outline

پاکستان کی خارجہ پالیسی اب دفتر خارجہ میں ہی بنے گی،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دعویٰ

وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے انتہائی اہم رکن وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد دفتر خارجہ میں اپنے پہلے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب دفتر خارجہ میں ہی بنے گی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ رواج ہے کہ آپ نیشنل سکیورٹی کے اداروں سے ‘ان پٹ’ لیتے ہیں اور وہ اہم ہوتی ہےتاہم پاکستان کی خارجہ پالیسی دفترِ خارجہ ہی میں بنے گی

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نریندر مودی نے وزیراعظم عمران خان کو مذاکرات کا پیغام بھیجا ہے-انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگوں کے لیے ٹھوس پیغام لے کر کابل کا دورہ کروں گا، ماضی کی روش سے ہٹ کر نئے سفر کا آغاز کرنا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کے وزیرخارجہ سے ملاقات کروں گا اور ان کی قیادت کے سامنے ’پختہ ادارے اور سوچ‘ کو پیش کروں گا۔

وزیرِ خارجہ کا حلف لینے کے تھوڑی ہی دیر بعد دفترِ خارجہ میں پریس کانفرنس دوران فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگار نے وزیر خارجہ شاہ ممحود قریشی سے سوال کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے اور کیا آپ کس طرح اپنی خارجہ پالیسی پر عمل کرنے میں آزاد ہوں گے؟

اس سوال کے جواب میں پہلے شاہ محمود قریشی نے نامہ نگار کا نام پوچھا اور نام معلوم کرنے کے بعد جواب دیتے ہوئے کہا کہ مغرب میں آپ کے پاس پہلے سے طے شدہ خیالات ہوتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کہاں مرتب کی جاتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے سامنے رکھے ڈائس پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’میں آپ کو واضح کر دوں کہ ملک کی خارجہ پالیسی یہاں بنائی جائے گی۔۔۔۔ یہاں دفتر خارجہ۔۔۔ اب۔‘

شاہ محمود قریشی نے اس کے ساتھ مزید کہا کہ دنیا بھر میں یہ پریکٹس ہوتی ہے کہ آپ دوسروں سے رائے لیتے ہیں جس میں اپنی قومی سکیورٹی کے اداروں سے بھی رائے لیتے ہیں جو کہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور ایک چیز جسے اداروں کی یادداشت کہا جاتا ہے، ہمیں اس یادداشت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور میں اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا اور میں ان کو انگیج کروں گا پاکستان کی بہتری کے لیے کیونکہ میری پالیسی ’پہلے پاکستان‘ ہے۔‘

شاہ محمود قریشی نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا آپ وہاں سی آئی اے اور پینٹاگون سے رائے نہیں لیتے؟‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوالات سے ہہلے خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہماری سوچ کا محور پاکستان کا عام شہری ہے۔ اس خطے کے بے پناہ چیلینجز ہیں لیکن ہمارا پیش رفت کرنے کا ارادہ ہے۔ کچھ قوتیں کچھ عرصے سے پاکستان کو متواتر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور کیوں نہ ہو ملک میں چار سال سے وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*