تازہ ترین
outline

موروثی سیاست کے مسائل ۔سلمان عابد

جنوبی ایشیا کی سیاست کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو اس میں ایک مضبوط پہلو موروثی یا خاندانی سیاست کے مسائل کے طور پر موجود ہے ۔موروثی سیاست کے حق اور مخالفت میں دلائل دینے والوں کی بھی کمی نہیں اور ہر کوئی اپنے مخصوص نکتہ نظر کو بنیاد بنا کر اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے ۔موروثی سیاست کو منفی عمل نہیں اور خاندان کی نئی نسل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بڑوں کی پیروی کرتے ہوئے سیاست میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں میں موروثی سیاست کوخاندان کے اندر ایک سیاسی جدوجہد کے طو رپر کم اور خاندانی حق کو بنیاد بنا کر کی جاتی ہے ۔ موروثی سیاست کو بنیاد بنا کر آنے والی نئی نسل سیاسی جدوجہد سے زیادہ اپنے خاندانی اثر ورسوخ کو بنیاد بنا کر سیاست اور اقتدار کی سیڑھی عبور کرتے ہیں ۔

پاکستان کی سیاست بھی خاندانی سیاست کے گرد گھومتی ہے ۔ مسئلہ کسی ایک خاص جماعت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہماری سیاسی قیادت اور جماعتیں اس میں گھری نظر آتی ہے ۔سیاسی و جمہوری نظام پر جو نقاد ہیں ان کی سب سے بڑی تنقید بھی اسی موروثی سیاست کے گرد گھومتی ہے ۔ہماری سیاست اور خاندانی سیاست کے جڑے ہوئے مسائل کو دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ مقامی سیاست میں ایم این اے ، ایم پی اے، چیرمین، وائس چیرمین، کونسلرز، کابینہ، مشیر سمیت دیگر حکومتی عہدوں پر اپنے کنٹرول کو مضبوط رکھیں ۔ ان مقامی بڑے او رمضبوط طبقات کا سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت پر دباو ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے کھیل میں ان کے ساتھ سمجھوتہ کریں ، وگرنہ دوسری صورت میں وہ ان کے مخالفین کی طاقت بن کر مسائل پیدا کریں گے ۔

موروثی سیاست کے سامنے مسئلہ محض سیاسی طاقت حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ وہ اس سیاسی طاقت کو بنیاد بنا کر ریاست، حکومت اور اداروں پر کنٹرول کرکے وسائل کو اپنے او راپنے خاندان کے مفادات تک محدود کرتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں میں سیاست اختیارات کی جنگ اور طاقت کے مراکز میں اپنا کنٹرو ل بڑھانے یا پیسہ بنانے کا کھیل بن کر رہ گیا ہے ۔سیاسی جماعتوں میں وہ لوگ جو بڑی جدوجہد کے طو رپر یا سیاسی کارکن کے طو رپر اپنی سیاست کو آگے بڑھاتے ہیں وہ بھی اس موروثی یا خاندانی سیاست کی وجہ سے خود بھی مسائل کا شکار ہیں ۔ان سیاسی کارکنوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی سیاسی آپشن نہیں بچتا کہ وہ اپنی بڑی قیادت او ران کی اولادوں کی چاپلوسی یا تعریفیں کرکے ان کی خوشنودی کے حصول کو ممکن بنا کر اپنے مفادات کو تقویت دیں۔

جب پاکستان میں پڑھا لکھا یا اہل دانش کا طبقہ یہ دلیل دیتا ہے کہ ہماری جمہوری سیاست چند خاندانوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے تو یہ غلط تجزیہ نہیں ۔ان چند خاندانوں نے سیاست اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر سیاست، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور سیاسی جماعتوں سمیت سیاسی نظام کو مضبوط کرنے کی بجائے اپنی مفاداتی سیاست کو فوقیت دی تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ان بڑے خاندانوں کے سیاسی طرز عمل کو دیکھ کر اب یہ عمل مجموعی طور پر معاشرے کے تمام طبقات میں غالب نظر آتا ہے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ طاقت کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہیے۔کچھ طبقہ اس کو محض جاگیردرانہ سیاست یا جاگیر داروں تک محدود کرکے دیکھتے ہیں ۔ لیکن اب سرمایہ دار ، کاروباری طبقات اور ہماری سول وفوجی بیوروکریسی ، ججز، میڈیا میں موجود طاقت ور طبقات بھی اس موروثی کھیل کا حصہ دار بنتے جارہے ہیں۔

پچھلے دنوں معروف صحافی ، دانشور اور تجزیہ نگار ثقلین امام جو بی بی سی اردو سروس سے وابستہ ہیں نے موروثی سیاست کے مسائل پر ایک فکر انگیز تجزیاتی رپورٹ پیش کی ہے ۔ثقلین امام خود پاکستان کی سیاست اور جمہوریت سے جڑے ہوئے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاست کیسے چند خاندانوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے ۔اس تجزیاتی رپورٹ میں ثقلین امام نے لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈولیپمنٹ اینڈ اکنامک الٹرنیٹوزکے محقق ڈاکٹر علی چیمہ اور ان کے ساتھیوں حسن جاوید اور محمد فاروق نصیرکی وہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی موروثی سیاست کا موازنہ چند دوسرے ممالک سے کیا تھا ۔ان کے مطابق امریکی کانگریس میں 1996میں موروثی سیاست کا حصہ تقریبا 6فیصد تھا ،بھارت کی لوک سبھا میں 2010تک28فیصد، جبکہ پاکستان کی قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53فیصد تھا.ثقلین امام کے بقول کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے موروثی سیاست کی یہ شرح ناقابل قبول ہے ۔

ثقلین امام لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر علی چیمہ کے مطابق موروثی یا خاندانی سیاست کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلی تین دہائیوں سے پنجاب کے تقریبا چار سو خاندان ہیں جو مسلسل ایسی پالیسیاں بناتے اور قانون سازی کرتے چلے آرہے ہیں جن کی وجہ سے قومی وسائل اور نجی شعبوں میں ان کی طاقت بڑھتی جارہی ہے ۔ان کے مطابق 1985کے انتخابات سے لے کر 2008کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعدادموروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رکھتی ہے ۔ثقلین امام نے ایک اور تحقیق کا حوالہ دیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے محققین عبدالقادر مشتاق ، محمد ابراہیم ،محمد کلیم کے مطابق ’’ موروثی سیاست کے بارے میں ایک نقطہ نظر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ کیونکہ تاریخی لحاظ سے بڑے سیاسی خاندان ریاستی وسائل ، اپنی خاندانی دولت، حالات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت او رمخالفین یا دوسروں پر تشدد کرنے کی صلاحیت پر اجارہ داری رکھتے ہیں، اس لیے ان ہی خاندانوں کی اگلی نسل کے لیے سیاست میں اپنی حیثیت بنانا یا منوانا آسان ہوتا ہے ۔‘‘

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان موروثی سیاست کے سب سے بڑے مخالف سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کی سیاست ہی کرپشن سمیت موروثی سیاست کی مخالفت میں کھڑی ہے ۔لیکن 2013کے انتخابات کے نتائج نے تحریک انصاف کو یہ ہی پیغام دیا کہ وہ موروثی ، خاندانی یا جیتنے والے امیدواروں پر توجہ دے کر ان کو اپنے ساتھ ملائیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اب عمران خان کی سیاست بھی ان ہی بڑے بڑے سیاسی خاندانوں کے گرد کھڑی نظر آتی ہے ۔ عمران خان کے اردگرد جو بڑے سیاسی نام ہیں انہوں نے بھی عمران خان کو ایک سمجھوتے کی سیاست پر مائل کیا تو دوسری طرف بڑے سیاسی خاندان ہونے کے ناطے پارٹی پر اپنی گرفت بھی مضبوط کرلی ۔ اس وقت بھی 2018کے انتخابات کے تناظر میں ان بڑے خاندانوں کو بنیاد بنا کر ہی انتخابی مہم کو مرتب کیا جارہا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ اس موروثی سیاست کا علاج کیا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ جمہوری معاشروں میں موجود سیاسی نظام او رجماعتیں ایک لمبی سیاسی حکمت عملی کو بنیاد بنا کر اس طرز کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ لیکن یہاں سیاسی جماعتیں کیونکہ مضبوط نہیں ہیں او ران کی داخلی کمزوریوں جو خود قیادت کی شعوری کوششوں کا حصہ ہے ایک مضبوط اور شفاف جمہوری یا سیاسی نظام مشکل نظر آتا ہے ۔حال ہی میں سینٹ کے انتخابات میں جو جماعتوں نے پارٹی ٹکٹس جاری کیے ہیں اس میں بھی خاندانی چھاپ غالب نظر آتی ہے ۔

اصل میں ہمیں چار مختلف حکمت عملی کے تحت اس موروثی سیاست کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اول اپنے سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام کو جمہوری اور شفاف بنائے بغیر یہ کام ممکن نہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں اس بحث کو آگے بڑھانا ہوگا کہ وہ خاموشی سے تماشائی بننے کی بجائے دباو کی سیاست میں حصہ لیں اور سمجھیں کہ موروثی سیاست میں ہماری سیاست یرغمالی سیاست بن کر رہ گئی ہے ۔ دوئم اہل دانش او رمیڈیا کے محازپر ایک بڑ ی علمی اور فکری جنگ کو لڑنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں کے غیر جمہوری اور موروثی سیاست سے جڑے مسائل میں ایک متبادل فکر اجاگر کرنی ہوگی تاکہ سیاسی جماعتیں اپنا طرز عمل بدلیں اور عام آدمی میں یہ سوچ اجاگر کی جائے کہ موروثی سیاست جمہوریت کی نفی ہے ۔ سوئم ایسی قانون سازی او رپہلے سے موجود قوانین بنانی یا عملدرآمد کے نظام کو موثر اور شفاف بنا کر موروثی سیاست کو کمزورکیا جاسکتا ہے ۔

ثقلین امام نے درست لکھا ہے کہ روزا برواپنی کتاب’’موروثیت جمہوریت نہیں ‘‘میں کہتی ہیں کہ موروثی سیاست یا قیادت کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک غیر جانبدار عدالتی نظام حکومتوں کی کارکردگی کی نگرانی کرے، جبکہ ایک طاقت ور الیکشن کمیشن انتخابی نظام کی سختی سے نگرانی کرے ۔ اس کے علاوہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ قومی دولت کی بہتر اور منصفانہ تقسیم اور صنعتی ترقی بھی موروثی سیاست کو کمزور کرسکتی ہے ۔اس لیے پاکستان کے سیاسی نظام کو ایک ایسی علمی اور فکری تحریک درکار ہے جو سیاسی نظام سے جڑ کر ان امراض کا بہتر علاج تلاش کرسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*