تازہ ترین
outline

نئی حکومت کے ایک ماہ میں 16 یو ٹرن

تحریک انصاف کی حکومت کو ایک ماہ ہو گیا ہے اور اس دوران عوام سے کیئے گئے وعدوں کی جانب تو کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی البتہ یو ٹرن لینے کا ایک نیا ریکارڈ ضرور قائم کیا گیا ہے

تحقیق کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ نے ایک ماہ کے دوران کم از کم 16 مرتبہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے اپنے ابتدائی موقف سے رجوع کیا ہے

حکومت کی ان سیاسی قلابازیوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔انتخابات سے قبل اور بعد عمران خان نے وزیراعظم ہائوس میں نہ رہنے کا عہد کیا لیکن بالآخر انہوں نے وزیراعظم میں ملٹری سیکریٹری کے مکان میں رہنے کو ترجیح دی تاہم افتخار درانی کا اصرار ہے کہ وزیراعظم ہائوس پی ایم اسٹاف کالونی میں واقع ہے۔ یہ دعویٰ ہے درست نہیں۔ مذکورہ مکان وزیراعظم کے لئے مختص رہائش گاہ سے چند گز کے فاصلے پر اور کالونی وزیراعظم ہائوس کے باہر بری امام کے مزار جانے والی سڑک پر ہے

عمران خان کا ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ وہ کوئی پروٹوکول نہیں لیں گے۔ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد حکومتی ترجمان کے مطابق ان کے سپرد دو گاڑیاں اور دو ملازم ہوں گے۔ اگر اسلام آباد میں ان کے قافلے پر یقین کیا جائے تو اس میں 6؍ گاڑیاں وزیراعظم کے ساتھہوتی ہیں لیکن افتخار درانی کا کہنا ہے کہ عمران خان اب بھی سیکورٹی مقاصد کے لئے دو ہی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ ایک جیمر گاڑی اور بلیو بک کے مطابق سیکورٹی کی مد میں گاڑی ساتھ چلتی ہے

حلف برداری کے ایک دن بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپنی حکومت کے اول تین ماہ میں بیرون ممالک کے دورے نہیں کریں گے لیکن وہ منگل کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر چلےگئے

کابینہ اجلاس میں طے کیا گیا تھا کہ غیر ملکی دوروں کے لئے خصوصی طیارہ استعمال نہیں ہوگا لیکن وزیراعظم اپنے لئے مختص طیارے ایئر فورس ون کے ذریعہ روانہ ہوئے

وفاقی کابینہ کے دوسرے اجلاس میں وفاقی وزراء کے غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کی گئی۔ وزیراعظم کے ساتھ چار وزراء/مشیر سعودی عرب اور امارات کے دورے پر گئے ہیں جن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور مشیر تجارت عبدالرزاق دائود ساتھ سفر کررہے ہیں

اس کابینہ اجلاس میں وزیراعظم اور وزر اء کے کمرشیل پروازوں سے سفر کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چار روز قبل خصوصی پرواز سے کابل گئے تھے

افغانیوں اور بنگالیوں کو پاکستانی شہریت دینے کے لئے حکومت کی قلابازی اچانک یو ٹرن کی تازہ ترین مثال ہے

بیورو کریسی کو سیاست سے پاک کرنا عمران خان کا ایک او ر وعدہ تھا لیکن ان کی حکومت نے اسکے الٹ ہی کام کیا۔ ڈی پی او پاک پتن رضوان گوندل کو پہلے منصب سے ہٹایا گیا اور جب انہوں نے خاور مانیکا سے معافی مانگنے سے انکار کیا تو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے حوالے کردیا

اقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیل میں یو ٹرن لیا گیا ۔عاطف میاں کو کونسل کا رکن بنایا جب عقیدے کی بنیاد پر مزاحمت کے ساتھ دبائو بڑھا تو حکومت نے پہلے تو مزاحمت کی لیکن بالآخر دبائو کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے

گیس کے نرخوںمیں اضافے کے معاملے وزیر اطلاعات فود چوہدری ابتداء میں تردید کرتے رہے لیکن بعد ازاں خبر درست ثابت ہوئی۔ وزیر پٹرولیم نے نرخوں میں اضافے کا اعلان کیا

پاک چین اقتصادی راہ داری (سی پیک) کو بھی غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں بخشا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ حکومت پروجیکٹ پر نظرثانی کا ارادہ رکھتی ہے اور فیصلے تک اسے روک دیا جائے گا۔ جب اس خبر نے ناراضی اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا تو مشیر کواپنے الفاظ واپس لینے پڑے

عمران خان اہم عہدوں پر منظور نظر افراد کو گزشتہ حکومت کے دور میں تعینات کئے جانے پر تنقید کرتے رہے جس میں نجم سیٹھی کو پی سی بی کا چیئرمین بنایا جانا بھی شامل تھا۔ انہوں نے گزشتہ 20؍ اگست کو استعفیٰ دیا۔ حلف اٹھانے کے دو دن بعد عمران خان نے وہی کیا جس کے لئے وہ نواز شریف پر نکتہ چیں رہے۔ انہوں نے احسان مانی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کانیا سربراہ بنادیا اور اب زُلفی بخاری کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا ہے

عمران خان مختلف ترقیاتی کاموں کے افتتاح کرنے پر بھی نواز شریف پر نقاد رہے لیکن گزشتہ روز لوگوں نے انہیں راولپنڈی، میانوالی ایکسپریس کا افتتاح کرتے دیکھا

وزیراعظم عمران خان نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ٹیلی فونک کال وصول کی،اس بات چیت کے متن پر امریکی موقف کو جھٹلایا گیا لیکن آخرکار پسپائی اختیار کرلی گئی

ایک اور سفارتی لغزش بھارتی وزیراعظم مودی کے تہنیتی پیغام کی تشریح کے حوالے سے ہوئی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا پہلےروز کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے جامع مذاکرات کے اعادے کی پیشکش کی ہے جس کی بھارت نے تردید کی۔ بعد ازاں دفتر خارجہ کو بیان واپس لینا پڑا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*