تازہ ترین
outline

ایران میں عدلیہ سابق صدر احمدی نژاد کے گرد گھیرا کیوں تنگ کر ہی ہے؟

ایران میں حکام نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کے نائب اسفند یار رحیم مشائی کو گرفتار کر لیا ہے۔

دو روز قبل سابق صدر احمدی نژاد کے سابق معاون برائے ایگزیکٹو افیئرز حمید بقائی کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

مشائی کی گرفتاری کا انکشاف ہفتے کے روز تہران میں استغاثہ کے جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر کی ویب سائٹ نے کیا۔ تاہم ویب سائٹ نے مشائی پر عائد الزامات کا ذکر نہیں کیا۔

دوسری جانب سابق صدر محمود احمدی نژاد نےایک  ویب سائٹ “دولت بہار” پر جاری بیان میں عدلیہ کو مشائی کی سلامتی کا ذمّے دار ٹھہراتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

نژاد کے مطابق ان کے نائب کی گرفتار “آئینی خلاف ورزی” ہے۔

سابق صدر نے ایک بار پھر عدلیہ پر بدعنوانی، قانون کی خلاف ورزی اور ناقدین کی آواز کچلنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی جانب سے اپنائے جانے والے یہ حربے اس امر کا ثبوت ہیں کہ عدلیہ کو بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

جمعرات کے روز احمدی نژاد نے اپنے معاون حمید بقائی کو مالی اور انتظامی بدعنوانی کے الزام میں جیل میں ڈالے جانے کے بعد ایرانی عدلیہ کے نظام کو “کرپشن کی جڑ” قرار دیا تھا۔

حمید بقائی کو 15 سال کی جیل گزارنے کے لیے حراست میں لیے جانے سے ایرانی نظام کے بارے میں مخلتف حلقوں میں تنازع کھڑا ہو گیا ہے بالخصوص جب کہ بقائی کو جیل بھیجے جانے کی بنیادی وجہ سامنے آ چکی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ بقائی کو ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ اختلافات کے باعث جیل بھیجا گیا ہے۔

یہ اختلافات اُن کروڑوں یورو کے لا پتہ ہونے کے حوالے سے تھے جو افریقی ممالک میں فیلق القدس کی مداخلت کے لیے مختص کیے گئے تھے۔

بقائی نے اپنے جیل جانے سے قبل ایک کھلا خط شائع کیا تھا جو فیلق القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے نام تھا۔

خط میں بقائی نے قاسم سلیمانی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ حسین طائب کی جانب سے بقائی کے خلاف دائر مقدمے اور رقم چوری کرنے کے الزام کے معاملے میں مداخلت کریں۔

حسین طائب نے بقائی کو 35 لاکھ یورو کے علاوہ 7.5 لاکھ ڈالر کی چوری کا ذمے دار ٹھہرایا تھا جو افریقی ممالک کی قیادت کو تحفے دینے کے لیے مختص کی گئی تھی تا کہ براعظم افریقہ میں ایرانی پاسداران انقلاب کے رسوخ کو وسیع کیا جا سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق احمدی نژاد ، ان کے سابق معاون بقائی ، نژاد کے سابق نائب اسنفندیار رحیم مشائی اور ان کے میڈیا ایڈوائزر علی اکبر جوان فکر نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ صادق املی لاریجانی کے خلاف دستاویزات اور وڈیو کلپس جاری کیے تھے۔

ان لوگوں نے لاریجانی اور ایرانی نظام میں مختلف منصبوں کے حامل ان کے بھائیوں پر چوری ، بدعنوانی اور سرکاری مال کی لوٹ مار کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی عدلیہ کے نظام کو “ظالم” اور “منحرف” قرار دیا تھا۔

احمدی نژاد کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایرانی عدلیہ اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کی طرح احمدی نژاد پر بھی پابندی عائد کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔

دوسری صورت میں احمدی نژاد کو سبز تحریک کے دونوں رہ نماؤں کی طرح نظربند بھی کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس واسطے نژاد پر پاگل پن کا الزام لگایا جا سکتا ہے یا پھر بدعنوانی کے الزام میں جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*