outline

قائداعظم بنام عمران خان-سہیل وڑائچ

جنت نگر، عالم بالا قائدین روڈ

ڈیئر پرائم منسٹر عمران خان!

السلام علیکم! میری او رتمام بانیان پاکستان کی طرف سے وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے پر بہت بہت مبارک۔ کل ہی جنت نگر میں سارے بانیان پاکستان اکٹھے ہوئے تھے علامہ محمد اقبال بڑے مسرور اور شاداں تھے ان کا نواسہ یوسف صلاح الدین کل ہی بنی گالہ اور اسلام آباد سے ہو کر آیا تھا اور بتا رہا تھا کہ عمران خان پاکستان کو بدل دیگا اس کا ارادہ مصمم ہے اور اس میں ڈٹنے کی صلاحیت ہے علامہ اقبال نے بتایا کہ ان کے بیٹے جاوید اقبال بڑے مغموم ہیں ولید اقبال کو پی ٹی آئی میں اہمیت نہیں دی جا رہی علامہ اقبال نے جاوید کو سمجھایا کہ

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

علامہ اقبال اور سردار عبدالرب نشتر اس بات پر خوش تھے کہ پاکستان میں ہم نے اسلام اور جمہوریت کا جو پہلا پودا لگایا تھا اب وہ پھل پھول رہا ہے ۔مڈل کلاس باشعور ہو چکی ہے یہی مڈل کلاس دراصل جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے مولانا عبدالستار نیازی تحریک پاکستان کا جوشیلا کارکن رہا ہے وہ بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ عمران خان بھی اسکے قبیلے نیازی ہی سے تعلق رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کو خدشہ تھا کہ عمران خان طالبان سے ڈائیلاگ اور امن کی جو بات کرتا ہے اس سے کہیں طالبان کو شہ نہ مل جائے مگر صلح جو خواجہ ناظم الدین نے حاضرین محفل کو یقین دلایا کہ افغانستان اور پاکستان میں دیرپا امن کا واحد حل مذاکرات ہی ہیں۔ عبدالستار نیازی نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان کا رجحان روحانیت کی طرف ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مذہب روحانیت کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔

علامہ اقبال بولے اسی لئے تو میں نے کہا تھا کہ پاکستان میںروحانی جمہوریت ہونی چاہئے اس پر مجھے مداخلت کرنی پڑی اور میں نے سب کو سمجھایا کہ سماجی انصاف کے بغیر کوئی ریاست چل نہیں سکتی ایسی ریاست جس میں اقلیتوں کے حقوق نہ ہوں بنیادی انسانی آزادیاں نہ ہوں وہاں کبھی ترقی نہیں ہو سکتی ۔اس پر سب نے صاد کہا اور سب نے اتفاق کیا کہ عمران خان کو اس حوالے سے خط لکھا جائے کیونکہ وہ بار بار جناح اور اقبال کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں ۔محفل میں موجود پیرپگاڑا پہلو بدل رہےتھے میں نے انکی بے چینی دیکھ کر پوچھا ینگ مین کیا مسئلہ ہے پیر پگاڑا کو میں نے نوعمری میں دیکھا تھا اس لئے ابھی تک میں اسے ینگ مین کہتا ہوں اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں ۔پیر پگاڑا نے اپنے ساتھ بیٹھے جنرل (ر) غلام عمر کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان کا بیٹا اسد عمر، عمران خان کا وزیر خزانہ بنا ہے یہ عمران کی کابینہ کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں سردار شوکت حیات نے کہا ضرور، غلام عمر نے کھڑے ہو کر کہا کہ پاکستان کی معاشی حالت درست کرنے کیلئے سیٹھ دائود کے بیٹے رزاق دائود کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ لیاقت علی خان نے سیٹھ دائود کا نام آنے پر میری طرف مسکرا کر دیکھا۔غلام عمر نے کن اکھیوں سے ہمیں دیکھا اور کہا سرمحمد امین آف شمس آباد کا پڑپوتا اسلم امین آف اٹک کو وزیراعظم کا ماحولیاتی مشیر بنایا گیا ہے اچانک سردار شوکت حیات اٹھے اور کہنے لگے یہ تو ٹوڈی خاندان ہے ۔آخری دن تک یونینسٹ کا ساتھ دیا۔

نواب زادہ لیاقت علی خان نے مسکرا کر انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا آپ کے والد سردار سکندر حیات بھی تو انگریزوں ہی کے ساتھی تھے ۔جنرل غلام عمر نے کہا شاہ محمود قریشی کو وزیرخارجہ بنایا گیا ہے اس بار وہ خود، ان کا بیٹا زین قریشی اور بھانجا ظہور قریشی بھی منتخب ہوئے ہیں شاہ محمود قریشی کا نام آنا تھا کہ مسلم لیگی صدر الدین گیلانی کھڑے ہو گئے اور مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے کہ شاہ محمود کا والد سجاد قریشی ،دادا مرید قریشی اور لکڑدادا شاہ محمود قریشی سارے ہی انگریزوں کے وفادار تھے پھر انہیں اہمیت کیوں دی جا رہی ہے میرے گیلانی خاندان کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ یوسف رضا اور عبدالقادر گیلانی تک کو ہرا دیا گیا ہے میں نے صدر الدین گیلانی کو بیٹھا دیا اور کہا کہ پہلے باقی کابینہ کے نام تو سن لیں۔ اس دوران پگڑی پوش راجہ غضنفر علی خان محفل کی صفیں چیرتے ہوئے آئے اور کہا کہ عرصہ دراز بعد ان کے ضلع جہلم کو بھی نمائندگی مل گئی ہے میں نے سوالیہ انداز میں ان کی طرف دیکھا وہ ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ اٹھائے ہوئے تھے کہنے لگے میرے ہم زلف چوہدری الطاف حسین کا بھتیجا اور چوہدری اویس کا پوتا چوہدری فواد وزیر بنا ہے۔ الطاف نے جہلم کی دیسی مٹھائی منگوائی ہے وہ آپ سب کے لئے لایا ہوں۔ میٹنگ کافی لمبی ہو گئی تھی لوگوں کا ابھی اس معاملے پر گفتگو کرنے کا موڈ تھا لیکن وقت کی پابندی کو ہم نے یہاں بھی اپنا معمول بنایا ہوا ہے اس لئے میں نے راجہ غضنفر علی خان کی آمد کے فوراً بعد میٹنگ ملتوی کر دی کیونکہ گھر پر رتی مریم جناح، دینا واڈیا جناح اور فاطی فاطمہ جناح دوپہر کے کھانے پر میری منتظر تھیں۔

گھر ڈائننگ ٹیبل پر سارا خاندان میرا منتظر تھا میرے بیٹھتے ہی ویٹر نے چکن سوپ پیش کیا سوپ پیتے پیتے میری نظر بیٹی دیناواڈیا کی طرف پڑی تو وہ بڑی پرجوش دکھائی دی میں نے دینا سے پوچھا آپ بہت پرجوش نظر آ رہی ہو ۔دینا نے ’’گرے وولف‘‘ کہہ کر مجھے مسکرا کر دیکھا وہ جب اچھے موڈ میں ہو تو مصطفیٰ کمال پاشا کی طرح مجھے گرے وولف کہہ کر بلاتی ہے۔ دینا نے کہا عمران کا آنا پاکستان کے لئے خوش قسمتی کا آغاز ہے اور پھر بغیر رکے بتانے لگی کہ عمران خان ہندوستان میں وزیراعظم سونیا گاندھی سے ملا تو بیٹھتے ہی پہلا سوال یہ کردیا کہ ’’کیا اندھیری گلی کے آگے کہیں روشنی بھی ہے؟‘‘ سونیا گاندھی اس غیر متوقع اور بے تکلفانہ سوال کے لئے تیار نہ تھیں سوچ میں پڑ گئیں پھر توقف کے بعد کہا کہ نہیں ہم تو چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات بہتر ہوں۔ ملاقات کرکے باہر نکلتے ہی عمران خان کا تاثر یہ تھا کہ سونیا گاندھی کا توقف یہ بتاتا ہے کہ ہندوستان اور سونیا دونوں کی نیت ٹھیک نہیں۔ دینا نے رکے بغیر بتایا کہ مجھے یہ واقعہ یوسف صلاح الدین نے دورہ پاکستان کے دوران سنایا تھا یوسف اس ملاقات میں عمران خان کے ہمراہ گیاتھا۔ دینا نے کہا کہ عمران کبھی بھی پاکستان کے مفاد کا سودا نہیں کرے گا نہ جھکے گا اور نہ بکے گا ۔ دینا کہنے لگی کہ یہ کسی کو کرپشن نہیں کرنے دے گا پھر بتانے لگی کہ یوسف صلاح الدین نے ایک اور دورہ بھارت کا قصہ سناتے ہوئے بتایا تھا کہ وہاں امریکی صدر جارج بش جونیئر کے بھائی جیپ بش سے ملاقات ہوئی تو افغانستان کے معاملے پر گفتگو شروع ہوئی، عمران خان نے اسے منہ پر ہی کہہ دیا کہ امریکہ کی افغانستان پالیسی بالکل غلط ہے۔

امریکیوں کو خود افغانستان کا علم نہیں تھا تو اپنے اتحادی برطانیہ سے ہی پوچھ لیتے وہ خود افغانستان میں جا کر سبق سیکھ چکے ہیں، 15، 20 منٹ کی بحث کے بعد امریکیوں کو ماننا پڑا کہ ان سے غلطی ہوگئی ہے۔ دینا نے کہا کہ عمران دوبارہ سے پاکستان کو جناح کا پاکستان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے میں نے جواباً اقرار میں سر ہلایا اور کہا کہ کابینہ میں پرانے چہرے شامل کرکے اور دو کمزور وزرائے اعلیٰ کا انتخاب کرکے کوئی اچھا پیغام نہیں دیا۔ عمران سے توقعات بہت ہیں اس لئے اسے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔

فاطی (فاطمہ جناح کو میں شروع ہی سے فاطی کہتا ہوں)سارا عرصہ خاموش بیٹھی باتیں سن رہی تھی اچانک کہنے لگی کہ پاکستان میں آنے والی تبدیلی بڑی ہی خوشگوار ہے۔بیرون ملک پاکستانی بھی بہت خوش ہیں نوجوان نسل اور تنخواہ دار مڈل کلاس بھی بہت نہال ہے، عمران نے حلف کے روز بچت اور سادگی کاشاندار مظاہرہ کیا ہے امید ہے کہ اب وہ بیرون ملک سے دولت بھی لے آئے گا اور یوں پاکستان کے معاشی مسائل کم ہو جائیں گے۔

مسٹر پرائم منسٹر!مجھے لمبے خط لکھنے کی عادت نہیں میں نے اپنے اور عالم بالا کے ساتھیوں کے تاثرات اور اپنے احساسات لکھ دیئے ہیں امید ہے آپ ان احساسات کا خیال کروگے۔ اگر ہمارے کہے ہوئے راستے پر چلو گے تو کامیاب ہو جائو گے۔

والسلام ایم اے جناح

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*