outline
institute-of-communication-studies

ماس کام کا گلیمر۔۔۔ابن سید

جمعرات کو علوم ابلاغیات پر چند طلبہ نے حملہ کیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں واقعہ ہو اور ادارہ علوم ابلاغیات اس سے متاثر ہو تو بھلا ہمارا میڈیا خاموش کیوں رہے۔ دھڑا دھڑ میڈیا پر بریکنگ نیوز چلنا شروع ہوگئیں۔ میں بھی اپنے دفتر میں بیٹھا کام میں مصروف تھا۔ میرے ساتھ ایک اور دوست جو خیر سے میرے کلاس فیلو رہے ہیں فوری گویا ہوا ہو ناں ہو یہ جماعتیوں کی کارروائی ہوگی۔مجھے بھی یقین تھا کہ واقعہ پنجاب یونیورسٹی کا ہے کام تو جماعتیوں کا ہی ہوگا۔ اسائمنٹ ایڈیٹر سے کہہ کر اپنی ٹیم واقعے کو کور کرنے کے لئے بھیج دی اور فورا ہی اپنے چینل پر تین ٹکرز چلا دئیے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ادارہ علوم ابلاغیات پر جمعیت کے غنڈوں کا حملہ، اساتذہ نے ڈیپارٹمنٹ کو تالے لگا کر خود کو اندر بند کر لیا۔ وائس چانسلر موقع پر پہنچ گئے اور پولیس کی بھاری نفری طلب کر لی گئی۔ یہ ہم نے بریکنگ چلائی ، حالانکہ ابھی تک ہماری ٹیم دفتر سے بھی نہیں نکلی تھی، واقعہ کا بھی علم نہیں تھا۔تھوڑی دیر بعد دیگر چینلز نے ہمارے بنائے گئے ٹکرز چلانا شروع کر دئیے ، یوں ہماری کامن سینس کی وجہ سے دس منٹ میں پورے میڈیا کا موضع گفتگو جمعیت کی غنڈہ گردی تھی۔ ہماری ٹیم جائے وقوع پر پہنچی اصل واقعے کا علم ہوا تو ہم نے بس خاموشی اختیار کر لی۔ رپورٹر نے بتایا: سر ایک لڑکی زخمی ہے، اس کو ڈنڈا پڑا ہے۔ سر اس کی ویڈیو واٹس ایپ کرتا ہوں۔ رپورٹر نے ویڈیو میسج کی ، میرا دوست جو کہ پروگرامنگ میں اچھے عہدے پر فائز ہے۔ میرے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا ہم دونوں نے ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرکے دیکھنا شروع کی ، ارے یہ تو وہ ہے۔ جی یہ جو “وہ” ہے ۔ یہ ہماری کلاس فیلو رہ چکی ہے اور واضح رہے کہ ہم نے تین سال قبل ادارہ علوم ابلاغیات سے ماسٹر کی ڈگری مکمل کر لی تھی اور محترمہ ہم سے بھی دو سال قبل ادارہ میں زیر تعلیم تھیں یعنی کل ملا کر عرصہ چھ سال سے ادارہ کی طالبہ ہیں۔ وہ ڈگری کیا کر رہی ہیں یہ ادارہ کی انتظامیہ ہی بتا سکتی ہے۔ محترمہ کا تذکرہ بعد میں کرتا ہوں پہلے اصل واقعہ بیان کرتا ہوں۔ میرے رپورٹر اور ادارہ علوم ابلاغیات کے طلبہ وطالبات سے ملنے والی معلومات کے مطابق ۔ یہ ساری داستان چار ماہ قبل اس وقت شروع ہوئی جب ایک خاتون کے سابقہ دوست نے موجودہ دوست کو پھینٹا لگایا۔ جس کے بعد محترمہ کا دوست ان سے ناراض ہوگیا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ دوست کے جذبہ انتقام میں شدت آتی گئی۔ اس دوران محترمہ کا بریک اپ ہوگیا اور ایک مزید دوست ان کےحلقہ اثر میں شامل ہوگیا۔اب جس دوست کے ساتھ بریک اپ ہوا تھا، جس نے محترمہ کی خاطر پھینٹا بھی کھایا تھا۔ بپھرا ہوا ریچھ بن گیا اور اس نے نئے قیدو کو سبق سکھانا کا سوچا۔ اپنے بارہ دوستوں کے ہمراہ نئے ہیرو کے دوستوں کو پکڑ کر خوب لتاڑا، مار کھانے والے لڑکوں نے اپنے دوستوں کو کالز کرنا شروع کردیں۔ جب تک وہ اکٹھے ہوتے یہ اپنی جان بچانے کی خاطرادارہ علوم ابلاغیات میں گھس گئے۔ جن لڑکوں نے مارکھائی وہ بھی کب پیچھے ہٹنے والے تھے وہ بھی محمود غزنوی بن کر سومنات کو فتح کرنے کے لئے چڑھ دوڑے ۔ ادارے میں توڑ پھوڑ کی ۔ اس دوران میڈیا کی بھی بھرپور کوریج حاصل کی۔دوسری جانب وائس چانسلر صاحب نے پی آر او کی وساطت سے فورا میڈیا کو ڈی ٹریک کرتے ہوئے سارا ملبا، اسلامی جمعیت طلبہ پر ڈال دیا، میری طرح تمام چینلز نے جمعیت کے حوالے سے خبریں نشر کرنا شروع کردیں۔اس دوران جمعیت کے افراد سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سے مکمل انکار کیا۔ اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ دونوں مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکالی جائے اور جو جو افراد اس میں ملوث ہیں ان کی نشاندہی کرکے انہیں سزا دی جائے۔ جمعیت پر الزام لگنا کوئی نئی بات نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں جو بھی واقعہ ہو اس کو میرے جیسے افراد فورا جمعیت سے جوڑ دیتے ہیں۔ لیکن مزید تحقیق کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر مجاہد کامران اس واقعے کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت لا کالج میں داخلوں اور کلاسز کے نہ شروع ہونے کی وجہ سے لا کالج انتظامیہ کے خلاف جمعیت بھرپور احتجاجی مہم چلا رہی ہے ۔ اور اس بارے میں سب کو علم ہے کہ اس ادارے کی پرنسپل محترم وائس چانسلر کی اہلیہ محترمہ ہیں جن کی انتظامی نااہلیوں کے خلاف ایک درخواست بھی سپریم کورٹ میں جمع ہے۔دوسری جانب ادارہ علوم ابلاغیات میں داخلوں میں بے ضابطیگیاں کی گئیں جس کا آسان حل وہاں کی انچارج ڈائریکٹر کو عہدے سے برخاست کرکے کیا گیا حالانکہ ان باضابطیگیوں میں دیگر افراد بھی شامل تھے۔ان کی جگہ ادارے کی انچارج ایک جونئیر پروفیسر کو لگایا گیا۔ جس پر سنجیدہ حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی کہ وائس چانسلر شریف برادران سے قریب تعلق رکھنے والے سنئیر صحافی مجیب الرحمان شامی کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر تنقید آنے کے بعد خود شامی صاحب کو صفائی دینا پڑی۔ واضح رہے کہ شامی صاحب کی جمعیت کے ساتھ بھی خصوصی محبت ہے۔ مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیاوائس چانسلر صاحب نے شامی صاحب کے صفائی دینے کے بعد اپنا وار خالی جاتا دیکھ کر جس ڈیپارٹمنٹ کی انچارج ان کی بیٹی ہیں اسی پر دھاوا بلاویا گیا ہے؟ کیوں کہ اپنی اولاد سے محبت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی۔ کیاماس کام پر حملہ جمعیت اور شامی صاحب کے درمیان دوریاں بڑھانے کے لئے کیا گیا ہے؟ اس حوالے سے جمعیت کو اور شامی صاحب دونوں کو سوچنا ہوگا۔ رہی جھگڑے کی بنیاد بننے والی خاتون تو ماس کام ڈیپارٹمنٹ کو بھی جواب دینا ہوگا کہ چھ سال سے ایک طالبہ ڈیپارٹمنٹ میں کیا کر رہی ہے؟ ایک طالبہ جو کہ ماسٹر میں ہے کس وجہ سے چھ سال سے وہ ماسٹر ہی میں داخل ہے؟ ویسے تو مجھے کسی خاتون کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرم آرہی ہے مگر جس دوران محترمہ میری کلاس فیلو تھیں اس دوران انہوں نے میری ایک کلاس فیلو کو صرف اپنے بوائے فرینڈ کی وجہ سے تشد د کا نشانہ بنایا جس پر میری کلاس فیلو کے کپڑے تک پھٹ گئے تھے اور اس بات کی گواہی ادارہ علوم ابلاغیات کر سکتا ہے جس نے سارے واقعے کی انکوائری کی تھی۔اس کے علاوہ انہی محترمہ نے ماس کام میں پانچ کے قریب جھگڑے کروائے ۔ جمعیت کے افراد کو اس بارے میں تحقیق کرنا چاہئے کہ کہیں جمعیت کا نام استعمال کرکے وائس چانسلر کے مقاصد کو پورا کرنے والے لوگ ان کی صفوں میں تو نہیں گھسے ہوئے۔ میری جمعیت کے سنئیر افراد سے بھی بات ہوئی ہے انہوں نے جمعہ کو ماس کام کی ڈائریکٹر سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ اگر ان کا کوئی کارکن اس واقعے میں ملوث ہے تو وہ اس کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے اور ان کے نام میڈیا کو جاری کئے جائیں گے۔ماس کام واقعے کا تذکرہ ہمارے ادارے میں مسلسل ہو رہا تھا۔ ایک اور سینئر صحافی خواتین کے حقوق کی علمبرداری کرتے ہوئے جماعتیوں کو دھڑا دھڑ گالیاں بک رہے تھے۔ ان کی حمایت میں بھی بول رہا تھا۔ گفتگو کے اختتام پر محترم گویا ہوئے؛ یار ایک بات تو ماننا پڑے گی” ماس کام کی بچیاں بڑی ٹائٹ ہیں” ۔ نوشینہ سلیم نے تو میرا داخلہ نہیں کیا، اب کی بار میں نے بھی داخلہ کرانا ہے۔ ان کی سوچ مجھ پر بجلی بن کر گری کہ جس قوم کی اجتماعی سوچ یہ ہوگی تو اس قوم کی بیٹیاں بھی فسادات کا باعث بنیں گی۔

اس موضوع پر اگر کوئی اور صاحب اظہار خیال کرنا چاہیں یا اپنے مشاہدات بیان کرنا چاہیں تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے-ایڈیٹر**

 

10 تبصرے

  1. islami jamiat talba k khlaf har dor ma yahe ilzamat lagay gaian han jamiat na to ma jamiat ko ak arsay sa janta hou hor khud b raha hou jamia punjab k andar v,c hor us ki team apna maqsad hasil karna k lia is tara k kam karta han

  2. Boys hostel no. 15 K nazam sahab video. Main bilkul wazeh toor Per nazar arahy hyn
    jo Salkhoun sy paker Ker door ko kisi shair ki manadh apny Shikar ki trah Jhinjhoor rahy hyn
    Video Daikh k faisla Kren.

  3. اپکا تبصرہ بہت ہی اچھا ہے اور جس طرح سے جھوٹ اور سچ کو ملاکے ایک نیی چیز بنایی ہے اسکے لیے داد کے مستحق ہو اور ثابت کردیا کہ وہ صحافی ہو جو ضمیر کا سوداگر ہے پہلی بات کہ اپ نے بغیر تحقیق کے خبر چلادی یعنی ضمیر ہے ہی نہیں؟ دوسری بات لڑکی کے بارے میں تو میں نہیں جانتا لیکن جو جھوٹ تم نے جمیعت کو فرشتےثابت کرنے کیلے بولے کہ وہ تو جمیت تھی ہی نہیں اسکے لیے اپنے ضمیرکو ضرور سوچ لینا اور اپنی انکھوں سے بے ضمیری اور بزدلی کی پٹی اتار دینا اگر یہ نہیں کرسکتے تو قلم کی بےعزتی نہ کرو کویی اور کام ڈھونڈ لینا ضمیر کو جگا کے جیو شکریہ.

  4. جمعیت ڈاکٹر مجاہد کامران جیسے لوگوں کے سینے کا تیر ہے جو کوئی دن نہیں جاتا کہ اسے بدنام کرنے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں ۔ یہ بھی چلے جائیں گے ۔ جمعیت کا دریا ان کے سینوں پر سانپ بن کر لوٹے رہے گا ان شاء اللہ۔

    1. جمیعت کو ختم کرنے کےلیے بہت کامران مجاہد آے پر یہ جتنا جمیعت کو دبانے کی کوشش کریں گےجمیعت اتنی ہی مظبوط ہو گی رہی بات لڑکی پر تشدد کی تو وہ آپ جامعہ پنجاب کی طالبات سے پوچھ لیں کہ ان کی عزتوں کی میلی نظر سے کون دیکھتا ہےدودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاے گا اور جہاں تک وی سی صاحب کی بات ہے تو وہ آپ کو جام کے ساتھ شاپ مناتے ہوے کیہں بھی گالی گلوچ کرتے ہوے مل جایں گے
      جمیعت زندہ آباد

  5. Uni mehoney walley kidi b waqae e sy jamiat ka koii taluq ni a . Jamiat ne kbi institutes bnd ni krwaye , nzamat k mamly per kbi golli ni challi kbi couples ko maaar ni pari. Kbi imran khan ko ni ghaseeta, r mads com me b lrki ka qasoor a ud ne in Farishta siffat uqaabi naujwano ke nazria e zabrdasti ko q lalkaaara??? Khuda ka khauf kro bahii qalm ke behurmti na kro kuch r kr lo lakin sch ko jhutlaao ni . Office me bethny ke bjaye kbi dept a k eye witness ka interview kro lg pta jaye ga .

  6. Aslam-o-Alikum
    is issue ki main waja hai wo larki mera maqsad us larki ko defame karna ni hai lakin main is issue ko b clear krna chahta hon ku k kuch log is issue main totally galat facts janty hain , main is larki ko almost 5 ya 6 saal se janta hon muje ye qissa bayan karny k liye wording bohat soch samaj k use karny par rahy hain so muje smj ni a rha k main us lakin ko kesy explain kron k meri bat b clear ho jaye or us bandi ko explain b kar don wo larki pata ni us k kitny relation reh chuky hain or us bandi k bary main university guards or bus condcts etc se bohat kch sunany ko mila or kafi larko k sath khud b dekh chuka hon 6 saal se us bandi ka yehi hal hai or sunany main ye b aya hai k is bandi ko almost 5 month pehly STC main b kisi se thapr para tha or specially mass com k students to us bandi ko ba-khubi janty hon gay intiha ki batmiz bandi hai wo lakin jo issue huwa us main 100% sure hon k dono parties directly ya indirectly use ho gai us bandi k hatho issue jis ka b tha lakin is sb main pesh pesh hamry VC sb jin ko jamiat k ilawa or dusri koi bat ni ati koi in ko smja b de k kisi pe ilzam lagana bohat asan hota ha to kindly us proof b kiya karen or us ghunda ghardi ki misal us din dekhny ko mili jab ye issue huwa or University k Guards k ilawa University Bus drivers or conductrz ko b dandy soty pakra k mass com larny k liye bulaya gya tha jis educational institute ka head ye ha waha kya education expect krty hain log or dua hi ki ja sakti hai k Allah Hidayat ata farmaye in jesy logon ko .

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*