outline
haroon ur rahsid

جو بے نیاز کا بندہ ہے‘ بے نیاز رہے-ہارون الرشید

سورج آدمی کے باطن سے طلوع ہوتا ہے‘ چاند اور ستارے بھی

ان چند لوگوں میں سے ایک جنہیں میں نے شاد کام پایا۔ ابھی ابھی دروازے پر عبدالمعین نے دستک دی اور کاغذ میرے حوالے کیے۔ برسوں سے کراچی کے اس ہوٹل میں قیام کرتا آیا ہوں۔ برسوں سے اسے جانتا ہوں۔ کبھی وہ غیر ضروری تپاک کا مظاہرہ نہیں کرتا‘ کبھی زیادہ مؤدب نہیں ہوتا‘ ہوٹلوں کے بیرے‘ جس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ایسا کرنے کی معین کو ضرورت بھی نہیں۔ فطرتاً وہ ایک مؤدب آدمی ہے۔ منکسر‘ مطمئن اور کسی قدر کھویا کھویا سا۔ گرد و پیش کو بچوں کی سی حیرت سے دیکھتا ہوا۔ اس الجھی‘ روتی بسورتی‘ ناراض اور فریاد کناں زندگی کو۔

کراچی نہیں‘ اس کا تعلق پنجاب سے ہے‘ اس قدیم قصبے پاک پتن سے‘ جہاں فرید الدین شکر گنج کا نورانی وجود اب بھی بروئے کار لگتا ہے۔ گویا وہ گلیوں‘ بازاروں میں گھومتے اور اس شہر کے مکینوں کی خبر رکھتے ہوں۔

کیا عجب ہے کہ وہ سقّہ، اس کے آبائو اجداد میں شامل ہو یا اس کے آبا کا پڑوسی‘ جس نے شیخ کے پائوں چومنے کی کوشش کی تھی۔ پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین کی آمد کو ابھی شاید تین صدیاں باقی تھیں۔ جس کے بارے میں مستقبل کے مؤرخ کو لکھنا تھا “دا پرنس آف دا پرنسز“ تمام بادشاہوں کا بادشاہ۔ سخت جان‘ صداقت شعار اور یار باش‘ جس نے کہا تھا: زندگی فقیروں اور شاعروں کی ہوتی ہے۔ بادشاہ آج مرے‘ کل دوسرا دن۔

ناگواری سے خواجہ نے اپنے پائوں سمیٹے اور کہا: سمجھاتے‘ سکھاتے‘ سالہا سال بیت گئے۔ بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایک لمحہ تامل کے بغیر‘ سقّے نے یہ کہا: آپ کے ہاتھ پائوں میں کیا رکھا ہے خواجہ؟ ہم تو اس لیے آپ سے محبت کرتے ہیں کہ آپ کو اللہ سے محبت ہے۔

اداسی طاری کرنے والی یہ آخرِ سرما کی ایک شام تھی۔ چک لالہ سکیم 3 کے اس مکان کے باہر میں عارف کا منتظر کھڑا تھا۔ مجھے گھر پہنچا کر اپنے قصبے کو انہیں روانہ ہونا تھا۔ وہ میرے پاس آ کھڑے ہوئے۔ تازہ ہوا کو محسوس کیا اور کہا: تم نغمہ کیوں نہیں لکھتے؟ اس گداز کو الفاظ میں کیوں نہیں ڈھال دیتے۔ اداسی جب غالب آ جائے‘ اور سرما کی ایسی شام میں کیوں نہ آتی‘ تو آدمی کچھ لاپروا سا ہو جاتا ہے۔ ”حضور!‘‘ میں نے کہا: آپ کو شاعری کی سوجھی ہے‘ یہاں جان پر بنی ہے۔ بولے: اسی میں تو نغمہ ڈھلتا ہے‘ اسی میں تو شعر سنورتا ہے۔ یہ آنے والی منزلوں کی مسافت ہے‘ کچھ دیر کے لئے آدمی‘ جنگل میں راہ بھول جاتا ہے۔ یہ ایک نعمت ہے۔ کیپسٹی بلڈنگ  کے لیے‘ استعداد میں اضافے کے لیے‘ قدرت کی طرف سے ایک سنہری موقع۔ پھر وہ کھکھلا کر ہنسے اور ایسا تبصرہ کیا کہ آنِ واحد میں بشاشت یہاں سے وہاں تک پھیل گئی۔ غم اس طرح تحلیل ہوا جیسے سرما کی سنہری دھوپ‘ ٹھنڈ اور درد کو لے جاتی ہے۔

سورج کبھی آدمی کے باطن سے بھی طلوع ہوتا ہے‘ چاند اور ستارے بھی

پہلی بار‘ برسوں پہلے معین کی چونکا دینے والی آسودگی کے بارے میں تجسس ہوا تو اس سے کچھ سوالات کیے۔ اس نے بتایا کہ اپنی سالانہ چھٹیاں وہ خواجہ فرید الدین شکر گنج کے سالانہ عرس کے لیے اُٹھا رکھتا ہے۔ ”پندرہ دن کے لیے میں وہاں چلا جاتا ہوں اور ایک رضاکار کے فرائض انجام دیتا ہوں‘‘۔ لہجے میں اطمینان تھا‘ جو پیاسے کو پانی پینے کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ حیرت سے سوچا: وہ زیادہ خوش بخت ہے یا ایک لاکھ سپاہ کے ساتھ خواجہ کی خدمت میں حاضر ہونے والا شہنشاہ‘ غیاث الدین بلبن۔ جس نے اپنی بیٹی‘ ان کے ساتھ بیاہ دی تھی۔ کیسا باجبروت بادشاہ تھا۔ اس کے کارنامے کسی کو یاد نہیں۔ بس یہ یاد ہے کہ خواجہ نے اس کی سر پرستی کی تھی۔ جب تک گردش لیل و نہار قائم ہے‘ حسن ظن بادشاہ سے باقی رہے گا۔

معین ناچیز سے حسنِ ظن رکھتا ہے‘ جو ہر بھلے آدمی کو دوسروں سے ہوتا ہے۔

اس نے کہا: آپ کچھ ڈھیلے نظر آ رہے ہیں۔ زمانہ گزرا‘ اس طرح کا کوئی جملہ میں نے کبھی کسی سے نہیں سنا تھا۔ شہروں کی زندگی ایک خاص طرح کے تصنع میں گھری رہتی ہے۔ ایک دوسرے کے احساسات میں شریک ہونے سے لوگ گھبراتے ہیں۔ معین کی بے تکلفی مجھے اچھی لگی اور میں نے اس سے یہ کہا: کچھ دیر سو لوں تو بہتر ہو جائوں گا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور چل دیا۔

پھر پاک پتن کا ایک اور مکین یاد آیا۔ دس بارہ برس ہوتے ہیں‘ کہیں سے سن سنا کر وہ گوجر خان پہنچا۔ اس کا مشغلہ عجیب اور اس کا مسئلہ عجیب تر تھا۔ پہلی بار اس دن درویش کی زندگی کا وہ پہلو بھی دیکھا‘ اب تک جو نگاہوں سے اوجھل رہا تھا۔

فرید الدین شکر گنج کے سجادہ نشینوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ اس کے سوا کہ ان میں سے کچھ یورپ میں جا بسے ہیں۔ ممکن ہے‘ بہت اچھے لوگ ہوں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مگر‘ سبھی لوگ‘ کچھ نہ کچھ زمانے کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ رسوخ اور آسودگی ہر چاند کو کچھ نہ کچھ گہنا دیتی ہے۔
سائل نے بیان کیا کہ خانقاہ کے متولّیوں میں سے کچھ لوگ اسے پریشان کرتے ہیں۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ اس نے ایک لنگر کھول رکھا ہے‘ اپنے ذاتی سرمایے سے۔ زائرین کو وہ کھانا کھلاتا ہے۔ جن کے ہوٹل مزار کے آس پاس ہیں‘ انہیں اس پہ اعتراض ہے۔ آئے دن وہ اسے دھمکاتے ہیں کہ کاروبار ان کا متاثر ہوتا ہے۔

درویش نے اسے تسبیح لکھ کر دی۔ دعائیں تعلیم کیں۔ کہا ان شاء اللہ خوف سے وہ نجات پا لے گا‘ اللہ اس کی حفاظت کرے گا۔ کچھ دیر وہ خاموش بیٹھا رہا‘ پھر اس نے کہا: وہ بہت طاقتور لوگ ہیں۔ ایک بار پھر اسے تسلی دی گئی۔ اسے بتایا گیا کہ اللہ اپنے بندوں کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اناّ ربیّ علیٰ کل شئٍی حفیظ۔ اضطراب اب بھی باقی تھا‘ اس نے پھر کہا: وہ بہت طاقتور ہیں۔

جس جواب کی توقع تھی‘ وہ اسے نہ دیا گیا بلکہ ایسی ایک بات جو سان گمان میں بھی نہ تھی۔ ”ہم بھی ایسے کوئی گئے گزرے نہیں‘‘ فقیر نے کہا اور اس پہ نگاہِ لطف کی۔ اس جملے کا مفہوم میں سمجھ نہ سکا‘ لیکن سر سے پائوں تک کانپ گیا۔ صوفی کے جلال سے ڈرنا چاہیے؛ اگرچہ درویش وہی ہوتا ہے جو رحم و کرم کا پیکر ہو۔ خود کو جو کبھی رعایت نہیں دیتا اور دوسروں کو ہمیشہ۔ مسافر کے چہرے پر اطمینان کا سایہ گہرا ہوتا گیا۔ ممکن ہے یہ بات اسی لیے کہی

گئی ہو‘ اس کی نفسیاتی تسکین کے لیے
درویشوں کے ہاں یہ جو ایک طلسم ہوتا ہے

کچھ دیر پہلے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بارے میں سوچتا رہا۔ ان کے لیڈر اور لیڈروں کی اس صف کے بارے میں‘ خوف نے جنہیں شجاعت کی اداکاری پہ آمادہ کیا ہے۔ دولت اور اقتدار کے بھوکے اور بہادر؟ اتنا اضطراب ان میں کیوں ہے؟ اور آصف علی زرداری اور عمران خان میں۔ ان کے حامیوں کی، جنگجوئوں کی قطاریں‘ ہیجان کے مارے حیوانوں کی قطاریں ہیں‘ بادشاہ کا لشکر‘ جن کا ہانکا کرنے آیا ہو۔ سکھ کہاں ہے؟ شاعر فانی بدایونی نے کہا تھا ”شاید کہیں جنگلوں اور صحرائوں میں ہو‘ بستیوںمیں تو کہیں نہیں‘‘۔ سکھ آدمی کے قلب میں ہوتا ہے یا پھر کہیں نہیں ہوتا۔ وہ جو فطرت سے ہم آہنگ ہو۔ جو ظلم‘ حسد‘ عناد‘ خیانت اور کذب میں مبتلا نہ ہو۔ طولِ امل، خواہشات کی غلامی۔ سرکارؐ کا فرمان یہ ہے: ساری خرابیوں کی جڑ‘ دنیا کی محبت ہے۔
سقّہ آزاد تھا‘ میرا خیال ہے کہ پاک پتن کے دو اور مکین بھی۔

سکندر اعظم آزاد نہیں تھا۔

دیو جانس کلبی سے‘ اس نے کہا: درویش بتائو‘ میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ ”میرے غلاموں کے غلام تم میری کیا مدد کرو گے‘‘۔ سکندر حیرت زدہ رہ گیا۔ ”اپنی خواہشات پر میں نے قابو پا لیا ہے‘‘۔ اس نے کہا۔ ”اور تم اپنی آرزوئوں کے بندے ہو‘‘۔

اور عارف نے اس روز یہ کہا: اپنی آرزوئوں کو دراز نہ کرو اور سیاست کو ترجیحات میں شامل نہ کرو۔
جو بے نیاز کا بندہ ہے‘ بے نیاز رہے۔

سورج آدمی کے باطن سے طلوع ہوتا ہے‘ چاند اور ستارے بھی

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*