تازہ ترین
outline

قرض جو سود کے ساتھ ادا کرنا پڑا

ایسی بات نہیں کہ رمشا کو سر انور اچھے نہیں لگتے تھے بس وہ احتراماً ان سے مخاطب ہوتے ہوئے گھبراتی تھی۔آج اس نے ہمت کرکے ان سے بات کرنے کا فیصلہ ہی کر لیا ۔ کلاس ختم ہوتے ہی تمام بچے کلاس سے باہر آ گئے سر انور حسب معمول ڈائس پر رکھے پیپر ترتیب دے رہے تھے اور شائستہ ان کے پاس کھڑی پیپر اٹھا اٹھا کر ان کے ہاتھ میں دے رہی تھی۔رمشا اپنی نشست سے اٹھی اور آنکھیں جھکائے ڈائس کی طرف بڑھی پیپر دینے کے بعد وہ ایک لمحے کے لیئے رکی اس کے سرخ گلابی ہونٹوں نے جنبش کی تو موتیوں ایسے دانت نمودار ہوئے جن کی چمک نے ڈائس پر جھکے سر انور کو رمشا کی جانب متوجہ ہونے پرمجبور کردیا۔رمشا کچھ کہنا ہے؟ اچانک شائستہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ، رمشا نے کچھ کہنے کے بجائے موتیوں ایسے دانتوں کو گلاب کی پنکھڑیوں میں چھپا لیا اور نظریں جھکائے کھڑی رہی ۔ سر انور نے بھی فوری آنکھیں جھپکائیں۔سر رمشا کی اگلے مہینے شادی ہے اس کے لیئے فائنل سمسٹر پاس کرنا بہت ضروری ہے ایک آپ ہی ہیں جن سے کھل کر بات کی جاسکتی ہے ، شائستہ بولے جا رہی تھی مگر سر انور کی نظریں سر جھکائے کھڑی رمشا کا طواف کر رہی تھیں۔شائستہ کی آواز تو اس کے کانوں پر پڑ رہی تھی مگر ان کی توجہ رمشا پر مرکوز تھی،شائستہ نے ڈائس کی اوٹ سے ان کے کوٹ کی آستین کو ہلکا سا کھینچتے ہوئے کہا ، سر میں آپ سے کچھ کہہ رہی ہوں ۔سرانور نے لاپروائی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں کیا کر سکتا ہوں جو کارکردگی ہو گی وہی نتیجہ آجائے گا۔ کارکردگی اچھی ہوتی تو آپ سے بات ہی کیوں کرتے سر اگر اس کا رزلٹ اچھا نہ آیا تو اس کا رشتہ ٹوٹ جائے گا بس یوں سمجھیں کہ اس کی زندگیکی ڈور اب آپ کے ہاتھ میں ہے شائستہ دل و جان سے رمشا کی وکالت کر رہی تھی اس کی نظریں جب رمشا پر پڑیں تو اس کی زبان بند ہو گئی کیوں کہ رمشا کی آنکھوں سے نکلے آنسوں اس کی سبز رنگ کی قمیض پر یوں گر رہے تھے جیسے گھاس پر اوس پڑی ہو۔شائستہ نے ٹشو سے اس کے آنسو پونچھے اور دلاسہ دیتے ہوئے گلے لگالیا ،سر انور نے پیپر سمیٹے اویہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے کہا اچھا کچھ کرتے ہیں۔ان کے جانے کے بعد شائستہ نے رمشا کو تسلی دیتے ہوئے کہا تم با الکل پریشان مت ہو میں سر کو جانتی ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا اب رمشا کو تسلی ہو گئی اور اس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہونے لگے اور ایک دفعہ پھر سرخ گلابی ہونٹوں کے پیچھے سے موتیوں ایسے دانت نمودار ہوئے۔اچھا کل کیا کر رہی ہو ؟ میرا مطلب کل میرے گھر آ جاؤ سر کو بھی چائے پر بلا لیتے ہیں اور تفصیل سے بات بھی ہو جائے گی شائستہ کی یہ بات سنتے ہی رمشا کے منہ سے نکلا کہ کام تو ہو جائے گا؟شائستہ نے کہا پریشان نہ ہو میں نے سر سے بڑے کام نکلوائے ہیں مجھے معلوم ہے کام کیسے کروانا ہے بس آپ نے ویسے کرنا ہے جیسے میں کہوں۔وہ دونوں باہر نکلیں تو باہر رمشا کے والد اسے لینے کے لیئے موجود تھے شائستہ نے کہا انکل کل رمشا نے میرے گھر آنا ہے میری برتھ ڈے ہے اجازت ملنے پر دونوں کے چہروں پر خوشی کی چمک پیدا ہوئی ۔شائستہ کے والدین ڈاکٹر تھے وہ صبح آٹھ بجے چلے گئے ،شائستہ جب اٹھی تو دس بج چکے تھے اس نے چائے بنائی اور مگ پکڑ کر ٹی وی کے سامنے آ کر بیٹھ گئی ایک بجے کے قریب دروازے پر بیل ہوئی شائستہ نے دروازہ کھولا تو سامنے سر انور ہاتھ میں بڑا چھاپر تھامے موجود تھے۔ اندر آتے ہی شائستہ سے کہا ’’ اس میں کھانا ہے جلدی ڈال کر لاؤ بہت بھوک لگی ہے‘‘ وہ دونوں یوں باتیں کر رہے تھے جیسے وہ ایک دوسرے سے اس گھر میں روز ملتے ہوں،ان میں استاد اور شاگرد والی کوئی بات نظر نہیں آ رہی تھی جبکہ یہ حقیقت بھی تھی کہ وہ ہفتہ میں ایک دن ضرور ملتے تھے کیوں کی سر انور کی فیملی کاان کے گھر آنا جا نا تھااور خاص طور پر سر انور کی بڑی بیٹی جو دسویں کی طالبہ تھی شائستہ سے بڑا لگاؤ رکھتی تھی،شائستہ نے کہا رمشا آنے والی ہے مل کر کھاتے ہیں ،شائستہ اور سر انور کے درمیان تین سال سے دوستانہ تعلقات تھے مگراب شائستہ کسی اور سے دوستی کر چکی تھی اور اسی سے شادی کرنا چاہتی تھی مگر اس نے سر انور سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو ایک گفٹ دوں گی اور وہ گفٹ رمشا کی شکل میں دینا چاہتی تھی کیوں کہ شائستہ کئی بار سر کو دیکھ چکی تھی کہ وہ رمشا میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔دروازے پر بیل بجی تو شائستہ نے دروازہ کھولا رمشا اندر داخل ہوئی ،ڈرائنگ روم میں سر کو پہلے موجود پا کر تھوڑی پریشان ہوئی ان سلام کیا اور شائستہ اسے لے کر کچن میں چلی گئی۔شائستہ کے ذہن میں اب ایک ہی بات تھی کہ رمشا کو کس طرح تیار کروں کہ وہ سر سے دوستی کرنے پر راضی ہو جائے۔کھانااٹھا کر لے جاتے ہوئے اس نے رمشا سے کہا کہ ساری بات ہو گئی ہے بس اب تم نے فرینڈلی ماحول میں گپ شپ لگانی ہے۔کھانے کے بعد شائستہ نے برتن اٹھائے اور جاتے ہوئے کہا آپ دونوں گپ شپ لگائیں میں چائے بنا کر لاتی ہوں ۔بات چیت کرتے کرتے وہ دونوں اتنے قریب آگئے کہ سب فاصلے سمٹ گئے۔ تیس منٹ کی اس ملاقات میں سرانورکی خواہش تو پوری ہوگئی مگر رمشا ایک انجانے سے خوف کا شکار اور بہت گم سم تھی ۔کچھ دیر بعد شائستہ ہاتھ میں چائے کا ٹرے پکڑے داخل ہوئی عجیب سناٹا دیکھ کر وہ پریشان ہوئی جب اس نے رمشا کو چائے پیش کی تو اس نے افسردہ نگاہوں سے شائستہ کو دیکھا، منہ سے تو کچھ نہ بولی مگر اس کی آنکھوں میں بہت سے سوال چھپے تھے۔ سر انور موقع کی مناسبت سے فوری طور پررخصت لیکر چل دیئے۔وہ دونوں کافی دیر تک خاموش بیٹھی رہیں ۔باہر سے بیل کی آوازآئی۔ رمشا کو معلوم تھا کہ اس کے ابو اسے لینے آئے ہیں وہ اٹھی تو شائستہ نے اس کا ہاتھ تھاما شاید وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر رمشا نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بس اتنا کہا کہ آج معلوم ہو گیا کہ تم ہر بار کلاس میں ٹاپ کیسے کر لیتی تھیں ،تم نے تو میرا بھروسا توڑدیایہ کہہ کر وہ چلی گئی مگر شائستہ کا سر چکرانے لگا اور اسے یوں لگا جیسے کمرے کی چھت اس پر گر نے لگی ہو دوسری جانب سر انور جب گھر داخل ہوئے تو گھر میں کہرام برپا تھا پتہ چلا کہ ان کی بیٹی سکول سے واپس ہی نہیں آئی اور تھوڑی دیر پہلے کال آئی تھی کہ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ کہیں آ گئی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے،یہ سن کر سر انور کے سامنے رمشا کا آنسوؤں بھرا چہرہ گھومنے لگا اور پہلی بار احساس ہوا کہ یہ تو ایک قرض ہے جو سود کے ساتھ ادا کرنا پڑتا ہے۔

Imtiaz shad

لکھاری امتیاز شاد بذات خود بھی شعبہ تعلیم سے منسلک ہیں

اور ادبی ذوق کے پیش نظر افسانہ نگاری کرتےہیں 

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*