تازہ ترین
outline

حقوق یا آزادی-آمنہ مقصود چوہدری

آجکل ہر طرف عورت کے حقوق کی بات ہورہی ہے۔میں پوچھتی ہوں کیسے حقوق؟ کونسے حقوق ہیں جو عورت کو اسلام نے نہیں دئیے؟حقوق کے نام پر آزادی چاہے، آزادی بھی ایسی جس میں عورتوں کی اپنی ہی ذلت ہے۔اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عورت کو یہ اعزاد دیا کہ اسے برابری کے ساتھ آدم ؑ کے ساتھ جنت میں رکھا ۔اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو برابر ی کے حقوق دئیے۔اسلام نے جو حقوق عورت کو دیئے ہیں اسے دنیا کی کوئی طاقت سلب نہیں کر سکتی۔آج کا انسان مغرب کے بنائے ہوئے قانون کے تحت عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے،جو جہالت کے سواء کچھ نہیں ۔یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو حقوق دئیے۔اسلام سے قبل عورت کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگو کر دیا جاتا تھا ۔حالیہ عورت مارچ نے عورت کی تذلیل کی ہے بیہودہ کارڈ پکڑ کر اسلام کوبدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ان خواتین کا کوئی بھی مطالبہ درست نہ تھا۔

خواتین مارچ میں ’’میرا جسم میر مرضی‘‘ ’’دوپٹہ انتہا پسند ہے تو خود لے لو‘‘ ’’لو بیٹھ گئی ٹھیک سے‘‘ ’’میں اکیلی آوارہ بدچلن‘‘ جیسے Play Card پکڑ کر کھڑے ہونا ان کی نا قص عقل ظاہر کرتا ہے ان کے مطالبوں میں مصرف آزادی مانگی جارہی ہے حقوق نہیں۔حقوق اور آزادی میں فرق ہے۔ اس عورت مارچ میں تو حقوق نہیں صرف بے لگام آزادی مانگی جارہی تھی

حقوق کے نام پر بیہودگی کو پروموٹ کرنا سراسر زیادتی نہیں تو اور کیا ہے-عزت دار روزگار ہر عورت کا بنیادی حق ہے ۔اسلام نے بھی تعلیم ہر مرد اور عورت پر فرض کی۔عزت دار روزگار، تعلیم کا حق، جائیداد میں ترکہ جیسے مطالبات ہوں تو کیا ہی اچھا ہوتا لیکن ان کے مطابات میں حقوق نہیں بیہودگی نظر آتی ہے۔
میں پوچھتی ہوں مردوں کے خلاف ہونیکا کیا مقصد ہے، کیا ان کا باپ مرد نہیں، کیا ان کا بھائی مرد نہیں، کیا ان کاشوہر مرد نہیں اور یہ سب مرد اللہ نے کس لیے بنائے؟ باپ، بھائی ، شوہر کا کیاکردار ہے عورت کی زندگی میں؟

اصل بات تو یہ ہے کہ باپ، بھائی اور شوہر اللہ نے عورت کی Respect میں بنائے ۔ان کے خلاف ہونا ہر گز درست نہیں ، ہاں عورت کو ہراساں کیا جاتا ہے ان کے کام کرنے میں مشکلات آتی ہیں۔اس کا حل یہ ہے کہ ماں اپنے بچیوں کی تربیت کرے جس طرح بات بات پر لڑکیوں کو ٹوکا جاتا ہے۔لڑکوں کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

میں کیسے کہوںکہ عورت مرد کے بغیر ترقی نہی کرسکتی ،قدرت سے جنگ سراسر غلط ہے۔ہزاروں قانون عورت کے لیے بنادئیے گئے لیکن عورت کے حقوق کی آواز ہر طرف گونجتی نظر آتی ہے۔لیکن عورت کو حقوق نہیں مل رہے ایسا کیوں؟

ضرورت ہے سوچ بدلنے کی ماں کی تربیت ماں کی گود پہلی درس گاہ ہے یہ ساری مغرب کی سازشیں ہیں کہ عورتوں کے حقوق کے نام پر اسلام کو بدنام کیا جائے اگر کسی کو یاد تو ہو کہ ہمارا پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا۔لیکن کسی کو یاد نہیں ملک اسلام کے نام پرلیا لیکن چل ہم مغربی پالیسی کے مطابق رہے ہیں۔

بات دراصل یہ ہے کہ ہم دو کشتیوں کے سوار ہیں اور دو کشتیوں کے سوار کو کبھی بھی زندہ نہیں دیکھا۔اسلام میں جو حقوق عورت کو دئیے گئے ہیں ان کی مثال کسی مذہب میں نہیں ملتی۔یہاں تک کہ مغربی مصنفین نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ اسلام جیسے حقوق کسی مذہب نے عورت کو نہیں دئیے۔
ہمیں اپنی تہذیب کو ہر گز نہیں بھولنا چاہیے۔اگر یہی بیہودہ آزادی ہمیں چاہیے تو ہم نے پاکستان کیوں بنایا، کیاضرورت تھی پاکستان بنانے کی؟بھارت سے نفرت ہم کیوں کرتے ہیں وہ بھی تو انسان ہے، تضاد کس چیز کا ہے ؟مذہب کا اور رسموں کا۔ اور پھر حقوق کے نام پر آزادی مانگی جارہی ہے آزادی وہ بھی بے لگام۔یہ صورت حال وہ ہے جسے سوچ کر گھن آتی ہے کہ ہم ترقی اور حقوق کے نام پر خواتین کی کیسی بے حرمتی کررہے ہیں۔خواتین کو چاہیے مغربی ایجنڈے پر چلنے کی بجائے تہذیب کے دائرے میں رہ کر پاکستان کی ترقی میں ساتھ دیں۔

بظاہر تو لگے گا میں عورت ہو کر عورتوں کے خلاف لکھ رہی ہوں جی نہیں، یہ صرف حقوق نسواں عورت کی ترقی کے نام پر عورتوں کی تذلیل ہے۔ مغرب کی نقالی میں عورت کی حرمت کو پامال کر کے اسے شوپیش بنایا جارہا ہے اور یہاں جو مغربی سوسائیٹی کے پیرو کار عورت کی آزادی کی بات کررہے ہیں ۔یہ لوگ درحقیقت عورت تک پہنچنے کی آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔مغرب کی نکالی میں عورت کی حرمت کو پامال کر کے شوپیس بنایا جارہا ہے،اس سوچ کو بدلنا ہو گا۔بات تو سوچنے کی ہے مگر سوچے کون؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*