے اپنے والدین کو کو کو کورینا گنگناتے نہیں سنا ہوگا-چاکلیٹی ہیرو وحید مراد نے فلم ’ارمان‘ کے ذریعے اس گانے کو امر کر دیا

اب جب کوک اسٹوڈیو کے ذریعے گلوکارہ مومنہ مستحسن اور احمد رضا میر نے اسے ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی تو سب کے جذبات بھڑک اٹھے

پہلا وار وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کیا، کیونکہ کچھ لوگوں کے نزدیک تو یہ گانا سننا بھی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے شیریں مزاری نے اس ریمکس گانے کو “قتل عام “قرار دے ڈالا -اس پر مومنہ کہاں چپ رہنے والی تھیں انہوں نے بھی جواب دیتے ہوئے کہا “آپ کے جذبات مجروح کرنے کے لئے معذرت، یہ آپ کا حق ہے کہ آپ ہمیں جانچیں اور اپنا غصہ نکالیں، اسی طرح ہمارا حق ہے کہ آزادی اظہارِ رائے کو استعمال کریں، بطور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق آپ کو کوک اسٹوڈیو کو سراہنا چاہیے جس نے ہمیں اپنے جذبات کے اظہار کا موقع دیا“

یہ نوک جھونک شیریں مزاری اور مومنہ تک محدود رہتی تو الگ بات تھی ،یہاں تو سب ہی دل میں طوفاں چھپائے بیٹھے تھے

بات اس نہج پر پہنچ گئی کہ وحید مراد کے صاحبزادے عادل کو مداحوں سے معافی مانگنی پڑی۔ انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ’میں نے کوک سٹوڈیو پر بھروسہ کیا، مگر لگتا ہے کہ اب یہ برانڈ احمقوں کے ہاتھ میں ہے۔‘

یہاں تک کہ اپنے ہی گھر سےتنقید ہونے لگی اور گلوکار زوہیب حسن نے بھی کوک سٹوڈیو کے اس سیزن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سال کے گانوں کے معیار سے بالکل مطمئن نہیں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*