outline
yasir-pirzada

سی ایس ایس کے نتیجے پر ماتم-یاسر پیرزادہ

ہر سال جب سی ایس ایس کے نتیجے کی خبر آتی ہے تو میں خواہ مخواہ خوش ہوجاتا ہے، اخبار کھول کردیکھتا ہوں، اس میں کامیاب ہونے والے نوجوانوں کا نام پڑھتا ہوں، ان کے نام کے آگے گروپ دیکھتا ہوں اور دل ہی دل میں اِن کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے بائیس برس پیچھے چلا جاتا ہوں جب میرا بھی سی ایس ایس کا نتیجہ آیا تھا۔ وہ بھی ایسے ہی دن تھے۔ تحریری امتحان دینے کے بعد فراغت تھی، جس روز میرا آخری پرچہ تھا اُس روز میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ نتیجہ چاہے جو بھی آئے، پاس ہوں یا فیل، نوکری ملے نہ ملے، یہ امتحان میں نے آئندہ نہیں دینا۔ مجھے آج تک وہ دن یاد ہے جب میں آخری پیپر دے کر باہر نکلا تو یوں محسوس کر رہا تھا جیسے کسی نے دماغ پر رکھی ہوئی بھاری سِل ہٹا دی ہو، خود کو بالکل ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا اور شکر کر رہا تھا کہ اس عذاب سے جان چھوٹی۔ پھر یوں ہوا کہ چند ماہ بعد تحریری امتحان کا نتیجہ آ گیا۔ میں نے پبلک سروس کمیشن کے دفتر فون کیا، انہیں اپنا رول نمبر بتایا اور ریسیور پکڑ کر انتظار کرنے لگا کہ متعلقہ کلرک مجھے بتائے کہ بیٹا تمہارا نام لسٹ میں نہیں (تحریری امتحان کے نمبر نہیں بتائے جاتے، اگر امیدوار پاس ہو تو اُس کا نام فہرست میں ہوتا ہے)۔ اچانک دوسری طرف سے آواز آئی کہ آپ کا نام فہرست میں ہے،انٹرویو کی کال کا انتظار کریں۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے کسی نے میرے ہاتھ میں بجلی کی ننگی تار پکڑا دی ہو۔ یقین ہی نہیں آیا۔ میں اپنے حواس مجتمع کرکے دوبارہ کہا کہ جناب ذرا دھیان سے دیکھیں کہیں آپ کو غلطی تو نہیں لگی، اُس جنتی شخص نے کہا نہیں بھیا کوئی غلطی نہیں، لسٹ میرے سامنے ہے اور اِس میں آپ کا نام ہے۔ میں نے پھر اُس سے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی نام کے دو امیدوار ہوتے ہیں، میرے رول نمبر اور نام کے نیچے فٹّا رکھ کر دیکھیں کیا یہ واقعی آمنے سامنے ہیں، جواب میں اس مردِ عاقل نے ہنستے ہوئے کہا میں نے ہر طرح تسلی کر لی ہے، آپ پاس ہیں، خود آکر دیکھ لیں۔ باقی تاریخ ہے۔

ہر سال سی ایس ایس کے نتیجے کے بعد واویلا مچتا ہے کہ اِس امتحا ن کا معیار اب پہلے جیسا نہیں رہا، ثبوت کے طور پر اعداد و شمار پیش کئے جاتے ہیں، اخبارات میں مضامین شائع ہوتے، مذاکرے ہوتے ہیں، تعلیمی نظام پر چھوٹا موٹا ماتم کیا جاتا ہے اور بات اگلے امتحان تک ٹل جاتی ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا، رزلٹ آیا تو معلوم ہوا کہ 9,391 امیدواروں نے امتحان دیا، اِن میں سے 312تحریری امتحان میں پاس ہوئے، ایک امیدوار انٹرویو میں فیل ہوا، ایک غیرحاضر رہا اور یوں 310نوجوان کامیاب ہوئے، کامیابی کی شرح 3.30%رہی، اِن میں سے 261خوش نصیبوں کو نوکری کا پروانہ ملا کیونکہ سیٹیں ہی اتنی تھیں، باقیوں کی کامیابی کسی کام نہیں آئی۔ اس نتیجے کو دیکھ کر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو تعلیمی اداروں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرے گی جس کی وجہ سے مقابلے کے امتحان کا اتنا برا نتیجہ آیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ نتیجہ واقعی برا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال ہی غلط ہے۔ سی ایس ایس دراصل نوکری کے متلاشی نوجوانوں کی چھانٹی کا ایک طریقہ کار ہے، یہ اُن معنوں میں کسی کی قابلیت جانچنے کا امتحان ہی نہیں جس طرح کوئی ڈگری حاصل کرنے کے لئے امتحان دیا جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ اگر گوگل پاکستان میں اپنا ہیڈکوارٹر بنانے کا فیصلہ کرے اور اس مقصد کے لئے اسے دو سو آئی ٹی ماہرین کی ایک ٹیم درکار ہو تو وہ کوئی ایسا طریقہ کار وضع کرے گا کہ اسے اپنے مطلب کے دو سو نوجوان مل جائیں، اس کے لئے گوگل اخبار میں اشتہار دے گا، امیدواروں کی چھانٹی کرے گا اور چھانٹی کے نتیجے میں سات آٹھ سو لوگوں کا ٹیسٹ / انٹرویو کرکے دو سو بندہ بھرتی کر لے گا، گوگل کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ ہزاروں لوگوں کا امتحان لے اور یہ ثابت کرتا پھرے کہ کامیاب ہونے والوں کی شرح بہت اچھی رہی کیونکہ گوگل ایک آجر ہے اور اسے اپنے لئے ملازمین چاہئیں، بس۔ اسی طرح سی ایس ایس کے کیس میں حکومت پاکستان آجر ہے اور اس آجر کے لئے وفاقی پبلک سروس کمیشن سرکاری ملازمین کی بھرتی کرتا ہے، اس کمیشن کا کام ایک مخصوص اہلیت کے نوجوانوں کی چھانٹی کرنا ہے تاکہ حکومت پاکستان کو اچھا سرکاری ملازم مل سکے۔ یہ کام کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ ایک اسامی کے لئے کمیشن کے پاس دو تین اچھے امیدوار ہوں تاکہ وہ کم سے کم وقت میں شفاف طریقے سے بھرتی کرسکے، سی ایس ایس کا امتحان اس طریقہ کار کا ایک حصہ ہے۔ فرض کریں کہ اگر دس میں سے پانچ ہزار افراد تحریری امتحان پاس کرنا شروع کر دیں تو پھر بھرتی ممکن ہی نہیں رہے گی اور کمیشن کو لامحالہ امتحان سخت کرنا پڑے گا جیسے اسّی کی دہائی میں لازمی مضامین میں کم سے کم تینتیس فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری تھا جبکہ پورے امتحان میں چالیس فیصد حاصل کرنے والا کامیاب قرار دیا جاتا تھا، جبکہ نوّے کی دہائی میں یہ شرح بڑھا کر بالترتیب چالیس اور پچاس فیصد کر دی گئی کیونکہ زیادہ تعداد میں نوجوان یہ امتحان پاس کرنا شروع ہو گئے تھے، اسی طرح مضامین کے انتخاب میں بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ ضرورت کے مطابق اتنے ہی امیدوار کمیشن کو میسر آئیں جتنی اسامیوں کے لئے ضرورت ہے۔ بھارت میں انڈین سول سروس کے امتحان سے پہلے سکریننگ ٹیسٹ ہوتا ہے، جو امیدوار وہ امتحا ن پاس کرتے ہیں صرف انہی کو تحریری امتحا ن کے لئے بلایا جاتا ہے کیونکہ مقصد یہ نہیں ہوتا کہ کامیابی کی شرح کو بڑھا کر ڈھنڈورا پیٹا جائے، مقصد وہی ہے کہ ایک اسامی کے لئے تین چار موزوں امیدوار مل جائیں۔ سو یہ کہنا کہ دس ہزار میں سے صرف تین سو پاس ہوئے اور اس کا مطلب کہ سی ایس ایس کا معیار گر گیا ہے، درست بات نہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سول سروس کا معیار کیوں گر گیا ہے؟ ایک سادہ جواب تو یہ ہے کہ جب پورا معاشرہ ہی زوال کا شکار ہو تو کوئی بھی شعبہ اُس زوال سے نہیں بچ سکتا، سول سروس بھی کوئی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ لیکن اس کی ایک وجہ اور بھی ہے۔ دنیامیں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک اچھی نیت والے اور دوسرے بدنیت۔ اچھی نیت والے جب کالج یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے نکلتے ہیں تو انہیں ایک ایسی نوکری کی تلاش ہوتی ہے جس میں تنخواہ معقول ہو، ایمانداری کی قدر ہو، صلاحیت کی بنیاد پر ترقی ملے اور محنت کرنے پر انعام کے حقدار ٹھہریں۔ بدنیت لوگ ایسا نہیں سوچتے۔ انہیں ایک ایسی نوکری کی تلاش ہوتی ہے

جس میں تنخواہ بھلے ہو نہ ہو اوپر کی آمدن وافر ہو، کوئی خاص کام بھی نہ کرنا پڑے اور بیٹھے بٹھائے سینیارٹی کی بنیاد پر ترقی مل جائے۔ ان دونوں قسم کے افراد کے لئے ہمارے ہاں دو قسم کی نوکریاں ہیں، ایک پرائیویٹ اور دوسری سرکاری۔

سی ایس ایس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی سرکاری نوکری میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جن کی خواہش کوئی بھی بد نیت شخص کر سکتا ہے، سو وہ لوگ جو قابل بھی ہیں اور اچھی نیت بھی رکھتے ہیں، ان کا مقابلے کا امتحان دینے کے امکان ایسے لوگوں کے مقابلے میں کم ہے جن میں قابلیت کم اور بدنیتی زیادہ ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ قابل اور اچھی نیت والے یہ امتحان نہیں دیتے، چونکہ اِس امتحان کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نوکری پاکستان جیسے ملک میں بہت سے مسائل کا حل ہے اس لئے اچھی نیت والے بھی کم تنخواہ کے باوجود اسی کو ترجیح دیتے ہیں مگر ان کی شرح بدنیتوں کے مقابلے میں کم ہے اور یہی سول سروس کی بد حالی کی وجہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*