outline
Featured Video Play Icon

فوج کو سیاست اور کاروبار میں گھسیٹنے کا سہرا جنرل ایوب خان کے سر جاتا ہے

مجموعی طور پرپاکستان کے تیسرے مگر پہلے مقامی سپہ سالار جنرل ایوب خان نے 17جنوری1951ء کو افواج پاکستان کی کمان سنبھالی اور پھر 26اکتوبر1958ء تک کمانڈر انچیف کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے ،آئیے نظر ڈالتے ہیں ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر۔

تاجِ برطانیہ نے تقسیم ہند کے وقت فسادات کی روک تھام کے لیئے پنجاب باؤنڈری فورس تشکیل دی جس کا ہیڈ آفس لاہور میں تھا ۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کرنل کو بھی اس باؤنڈری فورس میں اہم عہدہ دیا گیا ۔ایک روز خبر ملی کہ بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے مہاجرین کی ٹرین کو مشرقی پنجاب میں روک کر تمام مسافروں کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس ٹرین کی حفاظت پر مامور پاکستانی کرنل خاموش تماشائی بنے رہے۔یہ خبر سنتے ہی لوگ مشتعل ہوگئے ،اس بات کا امکان پیدا ہوگیا کہ غصے میں بپھرے ہوئے لوگ راولپنڈی میں اس کرنل کے گھر کو نذرآتش نہ کردیں ،حالات اس قدر سنگین ہوئے کہ ممکنہ خدشات کے پیش نظر گھر میں موجود اس کرنل کی اہلیہ اور بچوں کو ایک اور فوجی افسر کی رہائشگاہ پر منتقل کرنا پڑا۔اس کرنل کا نام ایوب خان ہے جو نہ صرف پاک فوج کا کمانڈر انچیف بننے میں کامیاب ہوا بلکہ ڈنڈے کے زور پر ملک کی باگ ڈورسنبھال کر خودساختہ صدر بھی بن گیا۔

برٹش کامن ویلتھ آفس کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق عسکری حکمت عملی کے اعتبار سے کرنل ایوب خان اوسط درجے کا افسر تھا ۔دوسری جنگ عظیم کے دوران برما میں تعینات آسام رجمنٹ کے کمانڈنٹ کرنل ڈبلیو ایف براؤن کی ہلاکت کے بعد رجمنٹ کی کمان کرنل ایوب خان کو سونپی گئی مگر جنگی حکمت عملی میں بزدلانہ ناکامی کے بعد کمان واپس لیکر نہ صرف بھارت بھیج دیا گیا بلکہ ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش بھی کی گئی

ایک ایسا فوجی افسرجسے نااہلی کے باعث فوج سے نکالنے کا فیصلہ ہو چکا تھا ،قیام پاکستان کے بعد اس کی صلاحیتیں ایسی نکھر کر سامنے آئیں کہ اس نے 4سال کے مختصر عرصہ میں نہ صرف کرنل سے جنرل تک ترقی کا سفر باآسانی طے کرلیا بلکہ سنیئر فوجی افسروں کو مات دیکر سپہ سالار بننے میں کامیاب ہوگیا ۔یہ سب کیوں اور کیسے ہوا ؟یہ جاننے کے لیئے ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھنا پڑے گا

جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے جانشین کے طور پر میجر جنرل افتخار خان کا انتخاب ہو چکا تھا ،کمانڈر انچیف نامزد ہونے پر جنرل افتخار کو امپیریل ڈیفنس کورس کے لیئے برطانیہ بھیجا گیا ،بریگیڈیئر شیر خان جو ڈی ڈی ایم او تھے اور اب انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی جانا تھی ،وہ بھی کورس کے لیئے برطانیہ جا رہے تھے ۔13دسمبر 1949ء کو جنرل افتخار اوریئنٹ ایئرویز کی لاہور سے کراچی جانے والی فلائٹ پر سوار ہوئے تو ان کے اہلخانہ کے علاوہ بریگیڈئر شیر خان بھی اسی جہاز میں سوا رتھے ،یہ جہاز اپنی منزل کے قریب پہنچ کر کراچی کے نواحی علاقے جنگ شاہی میں گر کر تباہ ہوگیااور تمام مسافرلقمہ اجل بن گئے

پاکستان کی عسکری وسیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ حادثہ پیش نہ آتا اور جنرل افتخار کمانڈر انچیف بننے سے پہلے شہید نہ ہوتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ایوب خان کے برعکس جنرل افتخار اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے غیر سیاسی جرنیل تھے ان کی اصول پسندی سے متعلق ایک واقعہ آپ سب کے لیئے یقیناًدلچسپی کا باعث ہوگا

جنرل افتخار جب جے او اسی لاہور تھے تو انہوں نے آئی جی پنجاب قربان علی خان کو کینٹ میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔اگرچہ دونوں بہت اچھے دوست تھے مگر اس وقت کے فوجی قوانین کے مطابق کسی سویلین کو کینٹ کی حدود میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی۔قربان علی خان نے گورنر پنجاب فرانسز موڈی سے بات کی تو انہوں نے کمانڈرانچیف جنرل گریسی کو شکایت کردی۔جنرل گریسی بھی اصول پسند انسان تھے انہوں نے کہا کہ جنرل افتخار نے انکار کرکے فوجی قوانین کی پاسداری کی ہے مگر آپ اپنے عہدے کے برعکس فوجی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔جنرل ایوب خان کے کمانڈر انچیف بننے کے بعد جنرل اعظم خان لاہور کے جنرل کمانڈنگ آفسیر تعینات ہوئے تو نہ صرف قربان علی خان کو کینٹ میں رہنے کی اجازت مل گئی بلک سب کے لیئے فلڈ گیٹ کھل گیا ،بھارت میں آج بھی کینٹ کے علاقے فوجی چھاؤنیوں کے لیئے مخصوص ہیں مگر ہمارے ہاں کینٹ کے علاقے کمرشل ایریاز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

اس حادثے کے بعد جنرل گریسی کی مدت ملازمت میں ایک سال کے لیئے توسیع کرنا پڑی اور جب دوبارہ ان کا جانشین ڈھونڈنے کی کارروائی شروع ہوئی تو لیفٹیننٹ جنرل ناصر علی خان ، جنرل NAMرضا اور جنرل ایوب خان کے نام تجویز کیئے گئے ،لیاقت علی خان نے تمام فوجی افسروں کو بلاکر قومی معاملات پر گفتگو کرنے کی اجازت دی تو ایوب خان چرب زبانی کے باعث جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے البتہ جنرل گریسی نے لیاقت علی خان کو متنبہ کیا کہ ایوب خان کے سیاسی عزائم ہیں ،اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

طرفہ تماشا دیکھیں کہ جنرل ایوب خان نے افواجِ پاکستان کی کمان سنبھلاتے ہی جو پہلا حکم جاری کیا اس میں فوجی افسروں کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی گئی مگر 3سال بعد جب ایوب خان برطانیہ کے سرکاری دورے پر تھے تو Dorchester Hotelکے لگژری اپارٹمنٹ میں قیام کے دوران انہوں نے پاکستان کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا جس میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں الگا الگ سنگل یونٹ بنانے کی تجویز دی گئی ۔اس منصوبے میں اس خواہش کا اظہار بھی کیا گیا بری ،بحری اور فضائی افواج کے مشترکہ کمان کے لیئے سپریم کمانڈر کا عہدہ تخلیق کیا جائے اور یہ فرمائش بھی کی گئی کہ وزیردفاع کا قلممدان بھی اسے سونپ دیا جائے ۔۔سویلین حکام کی حیثیت تو کٹھ پتلیوں کی سی تھی ،اُدھر فرمائش آئی اور اِدھر کمانڈر انچیف کو وزیر دفاع تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

یہ سوال اکثر زیر بحث آتا ہے کہ ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کب کیا ؟امریکی سفارتخانے کے ڈی کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس کے مطابق ایوب خان نے آرمی چیف بننے کے بعد پہلے سال ہی مارشل لا لگانے کا فیصلہ کرلیا تھا مگر وہ حالات کے موافق ہونے کا انتظار کرتے رہے ،میجر جنرل وجاہت حسین جو جنرل گریسی کے اے ڈی سی رہے ،وہ 1956ء میں لندن گئے اور جنرل گریسی سے ملاقات ہوئی تو گریسی نے چھوٹتے ہی کہا ’’ایوب کب حکومت کا تختہ اُلٹ رہا ہے؟جنرل وجاہت حسین نے لاعلمی کا اظہارکیا تو گریسی نے کہا ،لکھ لو میری بات ،یہ آج نہیں تو کل ضرور مارشل لا لگائے گا

ایوب خان نے سپہ سالار بننے کے بعد ان فوجی افسروں کو کھڈے لائن لگانا شروع کر دیا تھا جو فوج کی سیاست میں مداخلت پر خفگی کا اظہار کیا کرتے تھے۔جنرل شیر علی خان پٹودی سمیت کئی فرض شناس افسروں کو سپر سیڈ کرکے گھر بھیج دیا گیا جبکہ یحیٰ خان اور موسیٰ خان جیسے چہیتوں کو آگے لایا گیا۔اس ضمن میں میجر جنرل حبیب اللہ خٹک کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکنے کی روداد بہت دلچسپ ہے۔جنرل خٹک کا نام راولپنڈی سازش کیس میں سامنے آیا ۔اگرچہ بعدازاں سلطانی گواہ بنا کر جنرل خٹک کو کلین چٹ دیدی گئی مگر ایوب خان کا دل صاف نہ ہوا۔ایوب خان نے پہلے تو اپنے بیٹے کیپٹن گوہر ایوب کے لیئے رشتہ لیکر جنرل خٹک کو سمدھی بنایا اور پھر چیف آف جنرل اسٹاف لگانے کا جھانسہ دیکر امپریل ڈیفنس کورس کے لیئے لندن بھیج دیا ۔مگر کورس مکمل ہونے پر جنرل خٹک کو پروموٹ کرنے کے بجائے فوج سے ریٹائر کردیا گیا ۔

ایوب خان نے جن فوجی افسروں کو ترقی دی نہ صرف وہ پشتون تھے بلکہ مذہبی اعتبار سے بھی ان کا تعلق ایک مخصوص مسلک سے تھا جس پر فوج کے اندر ہی نہیں باہر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔مگر ایوب کان اس تنقید کا خاطر میں نہ لائے ۔بطور سپہ سالار ایوب خان کی سب سے بڑی کامیابی تو یہ تھی کہ وہ امریکہ سی فوجی امداد لینے میں کامیاب ہوگئے مگر ان کی ناکامیوں کی فہرست بہت طویل ہے ۔انہوں نے نہ صرف فوج کو سیاست میں دھکیلا بلکہ ان کے دور میں اس ادارے کو کئی ایسے امراض لاحق ہوئے جو بعد ازاں کینسر کی مانند پھیلتے چلے گئے ۔

جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز کی کتاب کراس سوارڈز کے مطابق کنٹونمنٹ ایریاز میں زمینوں کی خرید و فروخت کا آغاز جنرل ایوب خان کے دور میں ہوا،یعنی فوجی افسروں کی توجہ پیشہ ورانہ امور سے ہٹا کر انہیں پراپرٹی ڈیلر بنانے کی روایت ڈال دی گئی جبکہ Ian Talbootاپنی کتاب Pakistan a new history میں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ فوج کو کمرشلائز کرنے اور کاروبارمیں گھسیٹنے کا سہرا بھی ایوب خان کے سر جاتا ہے جن کے دور میں فوجی فاؤنڈیشن نے صنعتی ترقی کا فائدہ اٹھایا اور خوب پھلی پھولی ۔فوجی فاؤنڈیشن نے ایوب خان کے دور میں جہلم کے قریب ٹیکسٹائل فیکٹری لگائی،سندھ لے علاقے ٹنڈو محمد خان میں شوگر مل لگائی گئی جبکہ مردان میں خیبر تمباکو کمپنی کا سیٹ اپ لگایا گیا۔

ایوب خان کے دور میں کرپشن کے قصے بھی زبان زدِعام رہے ،نہ صرف ایوب خان کے سمدھی میجر جنرل حبیب اللہ خٹک بہت بڑے صنعتکار بن گئے بلکہ ان کے فرزند گوہر ایوب بھی بطور کیپٹن فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد گندھارا انڈسٹریز کے مالک بن گئے ۔لیکن ایوب خان کی بطور سپہ سالار سب سے بڑی ناکامی اور نااہلی وزیراعظم لیاقت علی خان کا پراسرار قتل تھا ۔

ِہم سویلین حکمرانوں کو تو بیرون ملک علاج کا طعنہ دیتے ہیں مگر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ 16اکتوبر 1951ء کو جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو جی ایچ کیو سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر قتل کر دیا گیا تو پاکستان کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل ایوب خان لندن کے ایک شفاخانے میں پیچش جیسے معمولی مرض کا علاج کروارہے تھے اور اس بات کا انکشاف ایوب خان نے بذات خود اپنی کتاب فرینڈز ناٹ ماسٹرز میں کیا ہے جس کا اردو ترجمہ ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی ‘‘ کے نام سے ہوا ہے۔

پاکستان کے چوتھے سپہ سالار جنرل موسیٰ سے متعلق اگلی قسط ملاحظہ کیجئے چند روز بعد۔اس سلسلے کی تمام ویڈیوز دیکھنے کے لیئے وزٹ کریں یوٹیوب چینل ’’ترازو‘‘

www.youtube.com/c/tarazoo

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*