outline
aids

سرگودھا کا ایڈز سے متاثرہ گائوں جہاں ایک عطائی ڈاکٹر جو دراصل نائی تھا کیسے بیماری پھیلاتا رہا

سرگودھا(نمائندہ آئوٹ لائن) ضلع سرگودھا کے علاقے کوٹ عمرانہ میں ایڈز پھیلنے کے حوالے سے متاثرہ افراد کی میڈیکل رپورٹس محکمہ صحت کو موصول ہوگئیں، رپورٹس میں 35 افراد میں ایچ آئی وی کا وائرس پایا گیا۔

تین سے چار ہزار آبادی کے اس گاؤں میں حال ہی میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خطرناک حد تک زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔

مقامی افراد اور گاؤں کے چند معززین کی جانب سے حکومتِ پنجاب کی توجہ اس جانب مبذول کروائے جانے پر رواں ماہ اس گاؤں میں ایک تشخیصی کیمپ لگایا گیا۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اس کیمپ کے دوران پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام نے گاؤں کی تقریباً تمام آبادی کی سکریننگ کرتے ہوئے 2717 نمونے حاصل کیے جنھیں تشخیص کے لیے لاہور بھجوایا گیا۔

پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 2717 میں سے 35 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

جبکہ 96 افراد ہیپا ٹاؕئٹس سی کے مریض نکلے اور 182 افراد کے نمونے کلیئر قرار دیئے گئے۔

محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ باقی افراد کے نمونوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 35 افراد میں ایڈز کی تصدیق کے بعد سرگودھا کے محکمہ صحت کے حکام نے کوٹ مومن ہسپتال میں متاثرہ افراد کو ادویات کی فراہمی کے لئے کیمپ قائم کر دیا۔

محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ ایڈز کیسے پھیلی ، وجوہات کا جائزہ لے رہے ہیں ، اس حوالے سے کوٹ مومن ہسپتال کے ایم ایس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اعلٰی حکام کی جانب سے ہمیں موقف دینے سے منع کیا گیا۔

ایچ آئی وی اس گاؤں میں پھیلا کیسے؟

گاؤں میں ایڈز سے متاثرہ افراد میں شامل ایک میاں بیوی ڈسٹرکٹ ہسپتال کے یونٹ سے علاج کروا رہے تھے۔ حال ہی میں ان کی چار سالہ بیٹی میں بھی ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے۔ 50 سالہ متاثرہ شخص نے بتایا کہ انھیں نہیں معلوم تھا کہ ایڈز کیا ہے اور کیسے لگتی ہے۔؟

’تین ماہ قبل میں بالکل ٹھیک ٹھاک اور صحت مند تھا، اب میری حالت دیکھیں۔‘ ان کا جسم ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ان کی 30 سالہ اہلیہ کی حالت بھی زیادہ بہتر نہیں تھی۔ ابتدا میں وہ چند ڈاکٹروں کے پاس جاتے رہے جہاں کسی نے انھیں ٹی بی اور کسی نے ہیپاٹائٹس تشخیص کیا۔

’اب ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ہمیں ایک عطائی ایک ہی انجیکشن سے ٹیکے لگاتا رہا ہے جس سے ہمیں ایڈز ہو گئی ہے۔‘

ان کے گاؤں یا قریبی دیہات میں کوئی ڈسپنسری تک موجود نہیں۔ قریب ترین ایک بنیادی صحت کا مرکز بچہ کلاں میں واقع ہے جو اس گاؤں سے محض چند کلو میٹر پر واقع ہے۔ ایسے میں چھوٹی موٹی تکالیف کی صورت میں وہ کہاں جاتے تھے؟

سپیشل میڈیسن کلینک کے انچارج ڈاکٹر سکندر حیات نے بتایا کہ اس قدر زیادہ کیسز ایک ہی علاقے سے سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے اس کی وجہ جاننے کی لیے وہاں ایک سروے کیا۔

وہ اس گاؤں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ اللہ دتہ نامی ایک عطائی ڈاکٹر کو قرار دیتے ہیں۔

’پیشے کے لحاظ سے وہ ایک نائی تھا اور شاید مڈل پاس تھا۔ گذشتہ چند برسوں سے وہ اس گاؤں میں مقیم تھا اور ایک ہی سرنج سے لوگوں کو انجیکشن لگاتا رہا۔ تقریباٌ ڈیڑھ برس قبل اس کی موت ایڈز ہی سے ہوئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عطائی خود بھی سیکس کے حوالے سے کافی متحرک تھا۔

صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ عطائی یا نیم حکیم اس وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

’یہ عطائی صوبہ پنجاب کے بیشتر دیہات میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف ایک مکمل اور مضبوط مہم چلانے کی ضرورت ہے جس کا اب ہیلتھ کیئر کمیشن نے آغاز کر دیا ہے۔‘ انھوں نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ اس علاقے سے عطائیوں کا مکمل خاتمہ کیا جا چکا ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*