outline
justice shaukat aziz siddique

آئی ایس آئی نے چیف جسٹس کو کہا ،نوازشریف اور مریم کو الیکشن سے پہلے رہا نہیں کرنا،جسٹس شوکت صدیقی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی ایس آئی پر عدالتی امور میں مداخلت ،اپنی مرضی کے بنچ بنوانے اور من پسند فیصلے کروانے کا الزام عائد کیا ہے

جسٹس شوکت عزیز صدیقی جنہوں نے چند روز قبل تحریری فیصلے میں بھی آرمی چیف سے اپیل کی تھی کہ اپنے لوگوں کو روکیں ،انہوں نے راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایس آئی پوری طرح عدالتی معاملات کو مینی پولیٹ کرنے میں ملوث ہے، جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی والے اپنی مرضی کے بنچ بنواتے ہیں، آئی ایس آئی والوں نے ہمارے چیف جسٹس کو اپروچ کر کے کہا نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے دینا

انہوں نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ چیف جسٹس انور کاسی نے آئی ایس آئی کو یقین دہانی کرائی کہ جسٹس صدیقی کو بنچ میں شامل نہیں کیا جائے گا اور آپ کی مرضی کا بنچ بنا دیتے ہیں

انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ احتساب عدالت کی ہر روز کی پروسیڈنگ کہاں پر جاتی رہی ہیں، معلوم ہے کہ سپریم کورٹ کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے، جسٹس صدیقی نے کہا کہ احتساب عدالت پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا، عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے، آپ کی حویلی بندوق والوں کے کنٹرول میں ہے، مجھے نوکری کی پرواہ نہیں، یہ کہا گیا کہ یقین دہانی کرائیں کہ مرضی کے فیصلے کریں گے تو آپ کے ریفرنس ختم کرا دیں گے ، مجھے نومبر تک نہیں ستمبر میں چیف جسٹس بنوانے کی بھی پیش کش کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موازنہ امریکا یا یورپ کے ساتھ نہیں، بھارت، بنگلہ دیش یا سری لنکا کے ساتھ ہو سکتا ہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ دس سال بعد میں بھارت دنیا کی ایک بڑی معیشت ہو گا اور ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں،بھارت میں ایک دن کے لیے سیاسی عمل نہیں رکا، کبھی مارشل لا نہیں لگا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ بھارت کے دشمن ملک ہونے کا بتایا جاتا ہے، یہ نہیں کہ ان کے لوگوں کو آرمی چیف کا نام معلوم نہیں ہوتا، بھارت میں بھی کرپشن اور بدانتظامی ہے مگر پھر بھی ترقی کی راہ پر ہے، جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات کی پچاس فیصد ذمہ داری عدلیہ اور باقی پچاس فیصد دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*