تازہ ترین
outline

کراچی:مولانا تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے 2محافظ شہید

معروف عالم دین مولانا تقی عثمانی پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا ہے جس میں وہ بال بال بچ گئے مگر اس حملے کے دوران ان کے 2 محافظ شہید ہو گئے ہیں

پولیس ذرائع کے مطابق نیپا چورنگی پر دو گاڑیاں ٹویوٹا کرولا کار ATF-908 اور ہنڈا سوک BKE-748 جن میں مولانا تقی عثمانی اپنی اہلیہ سمیت سفر کر رہے تھے ،ان پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی

ایس ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی کالے رنگ کی سوک کار میں مولانا تقی عثمانی خود سوار تھے مگر واقعے میں محفوظ رہے۔

ایس ایس پی طاہر نورانی کے مطابق کالے رنگ کی ہنڈا سوک کار کا ڈرائیور فائرنگ کے بعد فوراً ہی گاڑی کو لیاقت نیشنل اسپتال لے گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کرولا کار میں سوار ایک پرائیوٹ گارڈ صنوبر خان جاں بحق جب کہ اس کے ساتھ موجود عامر شہاب شدید زخمی ہوئے

واضح رہے کہ مفتی تقی عثمانی تحریک پاکستان کے رکن مولانا شفیع عثمانی کے فرزند ہیں جو دیوبند کے ان علما میں سے تھے جنہوں نے قیام پاکستان کی حمایت کی

مفتی تقی عثمانی کے خاندانی ذرائع کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر علماء سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی تھی اور ’وفاق المدارس نے کئی بار شکایت کی لیکن سنا نہیں گیا

مفتی تقی کے بھتیجے سرور عثمانی نے اپنے فیس بک پر لکھا ہے ’میرے محبوب چچا جان مفتی جسٹس محمد تقی عثمانی پر آج کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ فائرنگ میں محفوظ رہے. البتہ ان کا محافظ فائرنگ سے شہید ہوگیا اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا لیکن وہ زخمی حالت میں گاڑی کو اس جگہ سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*