outline
jutice shaukat aziz siddique

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بارے میں چند مغالطے اور ان کی حقیقت

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جنہوں نے راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس آئی کی عدالتی امور میں مداخلت ،اپنے مرضی کے بنچ بنوانے اور من پسند فیصلے کروانے کا انکشاف کیا ہے ان کے بارے میں سوشل میڈیا پر بے بنیاد افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

مثال کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی معروف کالم نگار عرفان صدیقی کے بھائی ہیں – حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کی آپس میں کوئی رشتہ داری ہی نہیں ،عرفان صدیقی کا تعلق چوہدری نثار کے آبائی حلقے چکری سے ہے جبکہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی راولپنڈی کے رہنے والے ہیں

افواج پاکستان کے سیاسی کردار کو ہدف تنقید بنانے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا ہے اور ان پر جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جج بننے سے قبل انہوں نے سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کا ماتھا چوما اور بطور ثبوت ایک تصویر بھی زیر گردش ہے-حقیقت یہ ہے اس تصویر میں ممتاز قادری کا ماتھا چومنے والے وکیل کا نام ایڈوکیٹ یاسر شکیل ہے جن کا تعلق روالپنڈی بار سے ہے اور ان کی شکل بڑی حد تک جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے ملتی ہے-

jutcie shaukat aziz siddique

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا شمار “پنڈی بوائز“ میں ہوتا ہے جو راولپنڈی میں ہی پیدا ہوئے اور پلے بڑھے-ان کے والد عزیز الرحمان صدیقی پولیٹیکل ورکر تھے اور بلدیہ کے چیئرمین بھی منتخب ہوئے-جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پنجاب یونیورسٹی لاکالج سے ایل ایل بی کیا اور اس دوران طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک رہے-وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1988 میں راولپنڈی سے بطور وکیل اپنے کیرئر کا آغاز کیا-بطور وکیل رہنما راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کے سیکریٹری اور ہائیکورٹ بار کے صدر منتخب ہوئے-وکلا بحالی تحریک کے دوران نہایت متحرک اور فعال کردار ادا کیا اور گرفتار بھی ہوئے-جب افتخار چوہدری چیف جسٹس تھے تو 2011 میں انہیں پنجاب کے کوٹے سے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور پھر مستقل کر دیا گیا-

اسلام آباد ہائی کورٹ کی ویب ساییٹ پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2011میں جب اُنھیں ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج بنانے کے بارے میں غور کیا گیا تو وہ اس وقت راولپنڈی اور اسلام آباد کے چند مصروف ترین وکلا میں سے ایک تھے۔

pervez musharraf

بطور جج انہوں نے کئی اہم ترین فیصلے کیئے اور اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ جراتمندانہ موقف اختیار کیا-جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت میڈیا میں خبروں کی زینت بننا شروع ہوئے جب اُنھوں نے وفاقی دارالحکومت میں قائم افغان بستیوں کو گرانے میں ناکامی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے حکام کو جیل بھجوایا۔اس کے بعد ان کا نام تب بھی سامنے آیا جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف 3نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے بعد ججز کو نظر بند کرنے کے مقدمے میں پولیس حکام کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کرنے کا بھی حکم دیا جب پرویز مشرف ضمانت کے لیے ان کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

عدالتی احکامات کے بعد سابق فوجی صدر کمرہ عدالت سے فرار ہوگئے تھے بعدازاں پولیس نے اُنھیں حراست میں لے کر متعلقہ عدالت میں پیش کیا تھا۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد کا نوٹس بھی لیا تھا۔

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد ہی فیس بک کی انتظامیہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد نہیں لگایا جائے گا۔اس پر انہیں عاشق رسول جج کہا جانے لگا اور عاصمہ جہانگیر نے ان پر مولوی کی پھبتی کسی اور کہا کہ انہوں نے عدالت کو مسجد میں تبدیل کر دیا ہے


جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ہی حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو گزشتہ سال اسلام آباد کو لاک ڈون کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہویے اُنھیں دھرنا دینے سے روک دیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے بعد سینئر ترین جج ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس محمد انور خان کاسی کی سپریم کورٹ میں چلے جانے یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ اُنھوں نے سی ڈی اے کے حکام پر اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزین و آرائش کے لیے دباو ڈالا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز نے ان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کو بندکمرے میں کرنے کی بجائے اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی جسے عدالت عظمی نے مسترد کردیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا اور اب انہوں نے تحریری فیصلے میں فوج کے کردار پر سخت ترین الفاظ میں تنقید کیا ہے-

4 تبصرے

  1. یہ ایسا ملک ھے جہاں گھوڑے اور گدھے ایک ھی بندھا جاتا ھے اب کے بیان کو اگر جراتمندانہ کیے تو لعل مسجد والا موقف کس پیرائے میں دیکھیں گے ہیاں ھر کوئی نمود و نمائش کے لیے یہ سب کچھ کر رھا ھے اس نمود نمائش کی مثالیں ہیاں بہت ھے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*